اچھا تو کعبہ ” پیٹرا” میں تھا؟ شاہد خان

کچھ لوگ فقط باتیں بناتے ہیں، اعتراض کرتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ محنت کرتے ہیں۔ بھائی حسنین کے بعد محترم شاہد خان نے بھی مدلل بات کی ہے۔ مکالمہ پھل پھول رہا ہے۔ ایڈیٹر

مکالمہ پر اس حوالے سے مضمون لگا اور یہ کہا گیا کہ کعبہ تو قبل ازیں پیٹرا میں تھا۔  مضمون نگار نے محنت اٹھائی ہے۔ عاجز بھی اپنی بساط کے مطابق اس مضمون کے حوالہ سے کچھ سپرد قلم کر رہا ہے۔زیر نظر مضمون کو عاجز نے ۵ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

اول:کیا کسی تاریخی بات کے یا شخصیت کے موجود ہونے کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس زمانہ یا اس کے قریب کے زمانہ میں تاریخ دان اسکا ذکر کریں؟
اس سوال کا جواب تو نہ میں ہے ۔اور سب سے بڑی مثال ہے حضرت مریم ؑ کے بیٹے جنکو دنیا کا ایک بڑا حصہ خداوند یسوع مسیح کہتا ہے اور مسلمانوں کے نزدیک وہ اللہ کے راستباز نبی تھے۔عوام الناس کو جان کر حیرت ہوگی کہ حضرت مسیح کے دور کے تمام مشہور مورخین باوجود سلطنت روم سے تعلق رکھنے کے آنجناب کا ذکر نہیں کرتے ۔یہی وجہ ہے کہ آج عیسائیوں میںHistority of Jesusکے عنوان سے بحثیں بھی ہو رہی ہیں۔تو کیا یہ ممکن ہے کہ صرف تاریخی کتب کو بنیاد بنا کر ہم اتنے بڑے وجود کے انکاری ہو جائیں۔

دوم:  ان بڑے بڑے نامی مورخین کی تواریخ کی ثقاہت جنکا حوالہ فاضل دوست نے اپنے مضمون میں دیا۔
Nabonidus:
اسکے متعلق اسی کے کتبات میں لکھا ہے کہ عرب میں اس نے اپنے بیٹے کو تخت نشین کروایا۔اور Herodotus جو Nabonidusکے صرف ایک سو سال بعد کا مورخ ہے، وہ اتنے مشہور بادشاہ کا ذکر جابجا کرنے کے با وجود اسکے بیٹے کی عرب میں تخت نشینی کا ذکر نہیں کرتا۔اس سے معلوم ہوا کہ مورخین اپنے قریبی ادوار کی تمام باتوں کا احاطہ کرسکیں یہ ضروری نہیں۔
یہ ایک واقعاتی شہادت تھی ۔ اب ماہرین کی رائے سنیے۔ Nabonidusکے کتبات کے بارہ میں۔Livious.orgپر مفصل مضمون میں لکھا ہے
The text is badly demaged and contains many lacunas.
یعنی Nabonidusکے کتبات کی تحریر بری طرح سے شکستہ ہے اور جگہ جگہ سے باتیں محذوف ہیں۔
مزید لکھا ہے
A second reference can be found in year nine when he defeats the king of a country that can not be identified.
یہ فقرہ خورس بادشاہ کے متعلق ہے کہ اس نے ایک ایسے ملک کے بادشاہ کو شکست دی جسک ملک کا اتہ پتہ ہی کوئی نہیں۔
Herodotus:
؂اسکے متعلق ناقدین کی کیا رائے ہے سنئے۔Alan B Lloyd ۱۹۹۳ میں شائع ہونے والے مقالہ میں لکھتے ہیں کہ اس مورخ کے بیانات میں سقم پایا جاتا ہے اور Fehlingاپنے ۱۹۹۴ کے مقالہ میں لکھتے ہیں کہ Herodotus لکھتا ہے کہ Sesostris نامی فرعون یورپ پر حملہ آور ہوا اور Colchia نامی مقام پر ایک مرکز بنایا۔یہ بات بالکل غلط ہے۔
Theophrastos:
Chisholm 1911اس مورخ کے بارہ میں لکھا ہے کہ
Most of his writings are lost works.
اسی مورخ کے بارہ میں مسٹر F. Hortاپنے مضمون Hort 1916-Book 1-5میں لکھتے ہیں کہ اس مورخ کی جو تواریخ ہمارے پاس ہیں وہ اس کے لیکچرز کے نوٹس ہیں۔جملہ ایسے مبہم ہیں کہ بعض اوقت اندھیرے میں ہی رکھتے ہیں۔
Eratosthenes:
اس مورخ کی مشہور کتاب’Eratosthenes’ Geographyکو Duane.W.Rollerنے انگریزی زبان میں Princeton University Pressسے شائع کیا ۔اسکے دیباچہ میں وہ لکھتے ہیں کہ
Eratosthenes Geographika did not last long.It is probable that the work was lost by the second century A.C.
مزید لکھتے ہیں
Since there was no exixting text of the Geographika of Eratosthenes there were no early modern attempts to reconstruct it and it was not until 1789 that Gunther Carl Fridrich Seidal attempted to pull the extant fragments from those who preserved them.
یعنی خلاصہ یہ کہ اس مورخ کی دستاویزات دوسری صدی میں گم ہو ئیں اور ۱۸ ویں صدی کے آخر پر اسکو دوبارہ ترتیب دیا گیا۔یہ ہے ثقاہت کا معیار۔
:Anaxicrates
انکے بارہ میں فاضل مضمون نگار نے کہا ہے کہ “سکندر اعظم کے جاسوس تھے جنہوں نے چپہ چپہ چھان ماراپر مکہ نہ ملا”۔سو ملاحظہ ہو
Michael.D.Balharin کی کتاب Bulletin of MHO Meuseum Vol 11اس میں لکھا ہے کہ Anaxicrates بالضرور عرب کی طرف معلومات اکٹھی کرنے آئے مگر انکی روداد کے حوالہ سے تمام بڑے مورخین میں اختلاف ہے۔کچجھ یہ بھی کہتے ہیں کہ انکو سکندر نے بھیجا ہی نہیں بلکہPtolmy نے بھیجا تھا۔ایک اہم بات یہ لکھی ہے کہ انکو پینے کے پانی کی سخت قلت کا سامنا ہوا جس کے باعث یہ پانی کی تلاش میں بحری راستے سے ہوتے ہوئے یمن تک گئے۔
اب قارئین کی توجہ کے لائق ہوگا کہ پیاس سے مرتا ہوا آدمی مکہ ڈھونڈے یا پانی۔
ٓAgatharchides اورPtolmy:
مسٹر Ian.D.Morris اپنے مقالہ Tidbits of wisdom on the origins of Islam میں ثابت تو یہی کرتے ہیں کہ کعبہ اور مکہ کا وجود کوئی اصل نہیں رکھتا مگر خدا نے اس مضمون میں بھی ان سے حق کہلوا دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ قدیم تاریخ میں بحیرہ احمر کے عرب ساحلی حصہ کے متعلق کچھ تفصیل سے نہیں ملتا۔
فاضل مضمون نگار نے لکھا تھا کہ Ptolmy نے پورے علاقہ کا نقشہ بنوایا پر مکہ کا ذکر نہ کیا۔اسکے بارہ میں مسٹرMorrisکہتے ہیں کہ Ptolmyنے جو وفد بھیجا اس نے واپس آکر ایک Millitary Report پیش کی۔یہ رپورٹ غائب ہو گئی مگر  Agatharchides کی عرب اور بحیرہ احمر کے بارہ میں تحقیق کا مآخذ یہی ہے۔اب قارئین فیصلہ کریں کہ ایسی مستند تاریخ کا کیا پایہ اعتبار ہے۔
Strabo:
اگلے مورخ جنکا حوالہ فاضل مضمون نگار نے دیا وہ Strabo ہے۔انکے بارہ میں Francois Lasserre اپنے مقالہ میں لکھتا ہے کہ بحیرہ احمر اور عرب سے متعلق جو بھی معلومات Strabo دیتا ہے وہ  Mark Antony اور بادشاہ اغسطس کے فوجی دستوں کی رودادوں سے لی ہیں اور Agatharchides کی کتاب سے لی ہیں۔اب اوپر ہم یہ ثابت کر آئے ہیں کہ Agatharchides کی کتاب کتنی ثقہ ہے۔
یہ مختصر بیان ہے ان مورخین کا جنکی تحقیق کو بنیاد بنا کر کعبہ اور مکہ کو پیٹرا شفٹ کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔

سوم:عربوں کی محررہ تاریخ:
چونکہ عربوں کا حافظہ غضب کا تھا اور لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے سوائے شاذ کے، اس لئے زمانہ جاہلیت میں کوئی تاریخی دستاویز نہیں ملتی جو ضبط تحریر میں لائی گئی ہو، سوائے ان سات یا دس قصائد کے جنکو المعلقات السبع یا المعلقات العشر کہا جاتا ہے۔ان میں زہیر بن ابی سلمی ایک بہت بڑا شاعر ہے اس کے معلقہ کا ایک شعر ہدیہ قارئین ہے۔
و اقسمت بالبیت الذی طاف حولہ
رجال بنوہ من قریش و جرہم
میں اس گھرکی قسم کھاتا ہوں جسکے گرد اسکو بنانے والے قریش اور جرہم قبیلہ کے لوگ طواف کرتے ہیں ۔
بحیرہ احمر کے پار سے آنے والے شاید مکہ تک نہ پہنچے ہوں مگر یہ تو اندر کی گواہی ہے اور قریش کا علاقہ موجودہ مکہ اور اسکے مضافات کا تھا نہ کہ مزعومہ پیٹرا کا۔

چہارم:اسلامی تاریخ کے مآخذ اور انکی صحت:
تاریخ اسلامی کے مآخذموٹے طور پر قرآن شریف اور احادیث مبارکہ ہیں۔قرآن تو خدا کا کلام ہے اس میں شبہ کی گنجائش ہی نہیں لیکن میں حدیث کو جو نبی بر حق ﷺ کے ایک سو برس بعد مدون ہونا شروع ہوئیں تقابل کے طور پر پیش کرتا ہوں۔کیا جو جو سخت شرائط ناقدین حدیث نے ثقاہت کے قائم رکھنے کے لئے وضع کیں انکا عشر عشیر بھی ان تاریخ دانوں کو حاصل ہے جو مکہ کو پیٹرا بتاتے ہیں۔اسکا سادہ سا جواب نہ میں ہے۔مثال کے طور پر حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ایک دور دراز کا سفر کر کے ایک آدمی کے پاس پہنچے جسکے متعلق معلوم ہوا تھا کہ اسکے پاس ایک حدیث ہے۔جب پہنچے تو وہ اپنے ضدی گھوڑے کو اپنی طرف اس طرح لا رہا تھا کہ گویا اسکو چارہ ڈال دیگا۔امام رحمہ اللہ نے آگے ہو کر دیکھا تو وہ تھیلا خالی تھا اور اس میں چارہ نہ تھا۔اس بات پر امام اس کے پاس سے بنا حدیث کے ہی واپس ہو گئے کہ جو مخلوق کو فریب دے سکتا ہے وہ خدا رسول کے معاملہ میں بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔یہ ہے مسلمانوں کی حدیثوں کا معیار اور تواریخ کا کیا حال ہے وہ عاجز بیان کر چکا۔

پنجم:عقلی دلیل:
آخر پر ایک فیصلہ کن بات ہدیہ قارئین ہے۔فرض کیجئے کہ کسی خاندان میں ایک بہت عظیم آدمی پیدا ہوا ہو۔اس آدمی کے پاس جو سونا چاندی اور زیور ہو اسکو کوئی لوٹ کر لے جائے۔اس آدمی کی نسل ۱۴ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی اس واقعہ کو یاد رکھے مگر اسی عظیم آدمی کا گھر بار تباہ کر دیا گیا ہو اور فصلیں برباد کر دی گئی ہوں اور اس بات کو اس کی نسل میں ایک فرد بھی نہ جانتا ہو یہ قیاس مع الفارق ہے اور عقلا بعید از وقوع ہے۔قارئین کرام! معصوم نواسہ رسول امام حسین ؑ کی شہادت کو ۱۴ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی امت کا بچہ بچہ جانتا ہے تو کیا اگر پیارے نبی ﷺکا شہر تباہ کیا جاتا اور کعبۃ اللہ کو مسمار کر دیا جاتا تو یہ واقعات نظروں سے اوجھل رہتے ہر گز نہیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ۔۔۔۔والتین والزیتون و طور سینین و ھذا البلد الامین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اچھا تو کعبہ ” پیٹرا” میں تھا؟ شاہد خان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *