پہلے ہمارا حساب چکاتے جائیے۔۔نسرین چیمہ

SHOPPING
SHOPPING

ہم بھی منہ میں زباں رکھتے ہیں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے!
حالات اتنے دگرگوں ہو گئے ہیں کہ ہم بغیر پوچھے ہی اپنی بپتا سنانے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ الیکشن قریب ہیں۔ سیاستدانوں کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ ہر کوئی اپنی خدمات اور ‏اخلاص ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے۔ قوم کے یہ ہمدرد ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال اچھال کر اپنے اعمال کی سیاہی کو دھونے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر یہ سیاہی تو اجلے کپڑوں پر لگے ‏داغ کی  مانند نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے اپنے عہد حکومت میں قوم کے لیے کچھ کار خیر کیا ہوتا تو یہ داغ موتی بن جاتے،مگر  وہ تو اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے تجوریاں بھرتے ‏رہے ۔ اگر کچھ بچ گیا ہے تو اس کو ہڑپ کرنے کی فکر میں باگ دوڑ میں لگے ہیں ۔ملک میدان کارزار بنا ہوا ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے۔ اس خانہ جنگی میں ہر کوئی میدان جیتنا چاہتا ‏ہے۔

بہو بیٹیاں باہر آ گئی ہیں ۔قبروں میں دفن شدہ ہستیاں پوسٹروں پر چڑھ کر اگلی نسلوں کے لیے اپنی خدمات کا صلہ مانگ رہی ہیں۔ تدبیریں غالب آ رہی ہیں۔قوم کی قسمت کے ‏لیے سر جوڑ کر مشورے ہو رہے ہیں۔ پارٹیوں کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ سیاستدان ادھر سے ادھر لڑھک رہے ہیں۔  ہر روز بیان بدلے جاتے ہیں ۔ بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں۔ قول و ‏فعل کے تضاد سے اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے چاق و چوبند رہتے ہیں۔ ان کے اسرا ر و رموز سے اگر کوئی پردہ اٹھانے کی کوشش کرے تو بندوق کی ‏ایک گولی تمام شواہد ختم کر دیتی ہے۔

اس جنگ و جدل کے پیچھے انہیں اپنی کامیابی کا سہرا چمکتا نظر آتا ہے۔ قوم کے غدار آج قوم کے جانثاربنے بیٹھے ہیں۔ اقتدار کی چمک نے ان ‏کے اندر جوش اور ولولہ پیدا کر دیا ہے۔ وہ جذباتی تقریریں کرتے ہوئے قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں۔
وہ غریب، بےروزگار ، ناکامیوں سے کھیلنے والی ، جان و مال اور عزت کے آگے ہاری ہوئی بدحال قوم سے اپنے روشن مستقبل کا سوال کرتے ہیں۔کبھی بیٹی کا واسطہ دے کر، کبھی ‏بھٹو کے نام پر، کبھی شوکت خانم کا احسان جتا کر، اور کبھی دھرنوں کی دھونس پر۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ میری پارٹی کو ووٹ دیں سرے محل کے نان پر، سوئس بینکوں کے نام پر، ‏بیرون ملک بنائی گئی پراپرٹی کے نام پر، مظلوموں کے خون کے نام پر، بےبسوں کی کھوئی ہوئی عزت کے نام پر۔

اس قوم کی کس کو فکر ہے۔ فکر ہے تو بچے کھچے پاکستان کو سمیٹنے کی۔ یہ دن رات کوشاں ہیں اپنے اقتدار کے لیے۔ جب الیکشن سر پر ہوتے ہیں تو قوم کے ساتھ عہد و پیما باندھنا  شروع ہو ‏جاتے ہیں۔محبتوں کے علمبردار، قوم کے خیر خواہ آج جھولی پھیلا رہے ہیں اس قوم کے آگے جس کی جان و مال عزت محفوظ نہیں ہے۔ جس قوم کی بیٹیاں بےنقاب ہیں، جس ‏قوم کی مائیں بےسہارا ہیں ان کے سروں سے چادریں چھین لی گئی ہیں۔ پاؤں میں زنجیریں ، زبانوں پہ قفل پڑے ہیں۔ بےگناہ لوگوں کا خون سڑکوں پہ بہہ رہا ہے۔ ماؤں کے ‏لاتعداد  جگر  پاروں  کو لقمہ اجل بنا دیا گیا ہے۔ بہنوں کے بھائیوں کو بےقصور مار ا گیا ہے۔ گاڑیوں میں، رکشوں میں سفر کرنے والے گھر نہیں پہنچتے۔ راولپنڈی میں موٹر سائیکل ‏سوار کی بیلٹ کھینچ کر اسے موت کے روبرو کر دیا گیا۔ لاہور میں مارے جانے والے نوجوانوں کے قاتلوں کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی۔ ملک میں کوئی قانون نہیں۔ قانون ‏ظالموں کے آگے بےبس ہے۔ ‏

پولیس کو دہشت گردی کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار جس کو مرضی مار دینے کےبعد یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے دہشت گرد کو مار دیا ہے۔ اگر کیس کی تحقیق ہوتی ہو ، پولیس ‏کو بھی تختہ دار پہ لٹکایا جاتا ہو، تو ان کی بندوقوں سے بےلگام گولیاں نہ نکلیں۔ ہمارے حکمرانوں نے ظالموں ، غاصبوں ، قاتلوں اور جبر و تشدد کرنے والوں کی ذمہ داری قبول ‏نہیں کی۔
ٹی وی پر بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی ہیں۔ دھرتی تڑپتی اور سسکتی نظر آتی ہے۔ انسانوں کو کچلا جا رہا ہے۔ انسانیت کو روندھا جا رہا ہے، مگر ہمارے سیاستدان اور حکمران تقریروں پہ ‏تقریریں جھاڑ رہے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔ طاقتور کمزور کو کیڑے مکوڑوں کی طرح پاؤں تلے مسل ‏رہا ہے۔ اگر کبھی قانون کی زد میں آیا تو بےچارہ، غریب اور مظلوم۔ جس پر امیر کے ظلم کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ جو اصل مجرم ہیں وہ اپنے دھندوں میں بڑی بےفکری سے مشغول ہیں۔

قصور کے دل سوزواقعات جو ناقابل فراموش ہیں۔ نویں بچی کے ہوس کا نشانہ بننے کے بعد وہ بھی چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے پر مجرم کو سزائے موت سنائی گئی۔ اگر پہلی ہی ‏بچی کو انصاف مل جاتا ، قانون اپنا حق ادا کرتا تو ظالموں کی حوصلہ افزائی نہ ہوتی۔ مگر یہ تو میڈیا پر آنے والے واقعات ہیں، جانے کتنی ہی اندوہناک داستانیں ہیں جو منظر عام پر نہیں ‏لائی جاتیں۔ ‏
ایسے المناک حالات میں کیا حکمران عوام کو منہ دکھانے کے قابل ہیں۔ اگلی حکومت کے آنے سے پہلے قوم کی ان بچیوں اور نوجوانوں کا حساب دیجیے جن کی عزتیں اور جانیں داؤ ‏پر لگ گئی ہیں۔ ان معصوموں کے خون کی سزا کون بھگتے گا۔ ان کے خون کا ایک ایک قطرہ ہم سے انصاف مانگ رہا ہے۔ وطن کے شرمناک حالات دیکھ کر عرش بھی ہل گیا ہے۔ ‏زمین دبی جا رہی ہے، مگر ہمارے حکمران بڑی دیدہ دلیری اور بےغیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر اٹھا کر میدان میں آتے ہیں۔ ابھی بھی تجوریوں کے کھلے منہ ان کے منتظر ‏ہیں۔ ‏

ان کی گردنیں شرم سے جھک کیوں نہیں گئیں۔ آنکھیں ندامت کے آنسو کیوں نہیں بہا رہیں۔ راتوں کی نیندیں کیوں نہیں اڑ گئیں۔ اپنی تقاریر میں  یہ کسی نے نہیں  کہا  کہ جب ‏تک مظلوموں کو انصاف نہیں ملے گا قاتلوں کو سزائے موت نہیں سنائی جائے گی ، حقداروں کو ان کا حق نہیں ملے گا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گےاور جب تک بھیڑیوں کو ‏اذیت ناک سزا نہیں ملے گی ہم آپ سے ووٹ مانگنے کے حقدار نہیں۔ حضرت عمر کے دور خلافت میں ایک رات ایک  بھیڑیا بکری کھا گیا۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ یہ کیسے ہو گیا۔ ‏تحقیق پر معلوم ہوا کہ حضرت عمر اس رات وفات پا چکے تھے۔

آج ہماری پوری قوم بھیڑیوں سے مشابہ  ہے۔ بڑے بھیڑیے چھوٹے بھیڑیوں کو اور چھوٹے بھیڑیے  بکریوں کو کھا رہے ہیں۔ قانون سب کے لیےیکساں نہیں ہے۔ جس کا جتنا ‏زور بازو ہے اتنا آزما  رہا ہے اپنے سے کمزور پر۔ حاکم لٹیرے بن چکے ہیں۔ محافظ حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔ اپنے اپنوں کو ظلم کےشکنجے میں کس رہے ہیں۔ ‏کہاں گئے وہ دھرنوں کے شوقین جو اپنی صرف اپنی ذاتی اغراض کے لیے دھرنے دیتے ہیں۔ آج موقع تھا دھرنے دینے کا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا۔ ہماری عوام الگ سوئی پڑی ہے، وہ سڑکوں پہ کیوں نہیں نکل آتی۔ اپنے حق کے لیے آواز کیوں نہیں بلند کرتی۔ کیا ‏بےبسوں کی پکار انہیں سنائی نہیں  دیتی۔ سفاکی کا نشانہ بننے والے بےبس بچوں  کے والدین کی آہیں اس دھرتی کے سینے کو کیوں نہیں چیرتیں۔ خون کا ایک ایک قطرہ ہمارے ‏سینوں میں  خنجر بن کر پیوست کیوں نہیں ہوجاتا۔ ‏
ہم بےحس ہو گئے ہیں۔

SHOPPING

اے قوم کے خیر خواہو، حکمرانو، قانون کے پاسبانو، انصاف کے متوالو، روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والو۔۔ اب جان و مال اور عزت کا نعرہ بھی لگا دو۔ انصاف ‏کی ڈور تمہارے ہاتھ میں ہے۔ بصیرت کی آنکھ کھولو اور ہوش میں آجاؤ۔
گھر کے چراغ جل رہے ہیں گھر کے چراغ سے۔

SHOPPING

Avatar
نسرین چیمہ
سوچیں بہت ہیں مگر قلم سے آشتی اتنی بھی نہیں، میں کیا ہوں کیا پہچان ہے میری، آگہی اتنی بھی نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *