آدھی چھٹی ۔۔۔۔صادقہ نصیر۔

آدھی چھٹی ۔۔۔۔
محفل عروج پر تھی
اور
ہم نے معذرت کرکے رخصت لی۔
اب
اپنی ذات کی انجمن میں
رونق افروز ۔
خوب بھرا میلہ ہے
ادھر بھی۔
نہ کسی معصوم بھروسے کے
ٹوٹنے کا ڈر۔
نہ حسن ظن،
نہ بدظن خیال ۔
کسی نادانستہ غلطی کا
احساس جرم۔
نہ بے اعتنائی کا قلق،
نہ ہی کشکول کی حاجت ۔
نہ وضاحت، نہ جراحت کردار ۔
نہ انگشت بدنداں حیرانی۔
اپنی ذات کی بزم میں عجب تریاق زہر ہے
کہ موت کے حلق میں اترنے سے پہلے
امرت بن کر زندہ کردے۔
شہر کے ہاتھوں پر
نشان مل بھی جائے تو کیا؟
نہ منصف کی تمنا
نہ میزان پر دستک۔
کوئی شکوہ نہ
دل میں رکھی کسی کی بات بے بات ان کہی چبھن ۔
اپنا آئینہ ،اپنی مسکراہٹ ،اپنی گنگناتی ذات۔
بڑی ہی بے ضرر سی، شوخ و چنچل ہے۔
اپنی ذات کی انجمن۔
جیسے کسی مکتب کے بچے
آدھی چھٹی پر میدان میں اترے ہوں ۔
صادقہ نصیر۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply