طلبہ علوم دینیہ کی خدمت میں۔۔صاحبزادہ امانت رسول

درسِ نظامی میں شامل کتب کے مصنفین میں سے کئی علما کرام نے اپنی کتاب کے ابتدائی خطبہ میں تین قسم کے لو گو ں کا ذکر کیا ہے۔ایک طبقہ مسلمانوں کا، دو سرا طبقہ علما کرام کا، تیسرا طبقہ مستنبطین یعنی مجتہدین کا ہے۔ اِن تینوں طبقوں میں سے بہتر ین طبقہ تیسرا طبقہ ہے ،پھر دوسرا اور اس کے بعد پہلا ۔جامعات و مدارس کے طلبا کرام خوش نصیب ہیں کہ وہ اپنے جذبہ دینی اور تمسک بالقرآن والحدیث کے باعث خود کو پہلے طبقے سے ممتاز کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد، تفقہ فی الدین کے اس سفر میں وہ تیسرے طبقے میں بھی شامل ہو کے ممتاز ترین حیثیت تک پہنچ سکتے ہیں ۔دوسرا طبقہ علماء کا ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے انبیا کا وارث فر ما یا ہے ۔میری دانست میں انبیا کرام کی وراثت دعوت و تبلیغِ دین ہے ۔دعوت امر با لمعروف و نہی عن المنکر اور اصلاحِ معاشرہ کا نام ہے ۔نام کو ئی بھی دے دیا جا ئے لیکن مقصد و مفہوم یہی ہے کہ جس طرح انبیا علیہم السلام معاشر ے سے غیر متعلق نہیں تھے ،اسی طرح علما ء کرام بھی معاشرے سے غیر متعلق نہیں ہو سکتے۔معاشرت ،سیاست ،معیشت حکومت اور اجتماعیت میں اصلاح کا عمل علماء کرام کے ذریعے جاری رہنا چا ہیے اور یہ ان کا دینی فریضہ بھی ہے ۔
دورِ حاضر میں شعبہ ہائے زندگی میں رو نما ہو نے والی تبدیلیوں اور انقلابا ت نے انسان کی فکر اور طرزِ حیات پہ گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔یہ تبدیلیاں مثبت بھی ہیں اور منفی بھی۔اِن انقلابات کا تعلق چونکہ مغرب سے ہے لہذا یہ تبدیلیاں ہمارےلیے چیلنجز کی بھی حیثیت رکھتی ہیں ۔ان چیلنجز سے نبر د آزما ہو نے کے لئے مغرب کے فلسفہ ،فکر اور سائنس سے متعلق نظر یا ت کا اس حد تک ضرور جائزہ لینا ،سمجھنا اور پڑھنا ضروری ہے جہاں سے وہ مذہب،ما بعد الطبعیات اور الوہی حقیقتوں کو اپنا مو ضو ع بنا تے اور پھر اسے رد کرتے ہیں ۔اس لیے کہ علماء کرام کی ذمہ داریوں سے ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ علمی اور فکری محاذ پہ وہ نو جوان نسل کی راہنمائی کریں اور اسے الحاد و کفر کی آندھیوں سے محفوظ کریں۔
جامعات و مدارس میں نصاب تعلیم قرآن و حدیث کے فہم اور تفقہ کے حصول کے لیے تشکیل و تر تیب دیا گیا تھا ۔اس لیے اس کا ایک مقصد ہر مسئلہ و معاملہ کا علمی بنیادوں پہ جائزہ اور رائے قائم کرنا بھی ہے۔ عوام اور حصولِ علم کے لیے زندگی وقف کر نے والوں میں جو بنیادی فرق سامنے آ تا ہے ۔وہ یہی یے کہ عوام اکثر طور پر، جذباتیت اور وابستگی کی بنیاد پہ ایک رائے قائم کر تی ہے اور طلبا ء و علماء مطالعہ ،تجزیہ اور غور وفکر کے بعد اپنی رائے قائم کر تے ہیں ۔اس کے لیے ان کے پاس ایک مضبوط بنیاد دین کی صورت میں مو جود ہے اور دین کے ساتھ ان کا وہ مزاج اور ذوق تیار ہو تا ہے جو سالوں کی تربیت کے بعد پروان چڑھتا ہے ۔اس لیے مسئلہ کوئی بھی ہو خواہ سیاسی ہو یا مذہبی ہمیشہ وہ اپنی رائے دلائل کے ساتھ پیش کر تے ہیں۔
پاکستان کے موجودہ حالات،جامعات و مدارس کے طلباکرام کے لیے جہاں آزمائشیں ہیں، وہاں اِن حالات میں اِن پریہ ذمہ داری بھی عائد ہو جا تی ہے ۔آزمائش یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سر گرمیوں اور رکاوٹوں سے جدا ہو کر اپنی تعلیم پہ توجہ دےپاتے ہیں یا نہیں۔وہ جس مقصد کی خاطر اپنے گھر اور وطن کو چھوڑ کر آ ئے ہیں، اس مقصد کو حاصل کریں اور مستقبل میں دعوتِ دین میں اپنا حصہ شامل کر سکیں۔ ذمہ داری یہ ہے کہ موجودہ حا لا ت میں انہوں نے اپنی تربیت اس نہج پہ کرنی ہے کہ وہ کسی کے سیاسی عزائم کے آ لہ کار بن کر اپنے آپ کو جذباتی ردِ عمل میں ضائع نہ کر بیٹھیں اور مشکل سے مشکل حالات میں دانش و دیانت سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے ایک مثال بھی بننا ہے ۔

دنیا بہت وسیع ہے اور اس دنیا میں دعوتِ دین کے مواقع اور امکانات بھی بہت ہیں ۔ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ دعوتِ دین کے وسیع مواقع کو رد کر کے ،ہیجان انگیزی،رد عمل اور تصادم کی راہ پہ چل کر خود کو ضائع کر تے ہیں یا اپنے آپ کو انسانیت کے لیے منفعت بخش بنا کر دین کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں ۔ دنیا آپ کی منتظر ہے۔آپ دونوں صورتوں میں رب ذو الجلال کی بار گاہ میں جواب دہ ہیں۔ پہلی صورت میں شرمندگی اور خجالت ہے دوسری صورت میں سر خروئی ہے ۔فیصلہ آ پ نے کرنا ہے۔

صاحبزادہ امانت رسول
صاحبزادہ امانت رسول
مصنف،کالم نگار، مدیراعلیٰ ماہنامہ روحِ بلند ، سربراہ ادارہ فکرِ جدید

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *