محبت

اُس نے جلدی جلدی کچرے کے ڈھیر سے لوگوں کا پھینکا ہوا سامان اُٹھایا ،
اور سائیکل پر کباڑئیے کے پاس جاپہنچا۔۔۔۔
پورے دن کے کباڑ کا حساب کتاب کرکے سیدھا اُس دکان جا پہنچا
جہاں وطن عزیز پاکستان کے جھنڈے فروخت ہورہے تھے ۔۔۔
اُس نے پوری رقم سے دکان میں موجود سب سے بڑا جھنڈا خریدا ۔
اُسے یہ معلوم تھا کہ آج اُس کے گھر والوں کو فاقہ کرنا پڑے گا۔۔
مگر ملک سے محبت فاقوں سے بڑ ھ کر تھی۔۔۔
اور پھر پورا دن وہ پر چم پاکستان کو سربلند کرتا رہا!!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *