تجھے اس لئے نکالا ہے۔۔محمد عبدہ

 نوزائیدہ بچوں کی وفات میں دنیا کے 194 ممالک میں پاکستان کا پہلا نمبر ہے ،فی ایکٹر پیداوار میں پاکستان دنیا کے 208 ممالک میں آ خری نمبر پر ہے۔ دنیا کے بدترین پاسپورٹ میں افغانستان پہلے اور پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ دنیا کے 175 ممالک میں سے کرپشن میں پاکستان کا نمبر 126 ہے۔ بھوک کے شکار 118 ممالک میں سے پاکستان 11 نمبر پر ہے۔ پاکستان میں 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ پاکستان میں 8 فیصد بچے 5 سال سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ صحت کی سہولیات میں پاکستان کا نمبر 188 ممالک میں سے 147 ہے۔ مجموعی تعلیم معیار میں پاکستان 196 ممالک میں سے 158 نمبر پر ہے۔ اعلی تعلیم میں پاکستان کا 140ممالک میں 124 نمبر ہے۔ پرائمری تعلیمی معیار میں پاکستان دنیا سے 40 سال پیچھے ہے۔ سیکنڈری تعلیمی معیار میں پاکستان دنیا سے 65 سال پیچھے ہے۔ پاکستان میں گردوں سمیت انسانی اعضاء کی خریدوفروخت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہورہی ہے۔ سٹیل مل و دیگر اداروں نے سالانہ 600ارب کا نقصان کیا ہے۔ وزیر نجکاری سالانہ 5500 ارب کی خریداری میں 800 ارب کی کرپشن ہورہی ہے۔ سینٹ کمیٹی کا انکشاف۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16.5 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ تجارتی خسارہ اس سال 27 ارب ڈالر اور 5 سال میں ٹوٹل 125 ارب ڈالر رہا۔ دنیا کے 84 ممالک سے تجارت خسارے میں رہی۔ میٹرو بس لاہور کا خسارہ 5 سال میں 14 ارب روپے ہوگیا۔ لاہور سمیت 5 بڑے شہروں میں پینے کا پانی مضرصحت قرار دیا گیا۔ ملک کا 82 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے ۔پنجاب میں سالانہ 45000 طلبہ تعلیمی سہولتیں نہ  ہونے کے سبب سرکاری سکول چھوڑ کر پرائیوٹ سکولوں میں چلے گئے۔ محکمہ ایکسائز موٹر برانچ لاہور ساہیوال میں کروڑوں کی کرپشن۔ کسی کے خلاف کاروائی نہ  ہوئی۔ پنجاب میں سرکاری ہسپتالوں میں 67 فیصد ادویات ناقص خریدی جارہی ہیں۔ پاکستان میں 6 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ ہوگئی۔ سالانہ 5 لاکھ کا اضافہ ہورہا ہے۔ وزارت آئی ٹی میں ایک سال میں 130 ارب کا نقصان ہوا۔ ڈیم نہ  ہونے سے سالانہ ایک کھرب 32 ارب کا پانی ضائع ہورہا ہے۔ دنیا میں گردوں کا %85 کاروبار پاکستان میں ہوتا ہے۔ تجھے اس لئے نکالا ہے!!!

یہ بھی پڑھیں :  خان کے جانثاروں کی ایک خفیہ میٹنگ۔۔روبینہ فیصل

پاکستان میں %22 عوام غذائی قلت کا شکار ہے۔ پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کا دوسرا بدترین پاسپورٹ ہے۔ تجھے اس لئے نکالا ہے۔ پاکستان میں صحت کا معیار 188 ممالک میں سے 153 نمبر پر ہے۔ پاکستان گھٹیا پٹرول استعمال کرنے میں صومالیہ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اکرین کے مطابق 2030 تک پاکستان کا شمار دنیا میں پانی کی قلت سے دوچار 33سرفہرست ملکوں میں کیا جائے گا۔ پاکستان میں گزشتہ 40 سال کے دوران پانی کی کوئی نئی ذخیرہ گاہ تعمیر نہیں ہوئی پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 15.75ملین ایکٹ فٹ سالانہ ہے جو کم ہوکر 13.7 ملین ایکڑ فٹ کی سطح پر آگئی ہے۔ تجھے اس لئے نکالا ہے۔

وزیر تجارت پرویز ملک نے بتایا کہ 2016/17 میں چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 12 ارب 67 کروڑ ڈالر ہوگیا جو ایک سال پہلے 16-2015 میں 10 ارب 43 کروڑ ڈالر تھا۔ تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 15-2014 میں چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 8 ارب ڈالر اور 14-2013 میں 5 ارب 35 کروڑ ڈالر رہا جبکہ 13-2012 میں یہ خسارہ 4 ارب ڈالر تھا۔ بھارت کے ساتھ تجارت میں بھی پاکستان مسلسل خسارے میں جارہا ہے۔ چار سال میں بھارت سے 7 ارب 34 کروڑ ڈالر کا سامان منگوایا گیا اور اس کے ساتھ تجارتی خسارہ 5 ارب 94 کروڑ ڈالر رہا۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے سرمایہ کاری کے لحاظ سے قابل عمل نہ ہونے پر 1 سال کے دوران ملک بھر میں 100سے زائد فرنچائزز کولائسنس منسوخ کرکے بند کردیا، ان اسٹورز کو معیار پر پورا نہ اترنے اور فروخت مسلسل کم ہونے پر بند کیا گیا جبکہ یوایس سی کی 1300سے زائد فرنچائزز میں سے صرف 800کے قریب فنکشنل ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کی جانب سے بجلی کی تقسیم وترسیل کے نقصانات کی مقررہ حد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی خزانے کو 48 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ بجلی کے ناقص ترسیلی نظام کی وجہ سے عوام کوایک ماہ کے دوران 2 ارب 14 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرناپڑا ہے۔

گزشتہ ماہ 33کروڑ یونٹس بجلی چوری اورلائن لاسز کی نذر ہوگئے۔ پاکستان کی برآمدات کا 57 فیصد ٹیکسٹائل پر مبنی ہے لیکن گزشتہ 7 سال کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں11 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اور گزشتہ 5سال کے دوران پاکستان میں 601 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئی ہیں۔ کمپنیوں کے بند ہونے کو اگر سال وار دیکھا جائے تو مالی سال 2013میں 181 اور 2014 میں 189 اور 2015 میں 105 اور 2016 میں 84 اور 2017 کے دوران 42 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئیں۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16سے 16.5ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس سے سرکاری ذخائر کی مالیت میں 3ارب ڈالر تک کمی ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں سرکاری ذخائر سے 3 ماہ کا درآمدی بل ادا کرنے کی گنجائش برقرار نہیں رہے گی اور خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت 11ارب ڈالر قرضہ لینے کا پلان بنا رہی ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کمپنی کے گردشی قرضے 248 ارب روپے تھے جو بڑھ کر 302 ارب روپے ہو چکے ہیں۔ وزارت پانی و بجلی نے اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ موجودہ حکومت نے 480 ارب روپے کے زیر گردش قرضے کلیئر کیے گئے تھے لیکن یہ دوبارہ 401 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کی مد میں 237 ارب روپے ادا کرنے ہیں جبکہ گیس کی مد میں 11 ارب روپے اور تیل کی مد میں 99 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔

Avatar
محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *