پاکستان تحریک انصاف (PTI) اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے اہم اور پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے۔ ایک جانب وہ انتخابی بے ضابطگیوں، عدالتی فیصلوں اور ریاستی اداروں کے مبینہ جانبدارانہ اقدامات کا سامنا کر رہی ہے، تو دوسری جانب پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم، سازشوں اور قیادت تک رسائی میں رکاوٹیں ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دے رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی مخصوص نشستوں پر قبل از وقت حلف برداری نے ایک بار پھر عدالتی خودمختاری اور آئینی حدود پر بحث کو جنم دیا۔ الیکشن کمیشن کی مقرر کردہ تاریخ 21 جولائی کے برخلاف، پشاور ہائی کورٹ نے اتوار کے روز عدالت کھول کر گورنر کو حلف لینے کی ہدایت دی، جو کہ نہ صرف آئینی معمولات سے ہٹ کر ہے بلکہ اسمبلی کی خودمختاری پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے اس غیر معمولی اقدام کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان کو باقاعدہ خط لکھا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا اور گورنر کو ایسے احکامات جاری کیے جو آئین کے تحت ممکن نہیں۔ یہ اقدام اختیارات کی علیحدگی، عدالتی شائستگی، اور مناسب قانونی کارروائی جیسے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
9 مئی کے واقعات نے PTI کو غیر معمولی دباؤ میں مبتلا کیا۔ کارکنوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے، جن کی قانونی حیثیت اور اخلاقی جواز پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔ سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر ہوئیں، مگر تاحال کوئی متفقہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس سارے عمل میں پارٹی نے کوئی واضح، مربوط اور آئینی بیانیہ پیش نہیں کیا، جو سیاسی خلا اور کارکنان کی مایوسی کا سبب بنا۔
سینیٹ انتخابات کے دوران مرزا آفریدی کی نامزدگی پر کارکنان کے شدید تحفظات ہیں، اسی طرح نامزد امیدوار عرفان سلیم اور عائشہ بانو کی اچانک دستبرداری نے پارٹی کے اندر جاری رسہ کشی کو بے نقاب کیا۔ اطلاعات کے مطابق، پارٹی کے بعض افراد نے اپنے ہی امیدواروں کے خلاف اپوزیشن کے ساتھ مل کر مہم چلائی، جس سے قیادت کی گرفت کمزور اور کارکنوں کا اعتماد متزلزل ہوا۔
اگر ان کے مؤقف یا پالیسی وابستگی پر سوالات ہیں تو عمران خان کی ہدایت کا انتظار کریں۔ قیادت پر اعتماد رکھیں کہ وہ فیصلے حکمتِ عملی کی بنیاد پر کرے گی، قیاس آرائیوں پر نہیں۔
مراد سعید اور علی امین گنڈاپور کے درمیان اختلافات، شیر افضل مروت کو متبادل کے طور پر سامنے لانے کی مبینہ کوشش، اور عمران خان کو حقائق سے لاعلم رکھنے کے الزامات نے PTI کے اندرونی نظامِ مشاورت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
القادر ٹرسٹ، سائفر، گھڑی چوری اور توشہ خانہ جیسے مقدمات کو PTI سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت انہیں کرپشن سے جوڑتی ہے۔ قانونی کارروائیاں جاری ہیں، مگر ان پر سیاسی رنگ غالب آ چکا ہے۔ عدالت کے ہر فیصلے کو سیاسی نظر سے دیکھنا، اگرچہ فطری ردعمل ہو سکتا ہے، لیکن اس سے بیانیہ کمزور اور قانونی جنگ غیر مؤثر ہوتی ہے۔
یہ تمام تر صورتحال اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ PTI کو محض احتجاجی سیاست سے آگے بڑھ کر ایک مضبوط، مدلل اور آئینی بیانیہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ادارہ جاتی زیادتیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صرف جذبات نہیں بلکہ قانون، آئین اور عوامی شعور کی روشنی میں بات کی جائے۔
تاریخ بار بار دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، مگر صرف وہ جماعتیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں جو شعور، حکمت اور حکمتِ عملی سے لیس ہوں۔ PTI کے لیے یہ وقت صرف ردِ عمل کا نہیں، بلکہ ازسرِ نو تعمیر، اصلاحِ احوال، اور آئینی جدوجہد کی بنیاد رکھنے کا ہے۔
یہ لمحہ عمران خان کی گرفتاری، ان کی شریکِ حیات کی قربانیوں، اور لاکھوں کارکنان کی جدوجہد کا نکتۂ عروج ہو سکتا ہے، بشرطیکہ پارٹی اپنی سمت درست کرے، داخلی سازشوں کا احتساب کرے، اور عوامی، قانونی اور سیاسی سطح پر ایک متحد اور واضح موقف کے ساتھ سامنے آئے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں