فسطائیت کیا ہے ۔۔منصور ندیم

SHOPPING
SHOPPING

فاشزم یعنی فسطائیت  ” Fascism ” ایک ایسی اصطلاح ہے جو ہم اکثر پاکستانی سیاست میں سنتے ہیں، میڈیا اور غیرملکی میڈیا میں یہ اصطلاح اکثر استعمال ہوتی ہے، فاشزم بنیادی طور پر کیا ہے؟ اس کا مطلب ، معانی اور مفاہیم و مقاصد کیا ہیں؟ بنیادی طور پر یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے ، جو”Fascio”    کے  ” Root  word ” سے نکلا ہے، لاطینی زبان قدیم روم میں بولی جاتی تھی، قدیم لاطینی زبان میں Fascio کا مطلب ایک ڈنڈوں کے مجموعے کو کہتے تھے، یہ اس زمانے کے سول مجسٹریٹ کے پاس ہوتی تھی جو بازاروں میں گھومتے وقت وہ اپنے ہاتھ میں  یا سپاہیوں کے ہاتھوں میں لے کر پھرتے تھے، اور اس وقت بازاروں سڑکوں پر انہیں کوئی بھی ایسا شخص جو خلاف قانون ملتا تو وہیں پر اس کو پکڑ کر ان ڈنڈوں سے سزا دیتے تھے، حتی کہ انہیں یہ حق حاصل تھا اسی وقت اس لاقانونیت پر بڑی سزا بھی دی جاسکتی تھی، یہ ڈنڈوں کا مجموعہ Fascio  اس سول مجسٹریٹ کا نشان تھا۔ جو بعد میں وقت کی تبدیلی کے ساتھ فاشزم بنا۔ فاشزم کی اگر سیاسی تفہیم کی جاے تو یہ ایک ریڈیکل اتھاریٹیرین نیشنلزم Radical Authoritarian  Nationalism  ہے .یعنی یہ ایک ایسی قوم پرستی ہے  جو آمریت کا رحجان رکھتی تھی، آمریت کی سادہ فہم تعریف یہی ہے کہ اپنے مخالفین کو طاقت کی بنیاد پر دبایا جائے ۔

فاشزم ۲۰ ویں صدی میں ابھرا، بنیادی طور پر یہ یورپ کی تحریک تھی،  یہ کوئی چند لوگ نہیں تھے جو اس تحریک کا رحجان رکھتے ہوں اور جو باقی سوسائٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے تھے بلکہ  ۲۰ویں صدی کے اوئل کی یہ ایک  مقبول ترین تحریک تھی، فاشزم نے  انڈسٹری پر بھی کنٹرول نافذ کیاتھا،علاوہ ازیں  انڈسٹری، مارکیٹ ، کامرس اور بینکنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔دنیا میں پہلی فاشسٹ تحاریک جنگ عظیم اول کے بعد ابھری تھیں، لیکن یہ سوچ بنیادی طور پر پچھلی صدی میں بھی مختلف کیفیتوں میں موجود تھی ، فریڈرک نیطشے (جرمن فلاسفر) اس کی بنیادی سوچ کا مظہر تھا، اس کا خیال تھا کہ عیسائیت غلاموں کا مذہب تھا  ، کیونکہ بالحقیقت روم کے خلاف بغاوت بھی غلاموں نے ہی کی تھی، اور عیسائیت مذہب سب سے پہلے غلاموں میں ہی مقبول ہوا تھا، اس کا ماننا تھا کہ عیسائیت غلامانہ سوچ پیدا کرتی ہے، اور اب جب کہ جدید سائنس اور ترقی کے نتیجے میں یورپ کی زندگی میں مذہب کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے ، تو اب ہمیں ایک نئی سوچ ڈھونڈھنی پڑے گی کہ جس کی بنیاد پر ہم اپنی زندگی کو بدرجہ اتم قائم کرسکیں۔فریڈرک نطشے کا یک مشہور مقولہ ہے کہ ”  God  is  dead” – اس سے فریڈرک نطشے کی یہ مراد نہیں تھی کہ واقعی اصل خدا مرگیا ہے بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی سے خدا کو نکال دیا یعنی زندگی گزارنے کے اصول و ضابطے و قوانین،  مذہب کے بجائے خود سے طے کرنے ہوں گے، اس نے ایک سپر مین کاتصور دیا  ، جو انسان کا خودکار تصور تھا   جو Will  to  Power کے تصور پر تھا  یعنی انسان میں یہ طاقت ہونی چاہیے کہ وہ اقتدار کی قوت حاصل کرے، جو بھی شخص سماج میں طاقتور بن سکتا ہے  اور جو چیز آپ کو طاقتور بناتی ہے وہ اچھی ہے اور جو کمزور بناتی ہے وہ بری ہے  ( یعنی اس کا ماننا  تھا چونکہ عیسائیت غلامانہ سوچ پیدا کرتی ہے اس لئے مذہب کی ضرورت نہیں ہے)۔نطشے کے فلسفے کے مطابق طاقت ہی اصل اچھائی کا محور ہے۔فریڈرک نطشے کی آئیڈیالوجی  ہی فسطائیت تحریکوں کی بنیاد  بنی تھی، اس کے بنیادی پیروکاروں کا تعلق Anti   Conservative  سے تھا، جو اپنی روایتی فیملی اسٹرکچر، روایات و اقدار کے مخالف تھے، جنگ عظیم دوئم کے بعد وسط یورپ میں کافی  سماجی و معاشی   پیدا ہوئے تھے جن میں  جرمنی و اٹلی شامل تھے، لیکن جو وکٹورین ممالک تھے جیسے فرانس اور برطانیہ میں اتنے مسائل نہیں تھے لیکن وسط یورپ میں کافی مسائل پیدا ہوئے تھے، جو حکومتیں بنی تھیں وہ انسانی اور معاشی  مسائل کا تدارک کرنے میں ناکام تھیں، علاوہ ازیں یورپ کو ایک اور بڑے مسئلے  کا سامنا تھا جو مزدوروں کی تحریکیں تھیں، جو بہت تیزی سے ابھر رہی تھیں،سنہء ۱۹۱۷  میں روس میں بالشویک انقلاب آ گیا اور سوویت یونین نے کئی اور متصل ریاستوں میں سوشلزم قائم کردیا جو سوویت یونین کا حصہ بھی نہیں تھے، یعنی وہ یورپ کا رخ کرتے نظر آرہے تھے، فرانس، اٹلی جرمنی اور برطانیہ میں بھی مزدوروں اور کسانوں کی تحریک ابھرنا شروع ہوگئی تھیں۔

اٹلی کے اندر سب سے پہلی فسطائیت کا آغاز ہوا، اس کا پہلا بانی  “Banito  Mussolini”  بینیٹو مسولینی تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ مسولینی پہلے خود سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا ، مگر وہ سوشلسٹ پارٹی سے اس بات پر خفا تھا کہ  سوشلسٹ پارٹی نے اٹلی کے حکمران طبقے کا جنگ عظیم اول میں ساتھ دینے کے بجائے  ان کی مخالفت کی تھی، اسی بنیاد پر اس نے اپنی فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، اس جماعت کے پیروکار سیاہ شرٹ پہنتے تھے۔جو  Black  Shirt  Movement تھی، اس کا دعوی تھا کہ ہم اٹلی کو عظیم ملک بنائیں گے، انہوں نے اپنا سب سے بڑا مخالف کمیونزم اور سوشلزم کو قرار دیا۔اس وقت تک پورے یورپ میں مزدوروں کی یونین کافی منظم اور طاقتور ہوتی نظر آ رہی تھیں ، مسولینی کی تحریک کے پیروکاروں نے سب سے پہلے یونین توڑنے اور حتی کے مزدوروں کو مارپیٹ کے ذریعے مختلف اداروں اور علاقوں سے بھگانے کا آغاز شروع کردیا۔ اور وہ علاقے اپنے کنٹرول میں لینے شروع کردیئے، اس تحریک کی اثر اندازی کو دیکھ کر وہاں کے بڑے سرمایہ دار، زمیندار اور جاگیرداروں نے مسولینی کی Black  Shirt Movement کا ساتھ دینا شروع کیا اور بے تحاشا مالی امداد بھی کی، اس لئے کہ Black  Shirt  Movement, مزدوروں ، ٹریڈ یونین، کمیونسٹ، سوشلسٹ اور بائیں بازو کی تحاریک کو توڑ رہے تھے۔

فسطائیت کی پہلی  بنیاد ہی دائیں بازو کے حق اور بائیں بازو کی تحریکوں کی مخالفت میں تھی، آہستہ آہستہ مسولینی نے طاقت پکڑنی شروع کردی تھی، اور اس کے خیالات اٹلی سے نکل کر جرمنی اور دوسرے یورپین ممالک تک پہنچنے لگے، چونکہ جرمنی بھی جنگ عظیم اول   کے بعدسماجی اور معاشی انتشار کا سامنا کر رہا تھا، وہاں پر ایک لبرل حکومت ” Weimar  Republic”  قائم تھی، اس کے خلاف ایڈوولف ہٹلر”  Adolf  Hitler”نے اپنی پارٹی بنائی جس کا نام “National   Socialist  German  Workers  Party” تھا،اسی کا مختلف ” نازی”  Nazi  Political  Party ہے ،  یہ ایک حیران کن بات ہے کہ اس پارٹی میں سوشلسٹ اور   مزدور  سب ہی تھے، یہ اپنے آپ کو سوشلسٹ اور ورکرز کہتے تھے، کیونکہ یہ  بھی مسولینی  کی تحریک کے طرز پر مزدوروں یا ٹریڈ یونین  میں اپنے آپ کو مزدور کہہ کر داخل ہو کران کی تنظیموں کو توڑتے تھے، انہوں نے اپنا نشان “Brown  Shirts  Movment “کے طور پر متعارف کروایا تھا، اور ان کو بھی وہاں کے مقامی سرمایہ دار، جاگیردار اور زمینداروں نے ہر طرح کا ساتھ دیا اور    مالی امداد بھی کی۔سنہ ء۱۹۳۳ میں ہٹلر الیکشن تو نہ جیت سکا مگر پارلیمنٹ تک پہنچ گیا اور اس کے پاس دو تہائی اکثریت تھی،اس” Weimar Republic  “میں جب چانسلر نے استعفی دیا تو ہٹلر کی طاقت دینی شروع کردی، اسی اثناء میں پارلیمنٹ پر ناگہانی حملہ ہوا اور آگ لگ گئی، اور ہٹلر نے اس کا الزام جرمن کمیونسٹ پارٹی پر  لگایا  اور پارلیمنٹ معطل کرکے جرمن کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگادی، اور تمام پارلیمنٹ کے حزب اختلاف کو مکمل طور پر ختم کردیا ، ہٹلر نے عوامی اختیارات کو ختم کرکے انڈسٹری کو کنٹرول کیا اور ایک  “Plant  Economy” ترتیب دی( لیکن یہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے حق اور مفادات  میں بنایا گیا اکانومی پروگرام تھا) اور اس کے بعد    یہ اعلان کیا کہ اب ہم مشرقی یورپ اور مکمل یورپ میں پھیل جائیں اور یورپ کے  مکمل  کنٹرول  کے لئے جنگ کریں گے، ابتدا  میں ہٹلر کوحیرت انگیز کامیابی بھی ملی، ہنگری کے شاہی خاندان اور جاگیرداروں نے ہٹلر کی طاقت کو دیکھتے ہی اس کو قبول کرلیا، خاص طور پر  نسل در نسل جاگیردار  اور سرمایہ دار  خاندانوں نے فوراً  ہی ہٹلر کا ساتھ دینا شروع کردیا،لبرل طبقات غیر جانبدارانہ رویہ رکھے ہوئے  تھے، سوائے بائیں بازو کے طبقات نے فسطائیت کی اس تحریک کی مخالفت جاری رکھی لیکن فسطائیت پورے یورپ میں بہت تیزی سے پھیلنے لگی، بالآخر ہٹلر نے فوجی دستوں کو چیکوسلواکیہ  ، پولینڈ اور یورپ کے کئی حصوں تک کامیابی حاصل کرلی، پھر فرانس پر حملہ کرکے مکمل کنٹرول حاصل کیا اور برطانیہ پر حملہ کردیا ابھی مکمل طور پر برطانیہ کا کنٹرول حاصل کرنے  سے پہلے ہی ہٹلر نے سوویت یونین پر بھی حملہ کردیا، اور تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ، جنگ عظیم دوئم ہوئی، جس میں لگ بھگ ۵۰،۰۰۰ لوگ مارے گئے، مگر آخر میں کامیابی سوویت یونین  اور فرانس اور جرمنی کے اتحادیوں کو ہوئی، فرانس اور جرمنی کے وہ طبقات جو ہٹلر اور فسطائیت کے خلاف تھے انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ ایک معاہدے کے ساتھ اتحاد بنا لیا تھا۔

جنگ عظیم دوئم کی تباہ کاریوں  کو دیکھ کر یورپ  کے تمام ہی ممالک اس بات پر یکجا ہوئے کہ نظریہ فسطائیت ایک برا نظریہ ہے اور آئندہ کبھی ایسی فسطائیت کی قوتوں کو نہ ہی پنپنے دیا جائے  گا اور نہ ہی ان کو اقتدار کا راستہ  دکھایا جائے گا ، حتی کہ یہ لفظ “Fascist” یورپ میں ایک گالی اور تہمت بن گیا۔کیونکہ یورپ نے فسطائی تحریک کو ہی جنگ عظیم دوئم کا ذمہ دار اور اس جنگ کی تمام جانی اور مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔اور  آج کا یورپ  جمہوریت اور سوشلزم کے موجود ہ نظام کی کامیابی کے لئے جنگ عظیم دوئم کی ان ۵۰،۰۰۰ انسانی جانوں کی قربانیوں کو احسان مانتا ہے۔

فاشزم ایک دائیں بازو کی تحریک تھی، جو کہ نیشنلزم کے نام پر آمریت قائم کرنا چاہتی تھی، اور بنیادی طور پر وہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ کے خلاف قائم ہوئی، لبرل نے اس پر اپنا موقف غیر جانبدارانہ یا بزدلانہ رکھا، لیکن فسطائی نظام، لبرل کا بھی مخالف رہا، یعنی لبرل اور سوشلسٹ دونوں ہی فسطائیت کی زد میں تھے۔

لیکن سب سے اہم بات فسطائیت کاطبقاتی کردار  یہ تھا کہ وہ بنیادی طور پر سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور زمین داروں  یعنی ہر طرح کے اشرافیہ کے مفادات کی تحریک تھی، جو نہ جمہوریت پر ، اور نہ ہی ٹریڈ یونین اور بائیں بازو کی کسی تحریک کو قبول کرتے تھے۔

SHOPPING

(نوٹ! فسطائیت کی اس تعریف کو ہم پاکستان کے تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں ، پاکستان کے تقریباً  تمام ہی ادارے، اور سیاسی جماعتیں  قریب قریب  فسطائیت کا شکار ہیں۔)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فسطائیت کیا ہے ۔۔منصور ندیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *