بالی ووڈ اداکار نریندرا جھا کی زندگی پر ایک نظر۔۔صفی سرحدی

 نریندرا جھا جیسے خوبرو اداکار کی ناگہانی موت کی خبر اسٹیفن ہاکنگ کے انتقال کی خبر اور عامر خان کی سالگرہ کی خبر کے نیچھے دب کر رہ گئی۔ لیکن میں نریندرا جھا جیسے خوبرو اداکار  کو  خراج پیش کیے بغیر الوداع نہیں کہہ سکتا۔ کل بالی ووڈ کے معروف اداکار نریندرا جھا دل کا دورہ پڑنے کے باعث 55 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ نریندرا جھا کا جنم 2 ستمبر 1962 کو بہار کے ایک چھوٹے گاؤں مدھوبنی کوئلیک میں ہوا تھا۔ ان کے والد سرکاری ہائیر سیکنڈری سکول کے پرنسپل تھے۔ ان کے گاؤں کوئلیک میں 1923 سے باقاعدہ ہر سال تھیٹر ہوتا چلا آرہا ہے جس میں نریندرا جھا بچپن میں اداکاری کیا کرتے تھے۔ اور خود ان کے والد اور ان سے تین بڑے بھائی بھی وہاں چھوٹے موٹے رول کرلیا کرتے تھے۔

نریندرا جھا کو شروع میں آئی اے ایس  آفیسر بننے کا خواب تھا۔ میٹرک انہوں نے اپنے والد کے سکول سے کیا، انٹرمیڈیٹ دربھنگہ سے، گریجویشن پٹنہ سے، اور پوسٹ گریجویشن جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی سے کیا۔آئی اے ایس سرکاری آفیسر بننے کیلئے انہوں نے ایک سال خوب تیاری کی لیکن بدقسمتی سے وہ ناکام ہوگئے۔ اور اسی ناکامی نے اسے مستقبل میں کامیابی سے ہمکنار کرنا تھا۔ پہلی ناکامی پر دلبرداشتہ نریندرا جھا نے دوسری بار تیاری کرنے کے بجائے اداکاری کرنے کے بارے میں سوچا۔ اور جب انہوں نے اپنے والد سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے بجائے ناراض ہونے کے نریندرا جھا کو بخوشی اجازت دے دی لیکن والد نے انہیں کہا کہ پہلے تم اداکاری  کی تربیت لینے کیلئے کسی ایکٹنگ انسٹیٹیوٹ سے ڈپلومہ کرلو کیونکہ ممبئی جاکر تم سے تمہاری قابلیت کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔

نریندرا جھا نے دہلی کے شری رام انسٹیٹیوٹ آف  آرٹ اینڈ کلچرل میں داخلہ لیا اور وہاں سے ایکٹنگ کا ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 1993 میں ممبئی کا رخ کیا۔ اس زمانے میں ٹی وی سیریلز کی بڑی دھوم ہوتی تھی  لوگ زیادہ ٹی وی دیکھتے تھے اس لیے نریندرا جھا نے بھی ڈراموں میں کام کرنے کا من بنا کر ممبئی کا رخ کیا تھا۔ لیکن وہ ممبئی میں کسی کو جانتے نہیں تھے۔ لیکن چونکہ نریندرا جھا خوبرو جوان تھا اچھی شکل، لمبا قد، خوبصورت جسم، سیاہ بال، براؤن  آنکھیں اور بھاری پرکشش آواز، جس کی وجہ سے انہیں ایک ماڈل کے طور پر ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی مانگ تیزی سے بڑھنے لگی۔ اور اسے طرح طرح کے اشتہارات میں کام کرنے کا موقع ملنے لگا۔ اور جلد ہی وہ ایڈ انڈسٹری پر چھا گئے۔ انہوں نے اس وقت کے معروف ایڈ فلم ڈائریکٹرز کرن دیوان، راجیو ملن، مکل  آنند، اور بہلاج ککڑ کے ساتھ کام کیا۔ اس دور میں نریندرا جھا کے ساتھ ساتھ دیگر معروف ماڈلز جن میں  ملن سمن، ارجن رامپال، اور ڈینو موریا بھی سرگرم تھے۔

1996 تک نریندرا جھا نے 150 ایڈ پراجیکٹ کیے۔ ایڈ انڈسٹری میں شہرت پانے کے بعد انہیں سیریلز میں کام کرنے کی آفر ہوئی تو انہوں نے لپک کر اپنی منزل کی جانب بڑھنا شروع کیا۔ 1994 میں انہوں نے پہلی سیریل شانتی میں کام کیا جس کے بعد سے وہ ٹیلی وژن انڈسٹری پر چھا گئے۔ اور ہر سیریل میں لیڈنگ رول میں آنے لگے۔ نریندرا جھا نے 70 سے زیادہ ٹی وی سیلریز میں کام کیا جن میں شانتی، ہوا نایاب، اب کوئی غم نہیں، ساس بھی کبھی بہو تھی، راون، کپٹن ہاوس، تھیف آف بغداد، سی آئی ڈی آفیسر، وغیرہ مشہور ہیں۔ ٹی وی کی دنیا کے بعد انہوں نے بالی ووڈ کا رخ کیا اور دو درجن فلموں میں کام کیا۔ نریندرا جھا نے بالی ووڈ میں پہلی فلم فنٹوش 2002 میں کام کیا۔ اس کے بعد انہیں مشہور فلم ساز شیام بینگل کے ساتھ سبھاش چندر بوس پر بنی فلم نیتا جی 2005 میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم میں انہوں نے حبیب الرحمان کا کردار ادا کیا تھا شیام بینگل حبیب الرحمان کے کردار میں ان سے اتنے متاثر ہوئے کہ وہ  آج تک انہیں حبیب الرحمان کے نام سے ہی بلاتے تھے۔

2014 میں شیام بینگل نے انہیں ایک بار پھر تاریخی کردار میں لینے کی ٹھان لی۔ انہوں نے راجیا سبھا ٹی وی کے پلے سمویدان میں انہیں بانی پاکستان محمد علی جناح کے کردار میں لیا جسے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے ادا کیا۔ نریندرا جھا بالی ووڈ میں اپنا مقام بنانے کیلئے سرگرم نہیں رہے اس لیے انہوں نے زیادہ عرصہ فلمی دنیا سے دور گزار دی۔ لیکن 2014 میں انہیں وشال بھردواج نے فلم حیدر میں ڈاکٹر ہلال میر کے کردار میں کاسٹ کیا جس کے بعد سے انہیں بالی ووڈ میں ہر کسی نے سنجیدگی سے نوٹ کیا۔ حیدر فلم میں ڈاکٹر ہلال میر کا کردار راجندرا جھا کو امر کرنے کیلئے کافی رہے گا۔ فلم حیدر میں اس کردار کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حیدر فلم کشیمر میں جاری بھارتی فورسز کے ظلم سے متاثر ایک مسلمان ڈاکٹر کی تلخ کہانی پر بنی فلم ہے۔ نریندرا جھا نے اس فلم میں شاہد کپور کے والد، تبو کے شوہر اور کے کے مینن کے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔

فلم حیدر کی کہانی بڑی درد ناک ہے ایک دن بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک زخمی مجاہد ہلال میر کے گھر پر لایا جاتا ہے جس کا  آپریشن کرکے ہلال میر اس سے گولی نکال دیتا ہے۔ لیکن اس کی بیوی کا افیئر اپنے دیور سے چل رہا ہوتا ہے اور اس کا دیور بھارتی فورسز کا جاسوس ہوتا ہے اس کی بیوی دیور کے کے مینن کو زخمی مجاہد کے بارے میں بتاتی ہے۔ اور پھر بھارتی فورسز اسے گرفتار کرکے لے کر جاتی ہے۔ جب شاہد کپور بڑا ہوتا ہے تو عرفان خان جو اسکے والد کے ساتھ جیل میں ہوتا ہے وہ مر کر بچ نکل کر شاہد کپور سے ملتا ہے اور اسے اصلیت بتاتا ہے کہ آپ کے شہید والد نے کہا ہے کہ آ   پ کی ماں کو بہلا پھسلا کر تمہارے چچا نے میرے ساتھ بہت ظلم کیا ہے اور تم اس سے میرا انتقام لینا۔

ویسے تو نریندرا جھا اچھے لیکن شوقیہ گلوکار تھے لیکن فلم حیدر میں انہوں نے فیض احمد فیض کی نظم ۔۔۔۔ گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے ،چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے ،کو اپنی آواز میں خوب گنگنایا ہے۔ فلم حیدر کے بعد نریندرا جھا نے ایک اور یادگار فلم “ہماری ادھوری کہانی” میں عمران ہاشمی اور کنگنا رناوت کے ساتھ کام کیا۔ اس فلم میں ان کا کردار اے سی پی پٹیل کا تھا اس فلم کی کہانی بھی بڑی المناک ہے اور یہ عمران ہاشمی اورودیا بالن  کے ساتھ ساتھ نریندرا جھا کی بھی ایک یادگار فلم رہے گی جس کی وجہ ان تینوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے  گا۔ فلم “ہماری ادھوری کہانی” میں شادی شدہ ودیاا  عمران  ہاشمی کو پسند آجاتی ہےودیا کا شوہر اس پر بہت ظلم کرتا ہے لیکن ایک حادثے میں وہ دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ وہ بے گناہ ہوتا ہے لیکن وہ اپنے سر پر الزام اس لئے لے لیتا ہے تاکہ عمران ہاشمی اس کی بیوی کو نہ پا سکے۔ اور تب سخت مزاج پولیس  آفسر نریندرا جھا نرم پڑ جاتا ہے اور وہ ودیا   اور عمران ہاشمی کی سچی محبت کو دیکھتے ہوئے دونوں کو آگاہ کرتا ہے اور تب عمران ہاشمی اسے بے گناہ ثابت کرنے کے لئے ثبوت ڈھونڈ کر لاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بری ہوجاتا ہے۔

2016 میں نریندرا جھا کو سنی دیول کی 1990 کی مشہور فلم کے سیکوئل  گھائل میں راج بھنسال کا یادگار کردار ملا جسے بہت سراہا گیا۔ 2016 میں نریندرا جھا کو ایک اور فلم “شوروگل” ملی جس میں انہوں نے مسلمانوں کو بھڑکانے والے شخص عالم خان کا کردار اس قدر جانداری کے ساتھ ادا کیا کہ فلم دیکھتے وقت ان پر غصے کی وجہ سے انسان کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ 2016 میں انہوں نے اشوتوش گواریکر کی تاریخی فلم موہنجوداڑو میں جاکی راؤ کا اہم کردار نبھانے کا موقع ملا جس کی بہت تعریف ہوئی۔ 2016 ہی میں انہوں نے مائی فادر اقبال خان میں اقبال کا کردار ادا کیا اور جان ابراہم کے ساتھ فورس ٹو 2016 میں انہوں نے انجان کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد نریندرا جھا نے ہریتک روشن کے ساتھ فلم قابل میں انسپکٹر چوبے کا یادگار کردار ادا کیا۔ اور شاہ رخ خان کے ساتھ فلم رئیس میں ممبئی کے ڈان موسی بھائی کا کردار ادا کیا۔

اس کے علاوہ نریندرا جھا سلمان خان کی آنے والی فلم ریس تھری میں بھی کام کررہے تھے۔ نریندرا جھا نے شروعات میں ساؤتھ  انڈین کے تامل، تیلگو فلموں میں بھی کام کیا۔ یوں تو نریندرا جھا یاروں کے یار تھے لیکن فلم انڈسٹری میں ان کے اچھے دوست ادکار کنال کیمو کے والد فلم ڈائریکٹر روی کیمو تھے۔ نریندرا جھا اپنی زندگی میں   کچھ ہونے کا دعوی کرتے تھے اس کا پورا کریڈیٹ وہ اپنے والد کو دیتے تھے اور ہر انٹریو میں وہ اپنے والد کا ذکر ضرور کرتے تھے جن کی رہنمائی کی بدولت وہ اس مقام تک پہنچے تھے۔ اگر نریندرا جھا کے  نجی جیون کی طرف رخ کیا جائے تو دیکھنے میں ملتا ہے کہ انہوں نے شادی بہت دیر سے کی۔ ان کی اچھی دوستیاں ضرور تھیں لیکن کوئی اسے اس لائق نہیں نظر آئی جس سے وہ وقت پر شادی کرلیتے۔ لیکن سنسر بورڈ کے سابق سی ای او پنکیجہ ٹھاکر کے ہاتھوں دل ہارنے کے بعد اسے لگا کہ یہی وہ لڑکی ہے جو اس کا گھر بسا سکتی ہے۔ دونوں نے ناسک میں 11 مئی 2015 کو شادی کرلی۔

نریندرا جھا کو سفر کرنے اور موسیقی سننے کا بہت شوق تھا انہوں نے ممبئی سے سو کلو میٹر دور وڈا پلگھڑ میں اپنا فارم ہاوس بنایا تھا جہاں وہ فرصت میں جاکر گٹار، اور پیانو بجا کر شوقیہ گلوکاری کرلیا کرتے تھے۔ ان کا انتقال بھی اسی فارم ہاوس میں  پرسوں صبح پانچ بجے دل کا دورہ پڑنے  کے باعث ہوا۔ اس سے پہلے بھی انہیں دل کے دو دورے پڑ چکے تھے اور یہ تیسرا دل کا دورہ تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ 2016 میں دی اینڈ فلم میں ان کا ایک ڈائیلاگ تھا۔ آئیے  آج میں جینا شروع کرتے ہیں پتا نہیں یہ دنیا کب ختم ہوجائے۔ اس فلم میں یہ ڈائیلاگ نریندرا جھا نہیں بول پا رہے تھے۔ لیکن انہیں جب بولنے کا کہا گیا تو انہوں نے بمشکل یہ ڈائیلاگ کہنے کے بعد کہا۔ نجانے کیوں کبھی کبھی زبان ساتھ نہیں دیتی۔ نریندرا جھا زندگی سے محبت کرنے والا انسان تھا۔ وہ زندگی کو بھر پور جینا چاہتا تھا۔

کچھ عرصہ پہلے ان سے جب ایک انٹریو میں پوچھا گیا کہ آپ پانچ سال بعد خود کو کہا ں دیکھتے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا میں کون ہوتا ہوں دیکھنے والا۔ نریندرا جھا نے بالی ووڈ میں مزید آگے بڑھنے کیلئے کوئی پلاننگ نہیں کی انہیں جو کام ملتا گیا وہ اسے راضی خوشی سے کرتے رہے۔ انہوں  نے فلموں میں بہت کم مگر جاندار کام کیا انہوں نے جو کردار نبھائے ان کی بدولت وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں  گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *