سیاسی جماعت اور کارکن ۔ ۔ نادر زادہ

سیاست کو انگریزی قلمی زبان میں پولیٹکس کہتے ہیں ، جو در اصل یونان کی قدیمی زبان سے لیاگیا ہںے اور دنیا کے عظیم انسانوں کے  اجتماعی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے اجتماعی مفادات اور اس کے حل کے لیے فارمولے بنادیئے گئے جسے سیاسی زبان میں نظریہ کہتے ہیں ، کسی سیاسی جماعت کا  دارومدار نظریے پر انحصار کرتا ہے اور کارکن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے  ہیں ۔ سیاسی تجربہ کار اور اُستاد اسی نظریے کو کارکنان تک پہنچانے والے عمل کو اہم ترین اور مشکل ترین عمل قرار دیتے ہیں۔

ثابت شدہ بات ہے کہ جس جماعت کا نظریہ عوامی اور سیاسی کارکن نظریاتی ہو وہی جماعت عوام کے دلوں پر راج کرے گی ۔بھٹو ‘ باچاخان اور دیگر ہر ایک سیاسی نظریات کا نام ہیں اُن کے پختہ نظریے کی خاطر ان کے سیاسی کارکنان اب بھی میدان عمل میں کردار ادا کررہے  ہیں ۔

مگر بد قسمتی سے اکثر سرمایہ کار سیاسی قیادت  کو   سیاسی رسی کشی اور شخصی مفادات اتنے عزیز ہوگئے ہیں کہ یہ نظریے کو شخصی مفادات کے لیے قربان کررہے ہیں، نظریہ اور منشور پمفلٹ اور نعروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں ،نظریے کے بدلے مال اور سیاسی پختہ عزم نظریاتی کارکن پر موسمی شخصیات حاوی ہوگئے ہیں۔ مختلف الخیال جماعتوں سے ہٹنے والی  شخصیات کسی دوسری  جماعت میں سیاسی موسم کے مطابق   شامل ہونے کے لیے سودے بازی شرائط اور حتیٰ کہ   ایک مقررہ وقت تک کا  تعین کرتے ہیں ، اور آتے ہی اعلٰی ترین ایوانوں میں پارٹی کی نمائندگی کے لیے نامزد ہوکر عوامی اور نظریاتی کارکنان کی  قیادت بن جاتے ہیں۔

سالوں سے جلسوں میں قالین بچھانے والے ،جھنڈے لگانے والے ،گلی گلی میں نعرے لگانے والے کارکن اپنے نظریے پر زندگیا ں داؤ پر لگا رہے ہیں اور یہی عمل دوسرے انتخابات میں پھر دہرائے جاتے ہیں ۔ جس کے باعث مخلص کارکنان  مایوس ہوکر سیاست سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں لیکن یہ نظریے کے سودے  باز نہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *