قصہ کراچی یونیورسٹی کے بلوچ آسمانی مفکروں کا۔۔۔۔آزر مراد

پسماندہ علاقوں میں رہنے کے یوں تو کافی نقصانات ہیں لیکن ان میں سے سب سے بڑے نقصان کا اندازہ تب ہوتا ہے جب اس علاقے کا کوئی نوجوان اور گرم خونی لڑکے کا کسی شہر میں جانے کا اتفاق ہو. جیسے کہ میرا ہوا.

اپنے گاؤں سے میٹرک کرنے کے بعد جب مجھے میرے گاؤں کے سینئر سیاسی لفنگوں نے آگے پڑھنے کے لیے اکسایا تو میں نے گھر میں صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارے خاندان کا یہ چشم و چراغ (یعنی کہ میں) آگے پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے. کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا اور مجھے خوشی خوشی کراچی بھیج دیا گیا کہ شاید چند کاغذ ملنے کے بعد مجھے کسی سرکاری دفتر کا کوئی بوسیدہ سا کمرہ مل جائے گا اور ماہانہ چند ہزار روپے کما لوں گا. یوں ایف اے کا روحانی داخلہ تربت میں لے کر میں کراچی چلا آیا.

ایک آدھ سال انگریزی کے ایک گمنام سنٹر میں ٹینسز پڑھنے کے بعد جب عطا شاد ڈگری کالج سے انٹرمیڈیٹ نہایت ہی کم پرسنٹیج کے ساتھ جیسے تیسے پاس کر لیا تو کراچی کی سب سے بڑی یونیورسٹی ( کراچی یونیورسٹی) میں داخلے کے لیے اپنے فارمز جمع کرا دیے. سنا تھا کہ یونیورسٹی میں داخلہ ملتے ہی لوگ مفکر بن جاتے ہیں اور ان پر آسمان سے تعلیمی آیاتیں نازل ہوتی ہیں.

خدا کے فضل و کرم سے مجھے بھی داخلہ مل گیا اور جب میں پہلے دن ہاتھوں میں کالج کے کاغذات اور جیب میں یونیورسٹی کی فیس لیے کراچی یونیورسٹی کے دروازے سے داخل ہوا تو چند آسمانی مفکروں سے ملاقات ہوگئی. (وہ مفکر جنھیں اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ Name کی جگہ کیا لکھنا ہے اور Father’s Name کی جگہ کیا). فیس جمع کر دی گئی اور خدا کے فضل و کرم سے دو بس بدلنے کی انتہائی سخت محنت کے بعد میں کراچی یونیورسٹی کا طالب علم بن گیا.

پہلی کلاس لینے کے بعد جب بلوچوں کی مشہور و معروف جگہ P G میں قدم رکھے تو وہاں کا ماحول ہی الگ تھا. لمبی لمبی شلواریں، نوکیلی مونچھیں، نہایت ہی نفاست سے تراشی گئی داڑھیاں اور روایاتی جوتوں نے بلوچیت کی یاد تازہ کر دی. میں اور میرے جیسے چند شرمیلے سے نیوکمرز ہر خاص و عام لمبی شلوار والے کو سلام کرتے ہوئے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئے اور آسمانی مفکروں کی طرف رشک سے دیکھتے ہوئے سوچنے لگے کہ کب وہ وقت آئے گا جب ہم بھی مفکر کہلائیں گئے.

لمبی لمبی شلواروں اور نوکیلی مونچھوں کا چسکا لگنے کے بعد ہماری چھوٹی سوچ پر لڑکیوں کے ساتھ ہونے کا پردہ کھلا تو یہ محسوس ہوا کے ہم تو زندہ ہونے کے باوجود ابھی تک زندگی سے محروم ہیں. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری ملاقاتیں آسمانی مفکروں کے ساتھ طوالت پکڑتی گئیں اور ہمیں ان کے نادر فلسفیانہ خیالات نے اپنے حصار میں لے لیا. سوشلزم، فیمنزم، نیشنلزم اور پتہ نہیں کون کون سے ازموں سے ہمارا تعارف ہوا جو کہ اگر ہم پہلے سن بھی چکے تھے تو ان کا الف اور ب بھی نہیں پتہ تھا.

آسمانی مفکروں کی الہامی مارکسی تقریریں اور ان کی الہامی سیکولر سوچ نے ہمیں اتنا متاثر کیا کہ ہم نے بھی اردو بازار سے 40% رعایت پر چند کتابیں خرید لیں اور ان میں غرق ہو گئے. اب نہ اس بوسیدہ کمرے کا خیال تھا اور نہ ہی ماہانہ ملنے والی رقم کا. کچھ تھا تو بس یہ کہ بلوچیت پھیلانا ہے اور مارکسزم لانا ہے. کتابوں نے ہمیں اس کام میں بھرپور مدد کی.

پہلے ہماری شلواریں لمبی ہوئیں، پھر مونچھیں نوکیلی ہوئیں اور اس کے بعد سادہ چپلوں کی جگہ بلوچی جوتے چَوَٹ پاؤں میں آ گئے. اور پھر ہم تھے، آسمانی خیالات تھے اور لڑکیوں کا تصور تھا. اور پھر آہستہ آہستہ چارلس ڈارون کی ارتقائی تھیوری جیسے مائیکرو اسکاپ سے دیکھے جانے والی چند مثبت کاروائیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ طے کیا کہ اس تعلیمی مندر میں یہ بلوچ آسمانی مفکر ہر طرح سے بلوچ قوم پرستی اور مارکسزم کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی ان بیش بہا قربانیوں میں ہمیں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے.

ابھی ہماری سوچ یہیں تک پہنچ پائی تھی کی یہ فضا گرگٹ کی طرح اپنا رنگ بدلنے لگی اور جو اصلیت تھی، وہ سامنے آنا شروع ہو گئی. لمبی شلواروں کے پیچھے کے راز ظاہر ہونے لگے اور مارکسزم کے مارے ہوئے یہ آسمانی مفکر بونوں کی طرح اپنا قد دکھانے لگے. اقتدار کی جنگیں پنپنے لگیں، دوست دشمن بن بیٹھے، بلوچوں نے ہی بلوچوں کی تنظیموں پر تنقید کا بازار گرم کر دیا. نکمے، نکموں پر تنقید کے نوکیلے نشتر اچھالنے لگے، کوئی ناچ گانے پر تنقید کرنے لگا اور کوئی طالب علموں کو سیاست میں گھسیٹنے پر آواز اٹھانے لگا. کسی نے کہا کہ ہمیں استعمال کیا جا رہا ہے تو کوئی بولا کہ ہماری سوال کرنے کی آزادی چھین لی گئی ہے. کوئی کہہ رہا تھا کہ علمی کارنامے کمزور ہوتے جا رہے ہیں تو کوئی اس پر ناراض تھا کہ گروپ بندیاں کیوں ہو رہی ہیں. کوئی نیشنلزم کا چاہنے والا تھا تو کوئی مارکسزم کا پیروکار. کسی کو سلیکشن سے اختلاف تھا تو کوئی الیکشن سے ناراض.

جگہ جگہ دوستوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ بنتے جا رہے تھے اور لڑنے والے آسمانی مفکروں کا نعرہ تھا کہ بلوچوں کو متحد کرو. نہ نیشنلزم والوں کو قوم کی پڑی تھی اور نہ مارکسزم والوں کو. یکجہتی کی تعلیم تو خیر ان اقتداری جنگوں میں بھول بھلیوں میں گم ہوتی چلی گئی. نیشنلزم والے قوم پرست اپنی قومی شناخت نوکیلی مونچھوں اور لمبی شلواروں کے ساتھ الگ جا بیٹھے اور مارکسزم والے اپنی خستہ حال تھیوریوں کی بوری اٹھائے کہیں اور ڈیرہ جمانے لگے.

پھر انقلابی تبدیلیاں نازل ہونی شروع ہو گئیں. یونیورسٹی میں بلوچوں کی سیٹیں کم کر دی گئیں اور جو وہاں پہلے سے پڑھ رہے تھے، ان کے ہر اقدام پر دوربینیں لگا دی گئیں. تعلیمی سرگرمیاں اوپر اٹھنے کے بجائے نیچے آنے لگیں. بلوچ لڑکیاں جو پہلے صرف بند کلاسوں میں ڈسکس ہوتی تھیں اب سرعام ڈسکس ہونے لگیں. آسمانی مفکروں کے سارے موبائلی راز سامنے آنے شروع ہوگئے. یونیورسٹی میں جو چند سیکولر بلوچ لڑکیاں (جنھیں سیکولرازم کے صرف لفظی معنی آتے ہیں) سیکولرازم کی آڑ میں پہلے بلوچی روایات کو پامال کرنے لگیں اور جب سیکولرازم کے ساتھ فیمنزم اور مارکسزم بھی جمع ہوگئے تو ان کی برابری نے بلوچی گُشان کو منفی کر دیا.

جو سیاست سے ناراض مفکر تھے، وہ اپنے نئے منتخب کیے ہوئے حلقے میں سیاست کرنے لگے اور وہی ناچ گانا اور بلوچ کلچر ڈے پر طالب علموں کی بہتری کے لیے ان سے لیا گیا پیسہ خرچ ہونے لگا. جو سیاست سے جُڑے ہوئے آسمانی حضرات تھے، وہ غیرسیاسی رویوں میں ملوث ہونے لگے. پھر علمی کام (جو صرف ہفتہ وار لیکچرز پروگرام ہیں)، کی دوڑ شروع ہوئی جو علمی کم اور پاک بھارتی جنگ زیادہ لگتی ہے.

بالآخر ہم جیسے پسماندہ علاقوں سے آئے ہوئے لوگ جہنوں نے کچھ نہیں دیکھا تھا، اس بھنور میں ایسے پھنسے کہ دوستیاں توڑ کر الگ الگ بیٹھنے لگے اور جو آسمانی مفکر تھے وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ کسی کو یہ بھی جاننے کی فرصت نہیں ملی کہ بلوچوں کے سمسٹرز رزلٹ کیسے آ رہے ہیں.

ہم جو نہ تو آسمانی بن پائے اور نہ زمینی رہ سکے، اپنے سینئرز کے کارنامے چھپائے کبھی سادہ تو کبھی چکن بریانی کی قیمتوں میں الجھ کر رہ گئے.

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *