میں اور پنجاب یونیورسٹی ۔۔محسن ابدالی

دنیا میں شاید ہی کوئی اور ملک ہو جہاں ریاستی پولیس فورس کیمپس میں داخل ہو سکتی ہو یا کارروائی کرسکتی ہو ۔ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت، جس کی اپنی صورتحال بھی ہم سے بہتر نہیں، جب وہاں بھی پولیس دہلی کی ایک یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو اگلے دن بھارت سڑکوں پر تھا۔ یہاں تک کہ ہمارے ملک میں بھی کچھ عرصہ پہلے یہ انوکھی روایت نہیں تھی۔ مگر بات صرف یہاں تک محدود نہیں، ہماری تہذیب کی نمائندگی کرنے والے شہروں کے کئی تعلیمی اداروں کے حالات کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں رینجرز مستقل طور پر تعینات ہیں۔ اس سے یہ چیز تو واضح ہے کہ ہماری تعلیم اور تعلیمی نظام میں معاشی کرپشن کے ساتھ ساتھ علمی، شعوری اور اخلاقی کرپشن بھی ہوئی ہے۔ ہمارے اداروں میں دی جانے والی تعلیم طالب علم کو کوئی بہتر سوچ دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے موجودہ معاشرے کی وہی پسماندہ اور تعفن زدہ سوچ ہی ایک طالبعلم کی سوچ پر حاوی ہے اور چونکہ نئی سوچ ہی نئی روایات اور اخلاقیات کو جنم دیتی ہے سو اس محاذ  پر بھی ہم خالی ہیں۔ اور معاشرہ مجموعی طور پر اپاہج ہے۔

حالیہ دنوں پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ ماضی قریب میں جامعات اور دوسری درسگاہوں میں تسلسل سے ہونے والے کئی بھیانک واقعات کی ایک کڑی ہے۔ اور معاشرے کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ جس کا شرمناک مگر حقیقی مطلب یہی ہے کہ جس طرح معاشرہ عدم برداشت، بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی زد میں ہے، تعلیم اور طالبعلم کی صورتحال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں۔

اگر ہمارے تعلیمی اداروں میں برداشت، اتحاد اور ترقی پسندی کی فضا ہوتی، نئی سوچ کو طاقت سے دبانے کے بجائے جنم دینے اور پھلنے پھولنے کی کوشش کی جاتی تو شاید آج ہم ایک دوسرے کے وجود سے ہی خوف زدہ اور متنفر نہ ہوتے۔ سوال یہ نہیں کہ اس سب میں ملوث یا ذمہ  دار کون تھا، بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کون سی بنیادی خرابیاں اور کمیاں ہیں جو ان رویوں کو جنم دے رہیں ہیں۔ کیونکہ اگر یہ بنیادی خامیاں دور نہ کی گئیں تو اس طرح کے واقعات کا تسلسل قائم رہے گا، بس چہرے بدلتے رہیں گے۔

میں ایک پنجابی طالبعلم ہوں اور تقریبا ً چار سال سے پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں۔ حالیہ اور آئے دن ہونے والے واقعات کے متعلق یقیناً   پورے ملک میں تشویش ہوگی کیونکہ پنجاب یونیورسٹی ان چند جامعات میں سے ہے جہاں ملک کے ہر کونے سے اور معاشرے کے ہر طبقے سے طالبعلم  پڑھنے آتے  ہیں۔ اور یہی افراد اور خیالات کا تنوع ہے جو جامعات، یونیورسٹیوں کی منفرد خاصیت ہوتی اور انہیں دوسرے اداروں سے دلچسپ اور پروڈکٹیو بناتی ہے۔میں بطور پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم اپنے مشاہدات آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کروں گا۔

جب ہمارا یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو تبھی پچھلے ایک یا دو سال سے بلوچستان کے طلبہ کو کوٹا کی بنا پر ایڈمیشنز دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ آسان یہ کہ ہر مارننگ کے بیج میں دوسرے کوٹے  پر آئے لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک بلوچی (بلوچ، پشتون، براہوی) طالبعلم۔اور اس مظہر کو سمجھنا مشکل نہیں کہ نئے لوگوں کے ساتھ ان کے اقدار، سوچ، اور ان کی زندگی سے جڑی ہر چیز بھی ان کے ساتھ آتی ہے۔ پھر یہ ہوا کہ یہ دوسری ثقافتوں اور اقدار کے نمائندے اپنی مخصوص اور منفرد خوبیوں کی وجہ سے بہت جلد اپنے نئے حلقوں میں گھل مل گئے، جس سے ایک دوسرے سے سیکھنے اور مسائل کو کھل کر سامنے لانے اور اختلاف کی “بنیاد” کو سمجھنے کا موقع ملا۔ جس سے ایک دوسرے کے بارے سوچ اور تصور بدلا۔ جس سے ایک مثبت پیغام ملا۔

اور ان طلبہ کے اتحاد اور سیاسی و شعوری پختگی نے، اپنی سرگرمیوں میں ڈرا دھمکا کر طلباء کو لانے اور ان کی اپنی “70 سالہ” سوچ کے زیر اثر رکھنے اور اپنی “سوچ” کے مطابق ان کی ذہن سازی کرنے والے، اجارہ دار گروہ کو لگام دی۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ترقی پسند، تنقیدی اور بہتر سوچ اور سوچنے والوں کو بھی جگہ دی۔ جس سے کیمپس کی شعوری اور اخلاقی فضاء میں واضح تبدیلی آئی۔ مگر یہ روشن اور ترقی پسند سوچ نہ تو “حکام” کو بھائی  اور نہ دوسرے بنیاد پرستوں کو۔ اس مخصوص مذہبی گروپ نے اس سال مارچ میں پختون طلباء کے ثقافتی پروگرام پر حملہ کیا، اور اس کے ساتھ اس نئے مظہر کو دبانے کی کوشش کی گئی مگر یقیناً  یہ “70سال” پرانی پنجاب یونیورسٹی بھی نہیں تھی، سو انہیں اس بار مناسب جواب ملا۔ جو چیز “جمیعت” کے پائنیرز فیسٹیول درہم برہم کرنے کی بنیادی وجہ بنی وہ، چند دن قبل اسلامیہ کالج سول لائنز میں پشتون طلبہ کے اس فیسٹیول میں شامل ہونے کے انکار پر، ان طلبہ پر تشدد تھی۔

ساتھ ہی ان واقعات پر قابو پانے کے متعلق پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھے! انتظامیہ کی جانب سے طلباء کو رسٹیکیٹ اور صوبائی حکومت سے کلیرینس جیسے فیصلے لیے گئے جس پر میری درخواست ہے کہ اس معاملہ کی اصلیت کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور حقیقی ذمہ دار سزا وار ٹھہرائے جائیں کیونکہ یہ فیصلہ ڈگریاں ٹرمینیٹ نہیں بلکہ ان طالبعلموں کا مستقبل برباد یا طے کرے گا، اور کلیرینس والے معاملے پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آج جو طلباء حراست میں لیے  گئے ان میں ایک خوشدل خان بھی تھا، اور میں، اس کا دوست اور کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے  جانتا ہوں کہ خوشدل کو لڑائی جھگڑے سے کس قدر نفرت ہے۔ منظر ایسا طالبعلم نہیں کہ اس پر ایف-آئی-آر کاٹی جائے۔

کیمپیس میں جو لوگ عمران خان جیسے قومی و عالمی کرکٹر اور ہیرو کی تذلیل  کرسکتے ہیں ،اس سے دست و گریباں ہوسکتے ہیں تو   ایک عام طالب علم کی وہاں کیا حیثیت ہوسکتی ہے  اور جہاں سپریٹنڈینٹ پولیس کی گاڑی  محفوظ  نہیں وہاں ہمارے جسم و جان کی کیا وقعت۔ ایسے حالات میں کبوتر کے بلی دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والے فیصلے نہیں بلکہ بڑے اور ایفیکٹیو فیصلوں کی ضرورت ہے۔میری ‘حکام’ اور سیاستدانوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے حقیر اور بے تکے مفارات کو لگام دیں اور یہ نئے آنے والے، موجودہ وائس چانسلر کے لیے  بھی امتحان ہے کہ وہ ان معاملات کو حقیقت پسندی اور دلیری سے حل  کرتے ہیں ، یا ان سے پہلے آنے والے دوسرے آفس ہولڈرز کی طرح عارضی سمجھوتہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔ مگر یہ ضروری  ہے کہ ہر چیز کو اچھے اور برے کے میزان پر تولا جائے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *