اردو صحافت اورمذہب۔ ڈاکٹرسید فاضل حسین پرویز

یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو کی ترقی، ترویج و اشاعت میں مذہب کا بڑا اہم رول رہا ہے۔19ویں صدی میں مسلم علمائے کرام نے اس زبان کے فروغ میں ا بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ علمائے ہند کی قرآنی خدمات نے اردو اور مسلمانوں کے درمیان رشتہ کو مضبوط بنادیا۔ مفتی اشرف علی قاسمی نے اردو زبان میں علوم القرآن کے عنوان سے اپنے مقالے میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔ (علمائے ہند کی اہم قرآنی خدمات‘ ناشر المعہدالعالی الاسلامی‘ حیدرآباد) میں وہ لکھتے ہیں کہ علمائے ہند نے عہد نبوی سے لے کر اب تک صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ عظام، فقہائے کرام، مفسرین و محققین و مدققین اور ارباب علم و دانش کی کاوشوں کو اردو میں منتقل کیا ہے۔ انہوں نے لغات القرآن، تاریخ القرآن، اصول التفسیر جیسی کتابیں تصنیف کیں۔ استاد دارالعلوم حیدرآباد مولانا سید احمد ومیض ندوی نے کنزالایمان ایک تحقیقی جائزہ کے زیر عنوان اپنے تحقیقاتی مضمون میں لکھا ہے کہ اردو زبان میں تراجم و تفاسیر کا آغاز16ویں صدی کی آخری دہائی میں ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا پہلا ترجمہ 400برس پہلے ہندوستانی زبان باکھا میں کیا گیا۔ 12ویں صدی ہجری کے اواخر میں باقاعدہ تفسیر نگاری کی بنیاد پڑی۔

شاہ مراداللہ انصاری کی پارہ عمہ کی تفسیر مرادی منظر عام پر آئی جس کی 20سال بعد 1790ء میں شاہ عبدالقادر ابن شاہ ولی اللہ کا ترجمہ و حواشی موضح القرآن وجود میں آیا۔اس کے بعد شاہ عبدالقادر شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، مولانا اشرف علی تھانوی اور دیگر حضرات کے تراجم مشہور ہوئے(کنزالایمان ایک تحقیقی جائزہ۔ مولانا سید احمد ومیض ندوی۔علمائے ہند کی اہم قرآنی خدمات۔ صفحہ 280)۔

تاریخ قرآن کے موضوع پر سید صدیق حسن نے سیر حاصل کتاب لکھی۔ ڈاکٹر صبحی صالح نے علوم القرآن لکھی جس کا اردو ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری نے 1980ء کے دہائی میں کیا۔ مولوی غلام ربانی صاحب ایم اے عثمانیہ، کی تدوین القرآن کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔علامہ تمنا عمادی پھلواروی کی کتاب جمال القرآن ہے ‘ شاہ عبدالقادر کی لغات القرآن کے موضوع پر کتاب تحریر کی اور قرآن کریم کے ترجمہ سے اردو زبان کو شرف سعادت بخشی۔ منشی ممتاز علی نے 1298ھ میں مطبع مجتمعی دہلی سے مترجم قرآن شائع کیا۔ حضرت مولانا قاضی زین العابدین سجادہ میرٹھیؒ نے مستند قرآنی ڈکشنری قاموس القرآن، ترتیب دی جو 800صفحات پر مشتمل ہے۔ مولانا آزاد نے ترجمان القرآن کے دیباچہ کے طور پر اصول تفسیر لکھی جسے دارالمصنفین حیدرآباد نے 1975ء میں اسے علیحدہ کتاب کے طور پر شائع کیا۔ مولانا سعید احمد کی فہمقرآن بھی ایک اہم کتاب ہے جس میں قرآن مجید کے آسان ہونے کی حقیقت کو دلشنین انداز میں بیان کیاگیا۔ مولانا محمد رضوان معروفی کی الاکسیر فی القواعدالتفسیر میں تفسیر کی لغوی اصطلاحی تعریف، قواعد تفسیر اور علوم قرآن کا فرق، تفصیل اور تاویل کا فرق، مقدمہ کے بعد شان نزول اور سبب نزول کو بیان کیا گیا۔ سرسید کی تحریر فی الاصول التفسیر معرکۃ الآراء تصنیف ہے جنہوں نے قرآن مجید کے خلاف عیسائی پادریوں کی مہم کا اپنے قلم سے مدلل جواب دیا۔ حضرت مولانا تقی عثمانی نے فاضل علوم القرآن کے موضوع پر دو جلدوں پر مشتمل کتابیں لکھیں جس میں تفسیر کی اہمیت اور مفسرین کی خدمات کا ذکر ہے۔ (صفحہ 41تا 47)

قرآن مجید کے اردو تراجم کی بدولت اردو کو مسلمان اپنی زبان سمجھنے لگے۔ قرآن مجید کے اردو تراجم کے لئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی تاریخ میں اس پایہ کے مفسر و محدث، فقیہ و مجتہد، مصلح و مجدد خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ (مولانا محمد عمر عابدین قاسمی مدنی کی ’’خانوادۂ ولی اللہ کی قرآنی خدمات: علمائے ہند کی اہم قرآنی خدمات۔ صفحہ 59-63)۔

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب کا ترجمہ شیخ الہند ، حضرت شبیر احمد عثمانی کی تفسیر قرآن اور شرح مسلم حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی بیان القرآن، حضرت شاہ رفیع الدین کا ترجمہ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کی معارف القرآن، مولانا عبداللہ حقانی بن محمد میر حنفی کی تفسیر حقانی، عقائد اسلام، البرہان فی علوم القرآن، مولانا عبدالماجد دریابادی کی تفسیر ماجدی۔حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی کی معارف القرآن، مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی بلند شہری مہاجر مدنی کی تفسیر’’انوارالبیان فی کشف اسرار القرآن)، مولانا ابوالکلام آزاد کی ترجمۃ القرآن، شیخ الاسلام حضرت مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ کی تفسیر ثنائی)، مولانا محمد جوناگڑھی کا ترجمہ اور تفسیر قرآن ’’احسن البیان‘‘، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی تفہیم القرآن، مولانا امین احسن بن حافظ غلام مرتضیٰ کا تدبر قرآن، حضرت مولانا احمد رضا خانؒ کی ’’کنزالایمان فی القرآن‘‘، حضرت مولانا نعیم الدین مرادآبادی کی ’’کنزالایمان کا تفسیری حاشیہ ۔ خزائن العرفان‘‘،مولانا پیرمحمد کرم شاہ الازہری کا ’’تفسیر ضیاء القرآن‘‘ قاری عبدالباری کا ترجمہ قرآن، سرسید احمد خان کی تفسیر القرآن، مولانا وحیدالدین خان کی تذکیرالقرآن، علامہ سید سلیمان ندوی کے قرآنی موضوعات پر لکھے گئے تحقیقی مضامین اور احادیث کی روشنی میں قرآن کی تفاسیر، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی قرآنی مضامین سے متعلق صراحتیں واحادیث اور قرآنی ذوق سے متعلق مضامین اور ان کی شاہکار تصنیف ’’ارکان اربع‘‘ جس میں اسلامی عبادات نماز روزہ زکوٰۃ اور حج کو کتاب و سنت یعنی قرآن مجید اور احادیث نبوی و سیرت پاک کی روشنی میں تقابلی مقالہ کے طور پر پیش کیا۔

سورہ فاتحہ اور سورہ عصر کی تفسیر۔ جامعہ نظامیہ حیدرآباد کی تفسیری خدمات شیخ الاسلام حضرت شاہ حمد انواراللہ فاروقیؒ کی جامع الکمالات‘ مقاصد الاسلام‘ تفسیرات انوار، حضرت مولانا سید شاہ محمد شطاری کا رسالہ ’’الفرقان‘‘ جو سورہ فاتحہ، الزلزال، العادیات، القاریہ، العصر کی تفاسیر پر مشتمل رہا۔ معجزاتالقرآن بھی کئی حصوں میں شائع ہوا۔ انہوں نے مقسمات القرآن جلد اول میں یہ بتایا کہ قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسم کھائی اور کیوں کھائی اور سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400برس پہلے جو پیشن گوئیاں فرمائی تھیں وہ کس طرح دور حاضر میں حیرت انگیز ایجادات و اختراعات کے ذریعہ پوری ہوئی۔ مقسمات القرآن جلد دوم میں قرآن کے معارف واسرار بیان کیے۔ علامہ سید محمد بادشاہ حسینی خطیب مکہ مسجد کی تفسیر ’’قادری، کشف القلوب‘‘۔ حضرت علامہ سید حبیب اللہ قادری کا مقدمہ تفسیر ربانی، مولانا قاری محمد عبدالباری کا ترجمہ و تفسیر قرآن ، پروفیسر ڈاکٹر سید عطاء اللہ حسینی کی سراج القرآن، مولانا خواجہ حمید احمد حسنی کی قرآنی اشارے۔ مولانا سید محی الدین قادری ہادی کی کتاب ’’قرآن اور کمپیوٹر‘‘ قابل ذکر ہیں۔ دائرۃ المعارف عثمانیہ نے بھی قرآن اور احادیث کے علوم کی ترویج و اشاعت میں اہم رول ادا کیا۔ آصف جاہ سابع میر عثمان علی خان نے جہاں قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کرایا وہیں ملک کے ممتاز علمائے کرام سے احادیث کی اردو میں تفاسیر لکھوائی اور شائع کیا۔

قرآن مجید اور احادیث کے علوم کی ترویج و اشاعت کے لئے ہند و پاک کی دینی درسگاہوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ حیدرآباد میں المعہد العالی الاسلامی، سبیل السلام، دارالعلوم حیدرآباد، مدرسہ رحمانیہ، قرآن اکیڈیمی جیسے اداروں نے غیرمعمولی خدمات انجام دیں۔ مدینہ منورہ میں مطبع ملک فہد کے قرآن پرنٹنگ پریس نے دنیا کی تمام زبانوں میں قرآن کی تفاسیر اور تراجم کی اشاعت اورمفت تقسیم کے انتظامات کئے ہیں جن میں اردو بھی شامل ہے۔

واعظ لال نے اپنی تحقیقی تصنیف ’’اردو زبان کی تاریخ‘‘ مطبوعہ 1920ء صفحات 93 میں خوب لکھا ہے کہ جب مذہب کاہاتھ کسی زبان پر ہوتا ہے تووہ زبان بہت جلد ترقی کرتی ہے۔ قرآنی تراجم، تفاسیر، احادیث اور پھر مذہبی لٹریچر کی بدولت اردو بتدریج عام ہونے لگی۔ تب سے لے کر آج تک اگر اردو زندہ ہے تو دینی مدارس کی بدولت ۔ ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں قائم دینی مدارس چاہے وہ کیرالا ہو کہ ٹاملناڈو، آسام ہو یا پانڈیچری یہ ادارے جہاں اسلام کے مضبوط قلعے ہیں وہیں غریب اور متوسط طبقے کو علم سے آراستہ کرنے میں ناقابل فراموش رول ادا کررہے ہیں۔ ان دینی مدارس میں مقامی زبانوں میں بھی تعلیم دی جاتی ہے‘ ساتھ ہی ساتھ اردو کو لازمی زبان کے طورپراختیار کیا جاتا ہے۔ ان مدارس سے ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں زیر تعلیم طلبہ مستقبل میں بھی اردو کی شمع کو روشن رکھیں گے۔ دینی مدارس کے طلبہ زبان، بیان سے بہتر طور سے واقف ہوتے ہیں۔ ان میں جہاں تقریری صلاحیت ہوتی ہے وہیں تحریری صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں۔ اوراِن صلاحیتوں کو وہ اپنے اپنے ادارے کے ترجمان اخبار یا رسالے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ہندوستان میں دینی مدارس کی صحافت کی تاریخ اچھی خاصی قدیم ہے۔ سہیل انجم نے اپنی کتاب ’’میڈیا اردو اور جدید رجحانات‘‘ میں مختلف حوالوں سے دینی مدارس و صحافت کا اجمالی خاکہ پیش کیا ہے جس میں پاکستان کے مستند مورخ اور صحافی ضیاء اللہ کھوکھر کی حال ہی میں منظر عام پر آئی کتاب ’ماہانہ رسائل کے خصوصی شمارے‘ کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ دوسری صدی کے ابتدائی 20برسوں میں مذہبی صحافت پروان چڑھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو ادب کے نشو نما مذہبی مباحث اور مناظرات کے ماحول میں ہوئی۔ ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا سیاسی غلبہ اور معاشی تسلط مستحکم ہوتے ہی عیسائی مشنریاں عیسائیت کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے سرگرم ہوگئیں۔ان کی کتابوں سے متاثر ہوکر ہندو اور مسلمان‘ عیسائی تعلیمات سے متاثر ہوکر تبدیلی مذہب پر آمادہ ہونے لگے۔ ان رسائل کے جواب اور اپنے مذہب کے دفاع میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے اپنے اپنے رسالے میدان کارزار میں اُتارے۔

ڈاکٹر طاہر مسعود ’’اردو صحافت انیسویں صدی میں‘‘ لکھتے ہیں کہ اردو صحافت میں مذہبی اخبارات کے اجراء کے رجحان نے عقائد کے ٹکراؤ سے جنم لیا۔ انیسویں صدی میں ہندومت، اسلام اور عیسائیت ایک دوسرے کے اعلانیہ حریف بن کر سامنے آئے۔ عقیدے کی جنگ دوسرے مذاہب سے بھی ہوتی رہی ہے اور اندرون مذاہب بھی ہوتی رہی۔ جیسے ہندوؤں میں برہموں سماج اور آریہ سماج میں ٹکراؤ، مسلمانوں میں اہل تشیع، غیر ا ہل تشیع یا مخالفین سرسید کے مابین ٹکراؤ۔ طاہر مسعود لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں مذہبی صحافت کی بنیاد عیسائی مشنریوں نے ڈالی۔ راجہ رام موہن رائے نے 1821ء میں عیسائی مشنریوں کے جواب میں ایک رسالہ ’’برہمونکل‘‘ نکالا تھا جو جلد ہی بند ہوگیا۔ شمالی ہند میں اردو صحافت کے آغاز کے ساتھ ہی دو پادریوں نے ’خیر خواہ ہند‘ کے نام سے مرزاپور اور بنارس سے دو ماہنامے جاری کئے۔ دہلی کے مسلمانوں میں مسلکی اختلافات پیدا ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف اخبارات کا اجراء کیا۔ شیعہ اور سنی علماء اپنے تاریخی اختلافات کو بنیاد بناکر ایک دوسرے کو مناظرے اور مباہلے کی دعوتیں دیتے۔ ان کی خبریں اخباروں میں شائع ہوتیں۔ اردو اخبارات کے ذریعہ مذہبی صحافت کا 1857کے بعد ہی ثبوت ملتا ہے۔ ضیاء اللہ کھوکھر اور ڈاکٹر طاہر مسعود (مصنف: اردو صحافت انیسویں صدی میں) نے اس وقت کی مذہبی صحافت یعنی عیسائی، مسلمان اور ہندو رسائل کی الگ الگ فہرست شائع کی ہے جس کے مطابق وہ اخبارات اس طرح ہیں:
اردورسائل سے وابستہ عیسائی:
ماہنامہ خیر خواہ ہند بنارس‘ 1837‘ ایڈیٹر: پادری شرمن
ماہنامہ خیر خواہد ہند مرزاپور‘ اگست 1837ء‘ ایڈیٹر: پادری ماتھر
ہفت روزہ مفیدالانام فتح گڑھ‘ فرخ آباد‘ 1860ء‘ مالک منشی رام سروپ‘ ایڈیٹر منشی شنکر سروپ
پندرہ روزہ خیر خواہ خلق آگرہ‘ جنوری 1862ء‘ ایڈیٹر فادر سی جے ڈابلی
پندرہ روزہ کوکب ہند لکھنؤ‘ 1869ء‘ مالک پادری سمور، مہتمم پادری ارٹی کریول
ہفت روزہ نور افشاں لدھیانہ‘ یکم مارچ 1873ء‘ ایڈیٹر بابو سنبی
ہفت روزہ وکیل ہندوستان امرتسر‘ یکم جنوری 1874ء‘ ایڈیکٹر پادری رجب علی
ہفت روزہ سفیر ہند امرتسر‘ مئی 1877ء ایڈیٹر پادری رجب علیمسلمان رسائل:
ہفت روزہ خیرالمواعظ دہلی‘ 1868ء‘ ایڈیٹر مولوی محمد ہاشم
دس روزہ منشور محمدی بنگلور‘ اگست 1872ء‘ ایڈیٹر محمد شریف
ہفتہ روزہ مہر درخشاں دہلی‘ 1874ء‘ ایڈیٹر سیدناصرالدین
پندرہ روزہ ضیاء الاسلام دہلی‘ 1875ء‘ مالک و مہتمم سید میر حسن رضوی
ماہنامہ اشاعت السنہ لاہور‘ جنوری 1878ء‘ ایڈیٹر محمد حسین بٹالوی
ہفت روزہ شحنہ ہند میرٹھ، جنوری 1883ء‘ ایڈیٹر احمد حسن شوکت میرٹھی
دس روزہ حامی اسلام دہلی‘ جون 1883ء‘ ایڈیٹر عبدالوہاب
ہفت روزہ اخبار الاخیار دہلی‘ اپریل 1887ء‘ ایڈیٹر منشی حسیب الدین سوزاں
ہفت روزہ اخبار اسلام آگرہ‘ 1892ء‘ ایڈیٹر مولوی وگرث علی
پندرہ روزہ انوارالاسلام سیالکوٹ‘ دسمبر 1898ء‘ ایڈیٹر منشی کریم بخش
اردورسائل اور ہندو صحافی:
اخبار بھارت اکھنڈامرت آگرہ‘ 1846
پندرہ روزہ کائستھ سماچار لکھنؤ‘ 1872ء‘ ایڈیٹر لالہ گوکل پرشاد
پندرہ روزہ ہادی حقیقت لاہور‘ 1873ء‘ ایڈیٹر کشیب چندرسین‘ مالک پنڈت مکند رام
پندرہ روزہ نسیم آگرہ آگرہ‘ جنوری 1878ء‘ ایڈیٹر منشی سوہن لال بابو جمناداس
پندرہ روزہ دھرم پرچارک فتح گڑھ‘ ا گست 1882ء‘ مالک انباپرشاد
ماہنامہ دھرم جیون لاہور‘ جنوری 1883ء‘ ایڈیٹر: پنڈت شیونرائن اگنی ہوتری
پندرہ روزہ دیش اپکارک لاہور‘ 1883ء مالک رائے سالک رام
ہفت روزہ آریہ متر امرتسر‘ جنوری 1884ء‘ ایڈیٹر باوا نرائن سنگھ
ہفت روزہ آریہ گزٹ فیروز پور‘ جولائی 1885ء‘ ایڈیٹر منشی گوبند لال سہارنپوری
ہفت روزہ آریہ مسافر آگرہ؍ جالندھر‘ ایڈیٹر وزیر چند
ڈاکٹر طاہر مسعود اپنی تصنیف ’اردو صحافت انیسویں صدی میں‘ لکھتے ہیں کہ ہندوؤں میں اکثر اخبار آریہ سماج، برہمو سماج، قومی سنیاس دھرم اور کھتریوں اور کائستھوں نے نکالے۔ ان میں آریہ سماجی اجرائے اخبار میں پیش پیش رہے۔ صرف پنجاب سے ان کے جاری کردہ اخبارات کی تعداد تقریباً ایک درجن ہے۔ اس دور میں سکھوں اور قادیانیوں کے بھیمتعدد مذہبی اخبارات نکلتے رہے۔

اردو صحافت کا مسلمانوں سے رشتہ!

اردو صحافت نے مسلمانوں کا مذہب سے رشتہ جوڑے رکھنے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ اردو صحافت نیجہاں تحریک آزادی میں ہندوستانی عوام میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کے جذبات بھڑکائے وہیں قومی اتحاد و یکجہتی کے جذبے بھی پیدا کئے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں میں ملی اور دینی شعور بیدار کیا۔ مسلمانوں نے جتنے بھی اخبار نکالے ان میں مذہب کو اہمیت دی جاتی رہی۔ اردو صحافت کے آغاز سے لے کر آج تک مسلمانوں کے مسائل کو پیش کرنے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے ملی رائے عامہ ہموار کرنے، ارباب اقتدار یا اسلام دشمن عناصر کی جانب سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوششوں کو ناکام بنانے میں بڑا اہم رول رہا۔ ابتداء ہی سے اردو اخبارات جرائد و رسائل میں مذہبی مضامین قرآن اور احادیث کی تفاسیر، صحابہ کرامؓ، اولیائے کرامؒ کی سیرت، مقدس راتوں، مقدس مہینوں، عیدین وغیرہ سے متعلق مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔ بعض نے خصوصی ایڈیشن بھی شائع کیے اور بعض اخبارات و جرائد نے تو اپنی پہچان مذہبی طور پر ہی کی۔

منادی، دین و دنیا، ہدیٰ، منزل، معارف، الحسنات، ذکریٰ، بتول، جیسے جرائد نے جہاں مسلمانوں میں دینی شعور پیدا کرنے میں اہم رول ادا کیا وہیں تقریباً تمام اردو روزنامے، ہفتہ وار اور پندرہ روزہ اخبارات چاہے وہ مسلم انتظامیہ کے تحت شائع ہوتے ہوں یا غیر مسلم انتظامیہ کے تحت انہوں نے جمعہ ایڈیشن کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے علاوہ شب معراج، شب برأت، شب قدر، میلادالنبیؐ، عیدالفطر، عیدالاضحیٰ، یوم عاشورہ، خلفائے راشدین کی یوم ولادت اور یوم وفات، بزرگان دین کے اعراس کے موقع پر خصوصی ایڈیشن شائع کرنے کی روایت برقرار رکھی ہے۔ رہنمائے دکن ہندوستان کا پہلا اخبار جس نے اس روایت کو شروع کیا آج ہندوستان کے سبھی اخبارات اس روایت پر گامزن ہیں۔
اردو صحافت کے لئے مذہبی مضامین نے بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ تقریباً سبھی اردو اخبارات، جرائد اور رسائل جن کے مدیران اور انتظامیہ مسلم ہے انہوں نے تو تفسیر قرآن و احادیث کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ غیر مسلم انتظامیہ نے بھی مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے عید، بقرعید، میلادالنبی ا ، عاشورہ اور مقدس نورانی راتوں کے موقع پر خصوصی ایڈیشن شائع کرنے کی روایت برقرار رکھی ہے۔ بزرگان دین کی سیرت، اعراس شریف کی خبریں اور مضامین اردو اخبارات اور رسائل کا لازمی جز ہے –

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *