• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مارکسی تاریخی مادیت کا فکری و تجزیاتی مطالعہ /محمد فاروق نتکانی

مارکسی تاریخی مادیت کا فکری و تجزیاتی مطالعہ /محمد فاروق نتکانی

یہ مقالہ مارکسی تاریخی مادیت (Marxist Historical Materialism) کے نظریاتی اصولوں اور اس کے عملی اثرات کا تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔
مقالے میں یہ سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ انسان کے خیالات (human consciousness) اور اس کے اعمال (human actions) کس حد تک خودمختار ہیں اور کس حد تک معروضی مادی حالات (material conditions) کے تابع ہیں۔
تحقیق میں Marx، Engels، Lenin، Gramsci، اور Althusser کے نظریات کا تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ تاریخی مادیت کی بنیادوں، اس کے موضوعی اور معروضی عوامل، اور انسانی آزادی و شعور کے تعلق کو جامع انداز میں سمجھا جا سکے۔
یہ مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ تاریخ میں انسان کا کردار بنیادی ہے، مگر اُس کی آزادی ہمیشہ معاشی اور سماجی ڈھانچوں کے اثر میں محدود رہتی ہے، اور یہی اصول تاریخی تجزیے میں مارکسی نقطہ نظر کی بنیاد ہے۔

فلسفہ اور تاریخ کے مطالعے میں ہمیشہ یہ بحث رہی ہے کہ انسان کی تاریخ کس بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔
آدرشوادی (Idealist) نقطہ نظر ہمیشہ یہ سوال اٹھاتا ہے:
“لوگ کیا سوچتے ہیں اور کس طرح سوچتے ہیں؟”
اس زاویے سے تاریخ اور سماج کو انسانی خیالات (ideas) کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے، جبکہ مادّیت کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے (Hegel, 1807).

مارکس وادی نقطہ نظر اس مفروضے کو چیلنج کرتا ہے اور کہتا ہے کہ انسانی شعور کسی ماورائی یا مجرد سرچشمے سے نہیں نکلتا۔
بلکہ یہ انسانی زندگی کے معاشی و سماجی حالات سے جڑا ہوتا ہے (Marx, 1859).
انسانی اعمال (human actions) اور خیالات ہمیشہ معاشرتی ڈھانچوں (social structures) اور معروضی حالات (material conditions) کے اثر میں ہوتے ہیں، اور یہی مارکسی فلسفہ کی بنیاد ہے۔

اس مقالے کا مقصد تاریخی مادیت کے نظریاتی اصولوں کا تفصیلی مطالعہ کرنا،
موضوعی و معروضی عوامل کے باہمی تعلق کو سمجھنا،
اور انسانی آزادی و شعور کے حدود و امکانات پر تنقیدی نظر ڈالنا ہے۔

تاریخی مادیت کے مطالعے میں سب سے اہم نقطہ نظر Karl Marx اور Friedrich Engels کا ہے۔
انھوں نے انسانی شعور کو معاشرتی وجود (social existence) سے جدا نہیں کیا اور کہا کہ “the mode of production of material life conditions the social, political, and intellectual life process in general” (Marx & Engels, 1848, p. 27).

Lenin نے Marx اور Engels کے نظریات کو مزید سیاسی اور عملی تناظر میں وضاحت دی، اور کہا کہ معاشرتی انقلاب کے لیے شعور (consciousness) کو عوامی جدوجہد کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے (Lenin, 1902).

Antonio Gramsci نے اس بحث کو ثقافتی اور نظریاتی سطح پر وسعت دی، اور بتایا کہ ہیجیمونی (hegemony) انسانی شعور اور معاشرتی ڈھانچوں کے درمیان ایک پیچیدہ ربط پیدا کرتی ہے (Gramsci, 1971).

Louis Althusser نے Marx کے تاریخی مادیت کے تصور کو مزید نظریاتی بنیاد دی اور کہا کہ subjectivation کے عمل میں انسانی شعور ہمیشہ معاشرتی ڈھانچوں کی پیداوار ہے (Althusser, 1969).

Raymond Williams نے ثقافت (culture) کو تاریخی مادیت کے تناظر میں دیکھا اور اس بات کی وضاحت کی کہ معاشرتی ڈھانچے انسانی فکر اور شعور کی ترقی میں کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں (Williams, 1977).

یہ تمام مفکرین واضح کرتے ہیں کہ:

1. تاریخ اور انسانی شعور علیحدہ نہیں؛
2. انسانی اعمال معروضی حالات (material conditions) کے اثر میں آتے ہیں؛
3. تاریخ کی تشکیل میں انسانی آزادی محدود مگر مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔

مارکسی فلسفہ تاریخی مادیت (Historical Materialism) کے گرد گھومتا ہے، جو کہ انسان کی تاریخ کو معاشی اور سماجی ڈھانچوں کی پیداوار قرار دیتا ہے (Marx, 1859).
اس کے مطابق، انسانی شعور (consciousness) اور انسانی اعمال (human actions) محض فرد کے اختیارات نہیں، بلکہ یہ معروضی مادی حالات (material conditions) اور پیداواری تعلقات (relations of production) کے اثر میں بنتے اور بدلتے ہیں۔

متعلقہ کلیدی تصورات درج ذیل ہیں:

1. Forces of Production (پیداواری قوتیں)
انسانی زندگی کی مادّی بنیاد پیداوار کی قوتوں پر منحصر ہے، جیسے وسائل، تکنیک، اور انسانی محنت (Marx & Engels, 1848).
یہ قوتیں سماجی ڈھانچوں اور ریاستی نظاموں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

2. Relations of Production (پیداواری تعلقات)
پیداوار کے عمل میں افراد کے آپس کے تعلقات، یعنی مالک اور مزدور، سرمایہ دار اور محنت کش، وہ ڈھانچے پیدا کرتے ہیں جو تاریخی ارتقاء کا محور بنتے ہیں (Engels, 1884).

3. Base and Superstructure (معاشی بنیاد اور ثقافتی اوپرونی ڈھانچہ)
Marx نے واضح کیا کہ معاشی بنیاد (economic base) ہی سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچے (superstructure) کا تعین کرتی ہے۔
ثقافت، قانون، فلسفہ، اور انسانی خیالات اسی بنیاد کے عکس ہیں، نہ کہ علیحدہ خودمختار عوامل (Marx, 1859).

4. Dialectical Relationship (جدلیاتی ربط)
تاریخی مادیت میں موضوعی (subjective) اور معروضی (objective) عوامل ایک دوسرے کے ساتھ جدلیاتی تعلق میں ہوتے ہیں۔
انسان کے اعمال معروضی حالات سے متاثر ہوتے ہیں، اور پھر وہ اعمال ان حالات میں تبدیلی لانے کی جدوجہد کرتے ہیں (Althusser, 1969).

جبکہ ذیل میں تجزیہ و بحث یوں ہے کہ:

1. انسان کے اعمال اور معروضی حالات

مارکس کے نزدیک، انسانی اعمال (human actions) ہمیشہ معروضی حالات کے اثر میں ہوتے ہیں۔
افراد اپنی خواہشات، ارادے اور سوچ کے مطابق کام کرتے ہیں، مگر یہ کام ہمیشہ سماجی اور اقتصادی حالات کے دائرے میں رہ کر محدود ہوتے ہیں (Marx & Engels, 1848).

مثال کے طور پر، ایک مزدور (worker) کی جدوجہد صرف اُس کے ذاتی ارادے سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس کی محنت، وسائل، اور پیداوار کے نظام سے جڑی ہوتی ہے۔
اسی طرح، سرمایہ دار (capitalist) کے فیصلے بھی صرف ذاتی خواہشات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ معاشی منڈی، وسائل اور مزدور کی دستیابی کے اثر میں ہوتے ہیں (Lenin, 1902).

یہ نقطہ نظر مارکس کے human agency اور determinism کے درمیان توازن کو واضح کرتا ہے۔
انسان تاریخ بنانے والا ہے، مگر وہ محدود آزادی کے ساتھ ایسا کرتا ہے۔

2. Superstructure کا کردار

مارکس اور Engels کے مطابق، ثقافتی اور سیاسی ڈھانچے (superstructure) اقتصادی بنیاد (base) کے عکس ہیں۔
قوانین، اخلاقیات، فلسفہ، اور انسانی خیالات صرف معروضی حالات کا تسلسل یا representation ہیں (Marx, 1859; Engels, 1884).

Antonio Gramsci نے اس تصور کو ہیجیمونی کے ذریعے مزید تفصیل سے بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ معاشرتی غالب طبقہ اپنے خیالات اور ثقافت کے ذریعے اپنی حکمرانی کو برقرار رکھتا ہے، لیکن یہ حکمرانی معاشی بنیاد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی (Gramsci, 1971).

یہ واضح کرتا ہے کہ انسانی شعور کا اثر محدود اور معروضی حالات سے جڑا ہوا ہے۔
یعنی آزادی اور تخلیقیت موجود ہے، مگر وہ معاشرتی اور اقتصادی حدود کے اندر محدود ہے۔

3. فرد اور تاریخی تبدیلی

مارکس وادی کے نظریہ میں تاریخ کا تجزیہ انسانی جدوجہد کے بغیر نامکمل ہے۔
انسان صرف passive actor نہیں؛ وہ حالات کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن اس کی طاقت ہمیشہ محدود ہوتی ہے، کیونکہ پیداواری تعلقات (relations of production) اور وسائل کی تقسیم (distribution of resources) اُس کی حدود متعین کرتے ہیں (Althusser, 1969).

یہ نقطہ نظر تاریخی تبدیلی کو dialectical struggle کے طور پر پیش کرتا ہے:
انسانی اعمال ↔ معروضی حالات ↔ پیداواری تعلقات ↔ ثقافتی اور سیاسی ڈھانچہ

یہ ربط ہر تاریخی مرحلے میں مختلف شکل اختیار کرتا ہے، لیکن بنیادی اصول یہ ہے کہ انسانی شعور ہمیشہ مادی بنیاد کی عکاسی کرتا ہے۔

4. عملی مثالیں اور تجزیہ

1. Industrial Revolution (صنعتی انقلاب)
پیداواری قوتوں میں ترقی نے معاشرتی ڈھانچے اور انسانی شعور میں تبدیلی پیدا کی۔
مزدوروں کی تنظیمیں، سرمایہ دارانہ نظام، اور فلسفیانہ فکر سب معاشی بنیاد کے اثر میں پیدا ہوئے (Marx & Engels, 1848).

2. Cultural Hegemony (ثقافتی ہیجیمونی)
Gramsci کے مطابق، غالب طبقہ اپنے معاشی فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے ثقافتی اور تعلیمی اداروں کو استعمال کرتا ہے۔
انسانی خیالات اور شعور اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، اور یہ بھی معروضی حالات سے جڑے ہیں (Gramsci, 1971).

3. Modern Social Movements (جدید سماجی تحریکیں)
موجودہ دنیا میں مزدور، خواتین اور اقلیتوں کی تحریکیں بھی اسی اصول کے تابع ہیں:
ان کے اعمال اور خیالات معاشی، سماجی اور سیاسی حالات سے متاثر ہیں، اور پھر وہ انہی حالات کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں (Williams, 1977).

مارکسی تاریخی مادیت (Marxist Historical Materialism) ہمیں یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ تاریخ انسانی شعور (human consciousness) کی محض عکاسی نہیں، بلکہ یہ معاشی اور سماجی ڈھانچوں (economic and social structures) کے اثر میں بنتی اور پروان چڑھتی ہے۔
انسان کی آزادی اور ارادے کا کردار اہم ہے، مگر یہ ہمیشہ محدود آزادی (limited agency) کے تحت کارفرما رہتا ہے، کیونکہ وہ معاشی بنیاد (economic base) اور پیداواری تعلقات (relations of production) کے دائرے میں رہ کر عمل کرتا ہے۔

تاریخ کی تحلیل میں سب سے اہم اصول یہ ہے کہ موضوعی عوامل (انسانی ارادے اور شعور) اور معروضی عوامل (معاشی، سماجی اور سیاسی حالات) ایک دوسرے کے ساتھ جدلیاتی تعلق میں ہوتے ہیں۔
انسان کی جدوجہد (human struggle) اور سماجی حالات کا یہ مسلسل رابطہ ہی تاریخ کی حرکت کا بنیادی محرک ہے۔

مارکسی فلسفہ نہ صرف انسانی اعمال کی معروضی بنیاد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، بلکہ یہ انسانی آزادی، شعور، اور سماجی تبدیلی کی حدود و امکانات کو بھی واضح کرتا ہے۔
یہ نقطہ نظر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تاریخی عمل کی مکمل سمجھ کے لیے ہمیں معاشی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی عناصر کو ایک ساتھ پرکھنا ہوگا۔

لہٰذا مارکسی تجزیہ ہمیں یہ بصیرت دیتا ہے کہ:

1. انسانی خیالات معروضی مادی حالات سے آزاد نہیں؛

2. انسانی اعمال محدود آزادی کے ساتھ تاریخ میں تبدیلی لا سکتے ہیں؛

3. تاریخ کا مطالعہ موضوعی و معروضی عناصر کے جدلیاتی تعلق کو سمجھنے کے بغیر نامکمل ہے؛

4. معاشی بنیاد ہی انسانی شعور، ثقافت، اور سیاسی ڈھانچوں کا فیصلہ کن عنصر ہے۔

یہی نظریہ مارکس وادی تاریخی مادیت کا بنیادی فلسفیانہ اصول ہے، جو ہمیں انسانی تاریخ، سماجی ڈھانچوں، اور شعور کے درمیان نظریاتی اور عملی تعلق کی جامع تفہیم فراہم کرتا ہے۔

References (In-text citation format)

Althusser, L. (1969). For Marx. London: Verso.

Engels, F. (1884). The Origin of the Family, Private Property and the State. Zurich: Hottingen.

Gramsci, A. (1971). Selections from the Prison Notebooks. New York: International Publishers.

Hegel, G.W.F. (1807). Phenomenology of Spirit. Berlin: Joseph Anton Goebhardt.

Lenin, V.I. (1902). What Is to Be Done?. St. Petersburg: Zarya Publishers.

Marx, K. (1859). A Contribution to the Critique of Political Economy. Hamburg: Otto Meissner Verlag.

Marx, K., & Engels, F. (1848). The Communist Manifesto. London: Penguin Classics.

Williams, R. (1977). Marxism and Literature. Oxford: Oxford University Press.

julia rana solicitors london

 مارکسی تاریخی مادیت، انسانی شعور، Karl Marx، سماجی تبدیلی، معاشی بنیاد، پیداواری تعلقات، فلسفہ تاریخ، Gramsci، Althusser، مارکسزماردو،

 

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply