سائنسی ارتقاء اور مذہب

انسانی فکر ترقی اور ارتقا کے تین بڑے مراحل سے گزری ہے سحر مذہب اور سائنس (یاسر جواد)
لیکن اس خاکسار کی بات بھی سن لیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل یہ امر واقع ہے اور اس کے وقوع سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔مخبر حقﷺ نے اس کی خبر دی ہے۔ ابھی سائنس کو اور بہت سے معجزات دکھانے ہیں ابھی تو خطہء عرب کو سرسبز و شاداب کرنے کا معجزہ بھی سائنس کو دکھانا ہے جو کہ فی زمانہ ایک کار محال دکھائی دیتا ہے۔ زراعت میں ایسے ایسے کمالات ہونگے کہ بھوک نام کی ڈائن اپنی موت آپ مر جائے گی۔ ابھی تو ایسی گاڑیاں اور شاید ٹائم مشینز بننی باقی ہیں کہ سال مہینوں میں تبدیل ہونگے مہینے دنوں میں۔ پچھلے دنوں ایک خبر پڑھی کہ سائنس دانوں نے انسانی جینز میں کوئی کلاک وغیرہ دریافت کیا ہے جو عمر کا تعین کرتا ہے اور سنا گیا ہے کہ کہنے والے کہہ رہے ہیں، اگر اس کلاک کی ترتیب تبدیل کر دی جائے تو عمر کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ابھی تو ابتداء ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان سائنس کی بو العجبیوں میں گم ہو کر رہ جائے گا یہاں تک کہ پہلے تمام دینی ضابطوں کو اخلاقی ضابطوں سے بدلا جائے گا، پھر سائنسی توجیہات کی بنیاد پر ان اخلاقی ضابطوں سے بھی جان چھڑا لی جائے گی اور انسان سائنس کے نام پر ہر وہ کام کرے گا جس پر زمین و آسمان روئیں گے، مثلاً یہ ہی وہ دور ہے جب ایک عورت اور مرد سرعام جانوروں کی طرح جفتی کریں گے اور لازماً اس کی بھی کوئی سائنسی توجیہہ ہو گی اور ان جفتی کرنے والوں کو اگر کوئی یہ کہہ دے گا کہ ذرا اس دیوار کے پیچھے چلے جاؤ تو اس کا رتبہ مذہبی اعتبار سے بہت بلند ہو گا اور مذہب اس طرح گم ہو جائے گا کہ جب کوئی آدمی کلمہ بولے گا تو سننے والے کہیں گے ہاں یہ چیز ہم نے اپنے باپ دادا سے یا ہمارے باپ دادا نے اپنے بڑوں سے سنی تو تھی اور آخر پر سائنس اپنے عروج کو پہنچنے کے بعد شاید دونوں قطبوں کو گھما دے اور یوں سورج مشرق کی بجائے مغرب سے نکلے۔ مذہب آسمان سے رابطے کی واحد کلید ہے، مذہب کو چاہیے کہ سائنس کو اس کا راستہ فراہم کرے اور سائنس کو چاہیے کہ مذہب کا احترام برقرار رکھتے ہوئے اپنا ارتقائی سفر جاری رکھے۔

Avatar
شاہد خیالوی
شاہد خیالوی ایک ادبی گھرا نے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معروف شاعر اورتم اک گورکھ دھندہ ہو قوالی کے خالق ناز خیالوی سے خون کا بھی رشتہ ہے اور قلم کا بھی۔ انسان اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور خالق کا شاہکار ہے لہذا اسے ہر مخلوق سے زیادہ اہمیت دی جائے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا لیا تو قلم کوآسودگی نصیب ہو گی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *