الوداع عاصمہ۔۔۔انورسن رائے

عاصمہ جہانگیر کو وداع
تم بھی چل دیں
پیچھے کیا ہے
اب کیا ہو گا
ظلم جہالت کے اندھیارے
پھیل رہے ہیں چار چوفیرے
تم ہی تھیں جو دئیےکی مانند
لڑتی تھیں کہ آئیں سویرے
اب کیا ہو گا
کون کرے گا
کون لڑے گا
چاروں جانب تھے سناٹے
تھی تیری آواز سہارا
بولے گا اب کون کہ گونگے
مردوں کی رہبر بھی تم تھیں
ساتھیوں کی امید بھی تھیں اور
لڑکیوں کی چادر بھی تم تھیں
اب کیا ہو گا
کون کرے گا
کون لڑے گا
(انعام رانا کی پنجابی نظم کی متبادل اردو صورت)
عاصمہ جہانگیر نوں رب راکھا۔۔۔ انعام رانا
ٹُر چلّی ایں
پِچّھے کی اے
کی ہوئے گا
ظلم، جہالت دے اندھیرے
پھیلی جاون چار چفیرے
تو ہی تے اک دیوا بن کے
لڑدی سیں کہ آن سویرے
کی ہوئے گا
کون کرے گا
کون لڑے گا
چاروں پاسے سن سناٹے
تیری سی آواز سہارا
بولے گا ہن کون کہ گونگے
مرداں دی رہبر وی تو سیں
رلّیاں دی امید وی سیں
کڑیاں دی چادر وی تو سیں
کی ہوئے گا
کون کرے گا
کون لڑے گا
انعام رانا

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *