مکالمہ ایک شہر۔۔۔ ولائیت حسین اعوان/مکالمہ سالگرہ

انسان کی فطرت میں ہے اور یہ اسکی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اپنے محسوسات اپنے جذبات اپنے نظریات اپنا موقف دوسروں تک پہنچائے۔اسے کوئی سننے والا ،اسے کوئی پڑھنے والا موجود ہو جو اسکے موقف کو اطمینان اور سنجیدگی سے سنے۔ظاہر ہے اپنا موقف بیان کرنے اور اس موقف کو لوگوں کے سامنے جامع طریقے سے پیش کرنے کے لیئے اسے کوئی  ذریعہ چاہیے ہوتا ہے۔پرانے وقتوں میں لوگ خطوط کے  ذریعے اور باہمی میل جول سے اپنی یہ خواہش پوری کرتے تھے۔زمانے کی رفتار کے ساتھ لوگوں کی چال بھی بدلی۔پہلے ٹیلیفون اور بعد میں انٹرنیٹ آیا اور لوگ باہمی کالز کانفرنس کالز میسجز ،گروپس میسجز کی صورت میں مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔جس طرع میری خواہش ہو گی کہ مجھے کوئی سننے والا ہو اسی طرع دوسری طرف بھی ایسے ہی جذبات ہوں گے۔

اپنی بات کہہ کر اور دوسرے کی سن کر ان باتوں پر اتفاق کرتے ہوئے یا ان سے دلیل کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے بحث و مباحثہ کو حصول علم و معلومات کے لیئے بڑھانے کا نام “مکالمہ” ہے۔۔

انٹرنیٹ کے تیز ترین دور میں مختلف ویب بلاگز کے  ذریعے آپ نہ صرف اپنے پہلے سے جاننے والے لوگوں تک اپنے محسوسات و مشاہدات پہنچاتے ہیں بلکہ ایک گلوبل ویلج کی سہولت اٹھاتے انجان لوگوں تک بھی اپنا موقف پہنچاتے ہیں اور اس طرع اپنا حلقہ احباب مزید وسیع کرتے ہیں۔۔

“مکالمہ” کا پلیٹ فارم بھی ایک ایسا “شہر” ہے جہاں ہر خیال نظریہ کے لوگ بس رہے ہیں اور آپس میں بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔چونکہ مکالمہ کی عمر ابھی 2 سال ہوئی ہے اس لئے یہاں نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کرنے،تنقید سے اصلاح حاصل کرنے اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کر کے “مکالمہ” کرنے اور اس مکالمہ سے وہ حقیقی فائدہ حاصل کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا جس کا خواب مکالمہ کو شروع کرنے والے انعام رانا صاحب نے دیکھا۔۔

عمر کے حساب سے “مکالمہ” بہت کامیاب ہے۔اور تھوڑے وقت میں بہت زیادہ کامیابیاں اسکے حصہ میں آئیں۔مکالمہ کے پلیٹ فارم سے پہلے سے معروف اور سینئیر کالم نویس لوگوں سے وہ لوگ بھی متعارف ہوئے جو پہلے ان سے ناواقف تھے۔یوں ایسے لوگوں کا حلقہ احباب بھی مکالمہ نے وسیع کیا۔اسکے ساتھ مکالمہ نے میرے جیسے ان لوگوں کو بھی موقع فراہم کیا ،حوصلہ افزائی کی اور عزت بخشی جو اپنا موقف اپنے خیالات و نظریات فقط اپنے دوستوں کی محفل میں ہی بیان  کر پاتے تھے۔اور انھیں اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے اور دوسروں کے خیالات سے مستفید ہونے کا ایک بہترین موقع دیا۔مکالمہ نے لوگوں کو فیس بک کی مخصوص اور بھیڑ چال پوسٹس کی بے مقصد مصروفیت سے ہٹا کر ایک بامقصد مصروفیت دے دی۔

اسکی ادارتی ٹیم انتہائی مخلص اور ذمہ دار ہے۔ اسما مغل جو  ایک عام شوقیہ اور گمنام لکھنے والوں کو بھی جتنی اہمیت دیتی ہیں اسکا اندازہ پچھلے دنوں ہوا۔جب انھوں نے میسج کر کے یاد دلایا کہ کافی دنوں سے میں نے کوئی تحریر نہیں بھیجی۔اور ساتھ ادب و احترام سے جلد تحریر بھیجنے کا کہا تو حیرانی کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ “مکالمہ” کے لیئے ہر شخص کتنا اہم اور ضروری ہے۔۔

پڑھنے والوں سے ایک شکوہ ہے کہ بہت کم دیکھا ہے کہ کوئی مضمون جب مکالمہ کے فیس بک پیج پر شئیر ہوتا ہے تو لوگ اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوں۔دو تین سطروں میں لکھنے والے پر مثبت تنقید یا تھوڑی تعریف یا اس تحریر کی خامیوں کو دور کر کے اسے بہتر بنانے کی تجاویز اگر ہر تحریر شئیر کرنے والے لنک کے نیچے کمنٹس میں دے دی جائیں تو لکھنے والے کو تسلی ہو جاتی ہے کہ کسی نے لنک کھول کر غور سے تحریر پڑھی تو ہے۔البتہ انعام رانا صاحب کے فیس بک اکاونٹ پر شئیر کئے لنک پر کمنٹس کچھ زیادہ ہوتے ہیں۔حالانکہ مکالمہ سے جڑے قاری کو اس کے پیج پر شئیر کی گئی  تحریر یا مکالمہ ویب سائیٹ پر لگائی تحریر پر اپنے خیالات کا اظہار کر کے اپنی موجودگی اور اپنی دلچسپی کا اظہار کرنا چاہیے۔مذہبی سیاسی موضوعات پر لکھی تحاریر پر لوگوں کی دلچسپی کچھ زیادہ ہوتی ہے جبکہ دوسرے موضوعات پر کم ۔۔بعض دفعہ لوگوں کے کمنٹس پڑھ کر لگتا ہے کہ کافی لوگوں نے مکمل تحریر پڑھنے کے بجائے چند ابتدائی سطریں پڑھ کر اور دوسروں کے کمنٹس پڑھ کر ہی بحث برائے بحث اور تنقید برائے تنقید کے مقصد کے لیئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے جا رہے ہیں۔اختلاف دلیل،شائستگی اور مکمل معلومات کی روشنی میں ہونا چاہیے اور کسی کی دل شکنی ہتک اور بے ادبی سے گریز کرنا چاہیے ۔جتنا اچھے طریقے سے آپ اختلاف کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کریں گے اتنی جلدی دوسرے فریق کو اس کی سمجھ آئے گی۔اور اتنا ہی اچھا دوسرے کے سامنے اپنی شخصیت کا پہلو آئے گا۔

مکالمہ کی دوسری سالگرہ پر رب کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک مستقبل میں بھی مکالمہ کو بہت کامیابیاں عطا فرمائے اور اسکے پڑھنے لکھنے والوں کو آپس میں محبت احترام خلوص اور اتفاق کی دولت عطا فرمائے۔۔آمین

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *