تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا۔۔رفعت علوی/قسط 3

سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔
جنگ سے پہلے میخائل ولڈامیر کا بڑا بھائی آئیون ولڈامیر ایک خوش مزاج اور خوش باش شخص تھا مگر جنگ میں اپاہچ ہونے کے بعد وہ ایک چڑچڑا، بد مزاج اور جھگڑالو آدمی بن گیا تھا، دن رات بھر واڈکا پیتا اور پھر اس کے نشے میں انقلابی حکومت اور فوج کو گالیاں دیا کرتا، اپنی جسمانی محرومیوں پر اسے ساری دنیا سے گلہ تھا اور ان محرومیوں کا غصہ وہ اپنی نازک اندام بیوی پر بھی نکالتا، صوفیا کو جب بھی کسی جوان مرد کے ساتھ ہنس کر یا بےتکلفی سے بات کرتے دیکھتا تو اسے بیوی کی وفاداری پر شک ہونے  لگتا اور جب وہ واپس آتی تو اس پر خوب گرجتا برستا اور طنز کے تیر چلاتا۔
نازک ہاتھوں پیروں والی صوفیا ایک بے تکلف چلبلی، ہمدرد اور گھل مل کر دکھ بانٹنے والی عورت تھی، بےخوف دلیر اور خوبصورت صوفیا کے جگر مگر کرتے چہرے پر ناقابل فہم سی ہنستی مسکراتی آنکھیں تھیں اور اس کے بھرے بھرے سرخ ہونٹوں پر کھلینے والی دل آویز ہنسی ہر ایک کا دل موہ لیتی تھی، شادی کے تین ماہ بعد ہی جب آئیون کو بغیر کسی ٹریننگ کے زبردستی جنگ پر بھیج دیا گیا تھا تو وہ بہت وفاداری سے اس کا انتظار کرتی رہی، بہت سے مردوں نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی اور اس پر جال پھینکے مگر اس نے نہایت ثابت قدمی اور وفا شعاری سےاپنے شوہر کا انتظار کیا اور اب جبکہ وہ جنگ سے اپاہچ ہو کر واپس لوٹا تھا تب بھی وہ اسی خنداں پیشانی اور محنت سے اس کی دلجوئی اور خدمت کر رہی تھی،
آئیون کے گالی گلوج اور طنز اس کو برے ضرور لگتے اور وہ میخائل کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھتی مگر اس نے کبھی برسرعام آئیوان کے ظلم و ستم کا کسی سے شکوہ نہ کیا، میخائل کو یاد تھا کہ پچھلے سال جب  آئیون دوسرے گاؤں سے شادی کر کے صوفیا کو اپنے ساتھ لایا تھا تو گاؤں والوں کو صوفیا  ذرہ بھر بھی اجنبی نہیں لگی تھی، وہ اپنی شگفتہ اور جلد گھل مل جانے والی طبعیت کی وجہ سے سب گاؤں والوں کے ساتھ بہت جلد ہی مانوس ہو  گئی تھی، جب وہ اور آئیون ساتھ ساتھ چلتے تو بہت بھلے لگتے، محلے کی عمر رسیدہ اور بڑی بوڑھیاں اپنی اولادوں کو اس جوڑے کی محبت اور خوبصورتی کی مثالیں دیتیں۔
مگر یہ سب ماضی کی باتیں تھیں ، اب تو اپاہچ اور غصہ ور آئیون تھا، اس کے طعنے و تشنے تھے یہ اجتماعی کھیت تھا اور سرخ انقلاب کے شکنجے میں پھڑپھڑاتی معصوم فاختہ سی محنت مشقت کرتی اور اپنے شوہر کے نخرے اٹھاتی صوفیا تھی، اس کا الھڑپن تھا اور بیچارگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوفیا کا چنچل پن بےتکلفی اور اپنے کام سے لگن دیکھ کر تیمور کو نتالیا یاد آجاتی۔شوخ چنچل مسکراہٹیں بکھیرتی نتالیا۔اور یہ صوفیا۔۔۔۔۔وہ کبھی کبھی ہنستی مسکراتی لوگوں کی ہمت بندھاتی صوفیا کو دیکھتا تو سوچتا
کیسی باہمت محنتی اور ہمدرد عورت ہے یہ صوفیا بھی۔۔۔۔اپنے اپاہج شوہر کی گالیاں اور جھڑکیاں سنتی ہے، اسکی تیمار داری اور خدمت کرتی ہے، اپنے اس نازک بدن کے ساتھ غلہ ڈھوتی ہے، گھربار سنبھالتی ہے، پھر بھی اپنی خوش مزاجی نہیں کھوتی، اسے اپنی خوبصورتی اور معصومیت کا احساس بھی نہیں، یہ نازک خوبرو عورت اگر پرانے زمانے میں کسی شاہی محل کے دربار میں سجی بنی داخل ہوجاتی تو زار روس، راسپوٹین، کاؤنٹس، شہزادوں اور امیر زادوں کے ہاتھوں سے تو جام گر جاتے، اس نے دور ایک طرف بیٹھی اپنے شوھر کو کھانا کھلاتی ہوئی صوفیا کی طرف دیکھا۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی صوفیا تیمور کے سامنے لمبی روٹی کے چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ کولڈ بیف کا ٹکڑا بھی رکھ گئی تھی، یہ وہ  سپیشل لنچ تھا جو اُن دنوں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا تھا، یہ  سپیشل لنچ صوفیا نے اپنی بچت سے اپنے گھر والوں کے لئے تیار کیا تھا،
آئیون کی جان بچانے کے واقعے کے بعد سے صوفیا اور میخائل اس کے کافی قریب آ گئے تھے، صوفیا اس کا خاص خیال رکھنے لگی تھی کبھی اس کی بوسیدہ فوجی وردی کا بٹن ٹانک دیا، کبھی گھر میں پکی ہوئی خاص ڈش میں اس کا حصہ بھی نکال دیا، میخائل کے لئے تو پہلے بھی وہ ہیرو کا درجہ رکھتا تھا،تیمور کی بےاعتنائی اور کم گوئی کے باوجود ان تینوں کے درمیان فاصلے کم ہو رہے تھے، صوفیا کا اس کے ساتھ پہلے پہل تو احترام اور عزت کا معاملہ رہا پھر جیسے کہ صوفیا کی فطرت تھی بےتکلفی اور شوخی کی منزل آئی اوراس کے بعد اس نے آزادی سے تیمور کے ساتھ چھیڑچھاڑ شروع کردی۔
تیمور کے سامنے کھانا ویسے کا ویسے ہی رکھا رہ گیا اور وہ خیالوں ہی خیالوں میں پھر اُس ہسپتال میں پہنچ گیا جہاں ہوش میں آنے کے بعد اس کی آنکھ کھلی تھی۔
یادوں کی گٹھری کھلنے لگی، اس گٹھری میں آتش بازیاں تھیں، بےتابیاں تھیں، بیقراریاں تھیں، دلداریاں تھیں شوخ و شنگ پھلجڑیاں تھیں مہتابیاں تھیں جنگ کی تباہکاریاں تھیں مگر وہاں نتالیا بھی تو تھی۔۔۔
نتالیا۔۔بہار کا پہلا پھول، خوشنما اور دلربا پھول
نتالیا جو اب ایک گم گشتہ محبت کی پرچھائی بن چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگ میں۔۔سب کچھ جائز ہے۔
تیمور کو بھی جنگ کے اس آفاقی اصول پر عمل کرنا پڑتا تھا،دشمن کے فوجی کو مارو گے تو خود زندہ رہو گے۔
مگر اس کو نفرت تھی کسی بے قصور کی جان لینے سے،اس کی کیا دشمنی تھی کسی سے،دشمن کا سپاہی بھی تو کسی کا بیٹا، شوہر بھائی اور باپ رہا ہوگا۔۔اس کے جسم سے بہنے والے خون کا رنگ بھی تو سرخ ہے،ہسپتال کے بستر پر پڑے پڑے وہ دن رات یہی سوچا کرتا، جنگ،امن،گھر،روشن چہرے،مسکراتے معصوم بچے۔۔۔۔زندگی سے جگ مگ کرتے شہر سب کہیں کھو گئے تھے، جنگی مصائب اور تباکاریوں سے اس کی روح کچل کر رہ گئی تھی۔
اس  ہسپتال میں وہ پچھلے دو ماہ سے زیر علاج تھا اور ابھی صرف چلنے کے قابل ہوا تھا۔اُسے اس نرسنگ ہوم میں تین مہینے رہنا پڑا، اس دوران اس نے بڑے بڑے عبرت ناک واقعات دیکھے، زخمی سپاہی چلاتے روتے سسکیاں بھرتےاپنی اپنی ماؤں کو پکارتے ہوئے آتے، تکلیف کے مارے اپنے کپڑے پھاڑتے گالیاں بکتے، نرسوں اور ڈاکٹروں سے جھگڑا کرتے، پھر چند دنوں میں صحتیاب ہوکر ہنستے گاتے سیٹیاں بجاتے مسکراتے ڈاکٹروں سے ہاتھ ملاتے نرسوں کے گال تھپتھپاتے رخصت ہو  کر کسی دوسرے محاذ پر لڑنے کے لئے روانہ ہوجاتے۔بری طرح گھائل اور بیہوش سپاہی آتے جن کے ہاتھ پاؤں ناکاراہ  ہو چکے ہوتے، آنکھیں ضائع ہوگئی ہوتیں ،چہرے مسخ ہوگئے ہوتے، ایسے مریضوں کا رویہ بڑا المناک ہوتا، وہ جب ہوش میں آکر اپنی کٹی ہوئی ٹانگ یا ہاتھ دیکھتے تو صدمے سے پاگل ہوجاتے، روتے اور چلاچلا کر سارا کیمپ سر پر اٹھالیتے، جنگ، سامراجیوں اور لیڈر شپ کو برا بھلا کہتے، ڈاکٹروں کو کوستے، پھر آہستہ آہستہ وہ اپنے جسمانی نقصان کے عادی ہوجاتے، اور بیساکھیوں کے سہارے چلتے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے وہ روز یہ تماشہ دیکھتا اور جنگ سے اس کی نفرت بڑھتی جاتی۔۔
نظریات کی برتری کے لئے انسانیت کے کھیت میں ہل چلائے جا رہے تھے اور اس کو انسانی خون اور جسم کی کھاد سے سینچا جارہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نتایا۔۔۔وہ ایک شگفتہ اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی، خوبصورتی اور جوانی کی سب ہی نعمتوں سے مالا مال، اس نے دوران طالب علمی نرسنگ کی تعلیم اپنے شوق سے حاصل کی تھی اور سامراجی جنگ کے دوران رضاکارانہ طور پر پرولتاریوں کو اپنی خدمات پیش کیں تھیں۔
نتالیا اسی اسپتال میں متعین تھی جہاں محاذ سے بہت زیادہ زخمی ہو کر آنے والے سپاہیوں کا علاج ہوتا تھا،تیمور کا علاج بھی نتالیا کے سپرد تھا، ایسی شفقت، محبت دل جوئی تیمارداری اور ذمہ داری اس نے کسی اور نرس میں نہیں دیکھی، وہ چپ چاپ سوچا کیا۔۔۔
وہ سب کو اچھی لگتی تھی، پورا ہسپتال اس کا دم بھرتا تھا، جب وہ ڈیوٹی پر آتی تو جیسے صحرا میں باد نسیم آجاتی بگولوں میں گلاب کھل اٹھتے، چاندنی کی کرن سے نیم تاریک وارڈ جگمگ جگمگ کرنے لگتا، سب کو اس کے آنے کا پتا چل جاتا، ہر مریض چاہتا کہ وہ پہلے اس کے پاس آئے، کوئی مریض خوامخواہ کراہنے لگتا، کسی کو پیاس ستانے لگتی، کوئی سر درد کی شکایت شروع کردیتا مگر وہ سب سے چہلیں کرتی تسلی دیتی مسکراتی سیدھی تیمور کے بستر کے پاس آ کر رک جاتی، سب مریض جل بھن کر ہائے۔۔۔ اوئے کرنے لگتے، کوئی دل جلا بلند آواز میں فقرہ بھی کس دیتا۔۔مگر نتالیا اپنے سڈول جسم پر کسی ہوئی سفید یونیفارم میں شگفتہ پھول کی طرح مہکتی مسکراتی سب سے بے نیاز اپنی دراز پلکیں اٹھا کر تیمور کی طرف دیکھتی اور پوچھتی۔۔
” کیسے ہو کامریڈ، آنکھیں کیوں سرخ ہو  رہی ہیں تمھاری؟ کیا رات بھر میرے خواب دیکھتے رہےہو” پھر خود ہی ہنستی،
وہ خاموشی سے اس کی شرارت بھری باتیں سنا کرتا
وہ اس کے زخم دیکھتی بینڈج بدلتی، سب سے آخر میں وہ بلڈ پریشر چیک کرتی پھر شرارت سے کہتی
” تمھارا بلڈ پریشر تھوڑا سا زیادہ ہے مگر فکر کی بات نہیں میرے یہاں سے جاتے ہی نارمل ہو جائے گا” پھر وہ اپنا سر جھٹک کر زلفیں پیچھے کی طرف پھینکتی اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کہتی۔۔
“اب تم سے بھی جدائی کا وقت آگیا ہے کامریڈ مگر تم بہت یاد آؤ گے، تم الگ ہو سب سے” یہ کہہ کر وہ کچھ اور اس کے قریب آجاتی
تیمور کے دل پر جیسے چوٹ سی لگتی، اس کا خاموش عشق خاص جو نتالیا کے آتے آتے اس کی خون کی گردش میں سفینی کی طرح بجنے لگتا ہتھیار پھینک دیتا، نتالیا سے جدائی کے احساس سے اس کا رنگ فق  ہوجاتا، وہ بےبسی سے اس کے چمکتے چہرے کی طرف دیکھتا مگر وہ اس کے احساسات سے بےخبر بڑی بے نیازی سے اپنے ہاتھ سے ایک ٹیبلٹ کھلاتی، اشارے سے ایک ہوائی بوسہ اچھالتی اور رخصت ہوجاتی،
وہ چلی جاتی تو جیسے روشنی بھی اسکے ساتھ چلی جاتی، کچھ مریض خاموش ہو جاتے، کچھ چادر سے منہ ڈھانک کر لیٹ جاتے اور کچھ بے مصرف ادھر ادھر دیکھنے لگتے
یہ اس کے وارڈ کا روز کا معمول تھا۔۔دو ماہ تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا
پھر ایک دن وہ نہیں آئی۔۔صبح سے شام ہوگئی!

جاری ہے۔۔

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *