اب کس کی زبان بولیں گے؟۔۔شاہد یوسف خان

پاپا کیا میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں؟
وٹ آر یو آسکنگ بیٹا، یو آر مائی سن، آئی لو یو۔۔”نہیں پاپا آپ ہم سے اور لینگویج میں بات کرتے ہیں اور ماما سے اور لینگوئج میں
باپ کچھ سوچنے کے بعد ۔۔۔
بیٹا وہ تو ہم اپنی زبان میں بات کرتے ہیں
پاپا تو پھر ہم سے دوسروں کی زبان سے کیوں؟
شرمندہ ہونے کے بعد۔۔۔” آپ کی لینگویج جو ہے وہ  سکول والی ہے اور ہم گھر والی زبان میں بولتے ہیں”
“پاپا پھر تو غلط ہے ہمیں  سکول والی زبان بھی اچھی طرح سمجھ نہیں آتی اور نہ گھر والی”
“یار تم کیوں آج یہ سوال پوچھ رہے ہو؟ ”
ہمارے  سکول میں  لینگویج کے حوالے سے ایک پروگرام ہوا ، مجھے تو پتہ ہی  نہیں ہے “مدرز لینگویج کون سی ہے میری؟ ”
‘بیٹا آپ کی  مدر لینگویج پنجابی  ہے”

“پاپا مجھے تو وہ آتی نہیں ہے”۔۔۔۔۔

یہی سلوک ہے ہمارا ہماری زبان کے ساتھ۔۔اور اب اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ قومی زبان کو ہی یکجہتی کی مثال بنایا جائے گا تو یہ خیال بھی ترک کردیجیئے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے  کہ قومی زبان کو مکمل دفتری زبان بنایا جائے مگر اگلے جج نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔انگریزی زبان  کو ہم اب اپنی زبان کا حصہ بنانے کے چکر میں تھے اس صورتحال میں چین نے سی پیک  کی مد میں اب چینی زبان بھی پاکستان میں پڑھانے کی ٹھان لی ہے جس کا ثبوت دو روز پہلے سینٹ میں  چینی زبان کو آفیشل زبان کے طور پر منظور کیا جا چُکا ہے۔

ماں بولی یعنی مدرز لینگوئج ہمارے پاس ایک ایکسٹرا کوالٹی ہے جو احساس کمتری کی نظر نہ کردیں بلکہ اپنے گھروں میں نافذ کریں، اس سے محبت کریں یہ رب کی نعمت ہے۔
بچوں کو کنفیوژ نہ کریں، گھر میں ماں بولی کا استعمال کریں اگر آپ اُردو انگریزی یا عربی سیکھ سکتے ہیں تو بچے بھی حسب ضرورت سیکھ جائیں گے ۔

Save

شاہد یوسف خان
شاہد یوسف خان
علم کی تلاش میں سرگرداں شاہد یوسف خان ایم اے سیاسیات اور صحافت مکمل کر چُکے ہیں ۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر سوالات کرتے رہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *