خان کے جانثاروں کی ایک خفیہ میٹنگ۔۔روبینہ فیصل

“گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف رخ کرتا ہے”۔خان صاحب کی موت آتی ہے تو وہ شادی کھڑکالیتے ہیں۔
شش!!!خاموش آواز باہر نہ جائے۔۔۔۔
“چاکا،ایک دفعہ کا ہی ہو تا ہے”۔ ایک وہ سنہری دور تھا جب،سب کی زبان پر ایک ہی سوال ہو تا تھا:” خان صاحب آپ شادی کب کر یں گے؟” اور ایک آج سیاہ دور ہے جب،سب پوچھ رہے ہیں “خان صاحب آپ شادیاں کر نے سے رکیں گے کب؟
لیکن اب خان صاحب کا شادیو ں کا ڈکا کھل گیا ہے، اورشادیاں دھڑ ا دھڑ وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔
شش!!۔۔۔
خان کو لگتا ہے کسی نے چابی بھر دی ہے اور جب تک یہ چابی بھری رہے گی، یہ بڈاوا اچھل اچھل کر سہرے باندھتا اور اتارتا رہے گا۔
ایک کینیڈین نوجوان نے کہا:
Is this man insane?۔۔کتنی شادیاں کرے گا؟ پھر ترس بھری نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا اور پو چھا: کیسا لگ رہا ہے،جس کے پیچھے آپ 10سالوں سے انکلز کے ساتھ لڑ رہے ہیں، and he proved such a hopless
باپ: کھسیانی ہنسی اورلمبی کہانی۔۔

شیخو کمینہ نے ہی کہا ہو گا۔ خان صاحب شادی کے لئے دو فریقین ہو تے ہیں، ایک تو آپ ہو گئے دوسرا کوئی بھی۔۔۔خان صاحب نے بات پلے سے باندھ لی بس۔۔۔
پھر حلوہ کھانے والے مولوی نے کہا ہو گا۔۔۔اسے حلال کر لیا کرو، ملا کی جاب بھی پکی، اور خان صاحب کے سر سے گناہ کا بوجھ اتر گیا۔ آخرکو اسلامی ملک کے لیڈر ہیں، نوجوانوں کے رول ماڈل اوراس طرح ہلکے پھلکے سے خفیہ نکاح وقو ع پذیر ہونے لگ گئے۔
خفیہ نکاح؟۔۔
شش شش!

یہ نکاح آج کل پاکستان میں بہت عام اور ہر دلعزیز ہو چکا ہے۔اور اس نکاح کے کرتے ہی ظاہر ہے مرد اور عورت،ایک دوسرے پر حلال ہو جاتے ہیں مگر اس نکاح کو نا تو رجسٹر کرایا جا تا ہے اور نہ ہی دنیا کے سامنے لا یا جاتا ہے۔ یہ تو صرف اللہ جی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے غریب ملک کے غریب مسلمانوں کی ایک ادنٰی سی کو شش ہے کیونکہ یہاں (کینیڈا) کے باسیوں کی طرح وہ اتنے گستاخ نہیں ہوتے کہ اللہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گناہ کر یں کہ’ جا!کر لے جو کر نا ہے، ہم کسی سزا جزا کونہیں مانتے،ہماری تقدیر ہماری مٹھی میں ہے اور ہم اپنی مٹھی میں ہیں اور بس۔۔۔نہ جی!!ایسی گستاخی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ممکن نہیں۔ وہ تو خدا کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں، آخر کار خدا ہے بھی تو صرف مسلمانوں کا، ہم ہی سے تو جنت کا وعدہ ہے۔ باقی کوئی جتنے بھی اچھے کام کر لے وہ بہشت کے دروازے کے دربان تو بن سکتے ہیں رہائشی نہیں۔رحمتوں کی اس گنگا میں خان ہاتھ دھو لے تو کیا؟
شش۔۔۔شش۔۔!!
مگر شادی کا معیار کیا ہے۔۔ یہ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔؟

آج تک کے حالات تو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جو بھی ناری ذرا ہشیاری سے خان صاحب کی ناک میں نکیل ڈال دے، خان صاحب اس کے ہاتھ میں اپنی باگیں بلا چوں چراں تھما کر  مدہوش ہو جاتے ہیں، تاریخ یہ ثابت کر تی ہے کہ اس” نازک عمر “میں ان کی یہ مد ہو شی تقریباً  چھ سے ایک سال تک بر قرار رہتی ہے۔۔جیسے سٹھیائی گئی عمر میں نیند بدہضمی اور ہر قسم کی گولیاں اپنا اثر، مختصر دورانئے تک بر قرار رکھ سکتی ہیں،بالکل اسی طرح۔جوانی میں یہ دورانیہ ذرا طویل ہوتا تھا۔۔۔۔
نکا ح منظر ِ عام پر کب لانا پڑتا ہے؟
رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی صورت میں ۔
اور یہ پکڑنے والے کی ہشیاری پر منحصر ہے کہ وہ اسے کب منظر پر لا تا ہے جب وہ پانی دستیاب ہو، جو خان صاحب کے شرم سے ڈوبنے اور قوم کی امیدوں پر پھیرنے کے کام آئے، تو خان صاحب کو پکڑ لیا جاتا ہے اور ایسا اکثر سردیوں میں ہو تا ہے۔۔۔ ورنہ نہ شادی گناہ، نہ طلاق۔۔ بات صرف غلط موقع  پر پکڑے جانے کی ہے۔۔سوچیں ذرا!!سب سر پکڑے سوچ رہے ہیں۔۔۔

پکڑنے والا،پرا نے کھلاڑی کو، ایسے مو قع  پر جا کر پیچھے سے ” ٹھاہ “کر تا ہے کہ خان صاحب کے ساتھ ساتھ ہمارے جیسے چاہنے والوں کا بھی” تراہ” ایک طویل مدت تک نکلا ہی رہتا ہے۔
خدا ڈنڈوں سے نہیں مارتا، عقل الٹی کر دیتا ہے۔قسم سے مجھے تو اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں سوجھ رہی، جب سے یہ خبر دیکھی ہے، بس یہی جملہ کانوں کے پردے پھاڑ رہا ہے۔۔۔ اوہ!!عقل الٹی سے یاد آیا۔۔۔یاد آتے ہی سب اپنی اپنی بولی بولنے لگے:
جس دن میں نے خان صاحب کے پہلو میں شیخو کو کھڑے دیکھا تھا، اسی دن میرے اندر خان کا بنایا بت ٹوٹ گیا تھا۔۔۔پھر بھی۔
ایک آواز:جب خان نے دھرنے میں سول نافرمانی کا اعلان کیا تھا، میرا دھڑن تختہ ہو گیا تھا۔۔۔پھر بھی
دوسری آواز:جب اس نے دوسری شادی پشاور کے ہولناک واقع  کے فوراً بعد رچائی تھی۔۔ پھر بھی۔۔
تیسری آواز:شادی تو کی سو کی۔۔ پھر اتنی انسٹنٹ طلاق۔۔پھر بھی۔۔۔
چوتھی آواز:، مگر اب کیا؟ ایسی شادی؟ خفیہ پھر سے، پھر سے جھوٹ، اتنے بڑے بچوں کی ماں؟ ۔
پانچویں آواز:اور ماں کو دیکھو۔۔۔ایسی عورت؟ اس سے شادی؟
کب تک۔۔۔”پھر بھی ” ہو گا.
خان!!۔ کب تک ہم تمھاری نادانیوں پر چوروں کی طرح منہ چھپاتے پھریں گے؟
جواب آیا : جب تک خان صاحب کا مولوی نہیں مر جاتا۔
سرگوشی میں کوئی بولا:نہیں نہیں جب تک ان کا حکیم نہیں مر جا تا۔۔۔۔۔
پکا؟۔۔۔۔۔۔۔سب چلائے
پتہ نہیں۔۔۔ جواب دینے والے نے اکتاہٹ سے کہا۔

بددعا میں بڑی جان ہو تی ہے، اگلے کا دم لے کے ہی چھوڑتی ہے۔۔۔نواز شریف جب آنکھوں میں آنسو بھر بھر کے بھرائی آواز میں آسمانوں کی طرف منہ کر کے پوچھتا تھا: مجھے کیوں نکالا،تب عرش بھی کانپ اٹھتا تھا، اور فرش بھی۔۔ اسی لئے کہتے ہیں نا کہ مظلوم کی آہ نہ لو۔غریب مظلوم کی آہ میں اتنا اثر ہو تا ہے تو سوچو ایسے بااثر مظلوم کی آہ میں اثر نہیں ہو گا؟
عمران خان کو ہو کیا جاتا ہے۔۔ معصوم لٹیروں کو تنگ کر ے گا تو ایسے ہی اسے غلط موقع  پر، غلط طریقے سے، غلط بندے کے ساتھ شادی آئے گی۔
تو خان نے پیر کر نے میں غلطی کر دی؟
اصل پیر تو نواز شریف ہوا۔۔ہے نا؟۔
ہاں پیر تو وہی ہوا مگر اس سے شادی تو نہیں ہو سکتی تھی نا۔۔۔
کیا بک رہے ہو سب۔۔۔
پتہ نہیں خان کیوں بھول جا تا ہے کہ وہ شہبا ز شریف نہیں ہے، جنہیں لوگ اپنی ووہٹی اور ووٹ دونوں ہنس کے دے دیتے ہیں۔
ان معصوموں سے تو کسی کو امید نہیں ہوتی، اس لئے ٹوٹنے کا سوال ہی نہیں ہوتا،خان تو ہی تھا جوسب پڑھے لکھے لوگوں کی امیدوں کا مر کز تھا تو نے تو چچھوری حرکتوں سے مرکز ہی ہلا دیا۔ ہم سب زمین دوز پڑے ہیں۔
یار مجھے کسی اچھے سے post trauma therapist کا پتہ دو۔۔
کیا کوئی پاکستان جا رہا ہے مجھے laxotinal منگوانی ہے، ختم ہو نے والی ہے۔۔۔
ہائے او ربا!! تجھے سوجھتی کیا ہے خان۔۔۔؟
یہ سوال پانی بن کر چاہنے والوں کی آنکھوں میں مچل رہا ہے۔ نہ آنکھ سے گر رہا ہے، نہ لب سے نکل رہا ہے۔۔ بس گم سم، ہکے بکے، ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں۔
چلو خان کو خوابوں کی تعبیر اب بتا نے والی آگئی۔۔۔
کیا کسی خواب کی تعبیر وہ یہ بتائے گی کہ اگلا وزیر ِ اعظم عمران خان ہے؟
آنکھوں میں پھر سے موتی چمکے۔۔
پتہ نہیں یار۔۔۔آنکھیں پھر بجھ گئیں۔
مجھے تو فی الحال اپنی پچیس سال پرا نی شادی زہر لگ رہی ہے۔ایک عمر رسیدہ عورت بولی۔
یار میری بیوی بھی بڑی منحوس ہے، بڑی چڑ چڑ کر تی ہے۔۔۔۔
اور سب کو اپنے اندر ایک نیا جوش، ایک نئی تبدیلی محسوس ہو ئی۔۔۔۔۔۔مرد ہوکہ عورت سب پرستاروں کے دل میں خیال آرہا ہے کہ:
“اب تو بدل ہی لوں۔۔۔”!

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”خان کے جانثاروں کی ایک خفیہ میٹنگ۔۔روبینہ فیصل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *