لباس ۔۔خرم بقا

“سر جی، خرم بقا کرتے کے اوپر چادر پہن کر آیا ہے۔” جی ایم کے چمچے نے دھڑ باہر اور منہ اندر کرکے اطلاع دی۔ جی ایم نے غالباً   چشمہ ناک کے کونے پر ٹکائے اس کے اوپر سے کراکری کو گھورا ہوگا کہ وہ ہر ناقابل یقین خبر سننے کے بعد اپنا ردعمل ایسے ہی ظاہر کرتے تھے۔ شنید ہے کہ یہ روایت پہلی اولاد کی پیدائش کی خبر ملنے کے وقت سے چلی آ رہی ہے۔ غیب کی خدا جانے ہم نے “سنی سنائی” آپ کے گوش گزار کردی۔ “

میرے کمرے میں بھیجو اسے۔۔” حکم نادر شاہی ہی تھا پرانے  جی  ایم کی منسٹر سے نہیں بنی بلکہ موزوں جملہ ہو گا کہ ان کی دوستوں، رشتہ داروں، محلے داروں اور بیگم کے علاوہ منسٹر سے بھی نہیں بنی۔ میری البتہ ان سے گاڑھی چھنتی تھی کہ میری لسٹ، معکوس شروع ہو رہی تھی۔ پرانے جی ایم کی ٹرانسفر کے بعد نئے صاحب نے مجھے تختہ مشق بنا لیا تھا اور بات بے بات مجھے اپنے کمرے میں طلب کرلیتے تھے۔ جمعہ تھا اور میں کالے کرتے کے اوپر ڈارک گرے شال اوڑھ کر آیا تھا۔ وہ اوڑھنا بھی فیشنی تھا کہ شال پیچھے سے آکر بازو کے نیچے سے دائیں کاندھے پر پڑی ہوئی تھی۔ پیروں پر سیاہ کولہا پوری چپل۔

اندر داخل ہوا تو جی ایم نے گھور کر مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا، “شادی پر آئے ہو؟” ایک ثانیے میرے جواب کا انتظار کیا پھر بولے، “بھائی تم ایک آفس میں کام کرتے ہو، کسی فیشن کی ایجنسی میں نہیں۔ آفس ڈیکورم کے حساب سے کپڑے  پہنا کرو۔ تم نے کبھی اوور کوٹ پہنا ہوتا ہے، کبھی ہیٹ۔آج یہ شادی کے کپڑے۔،آئندہ احتیاط کرنا۔

” میں خاموشی سے باہر آگیا۔

اگلے دن اسی چمچے نے اسی انداز میں اطلاع دی۔۔ “سر جی خرم بقا نیکر پہن کر آیا ہے۔

” نیکر کا توخیر الزام تھا، میں وہ شارٹس پہن کر گیا تھا جس کو میں اپنی لغت میں “شرعی چڈا” کہتا تھا کہ اس کی لمبائی گھٹنوں سے نیچے تک تھی۔ جی ایم نے پھر بلایا اور میرے داخل ہوتے ہی پوچھا، “پارک میں گھومنے آئے ہو؟ یار میں نے کل تمھیں بتایا کہ آفس ڈیکورم بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ہماری تہذیب و روایات بھی ہوتی ہیں، تم انگریز بن کر آجاتے ہو۔ لباس پہنتے وقت معاشرت کو بھی مدنظر رکھا کرو

۔ after all we have a rich culture and we should not follow west.

حد ہے آفس میں لڑکیاں  بھی  ہیں  اور  موصوف نیکر پہن کر گھوم رہے ہیں جیسے گھر پر ہیں۔ ” میں دوبارہ خاموشی سے باہر آگیا۔ اگلے دن اتوار اور پھر پیر۔

جی ایم کے کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کُھلا، چمچ شریف اپنے حساب  کتاب سے اپنا منہ اور دھڑ دروازے کے اندر و باہر رکھ کر فغاں بلب ہوا، “سر جی، خرم بقا دھوتی پہن کر آیا ہے۔” جی ایم کا پارہ ایک دم اپنی انتہائی بلندی پر پہنچا اور انہوں نے اپنے چمچ کو پارلیمانی  گالی (پارلیمانی اس لیے کہ پارلیمنٹ میں اب اکثر فحش گالیوں سے سماعت کو بہرہ مند کیا جاتا ہے)سے نوازتے ہوئے کہا، “تو اندر آ کر بات کر، ڈینٹونک کے بندر کی طرح صرف منہ نہ نکالا کر۔” کٹلری سرکار بید مجنوں کی طرح لرزتے اندر داخل ہوئے تو جی ایم نے دھاڑتے ہوئے کہا، “تجھے آفس خرم بقا پر نظر رکھنے کے پیسے نہیں دیتا۔ خبردار جو آئندہ  اس کی کوئی  بات  بھی  مجھ  سے کہی، اپنا کام کیا کر۔”

اس دن مجھے طلب نہیں کیا گیا بلکہ ایک ماہ تک یہ نوبت نہیں آئی۔ جی ایم نے تیسری لڑائی میں ہی ہتھیار ڈال دیے ورنہ ہم پچھلی شام ہی سفید ململ کا وہ کرتا، شلوار لے کر آئے تھے جسے ہیروئنز موسلادھار بارش کےعین ہنگام میں پہننا پسند کرتی ہیں۔ اس کا مقصد بظاہر ستر پوشی اور حقیقتاً اس کا الٹ ہوتا ہے۔ صد شکر اسے پہننے کی نوبت نہیں آئی ورنہ منگل کو اسی کی باری تھی۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *