ریشماں اور ریشم بیگم۔۔حبیب شیخ

عارف بند گیٹ کو بےتابی سے دیکھ رہا تھا۔  ’یہ گیٹ کا دروازہ نہیں ہے یہ میری قسمت کا دروازہ ہے  جو ابھی کھل جائے گا۔  اگر ریشماں خود باہر آئی تو میں اسے کھینچ کر درختوں کی اوٹ میں لے جاؤں گا۔  اگر اس کا شوہر آیا تو  میں اس کو ایک لاکھ روپئے دے کر ریشماں کو آزاد کرا لوں گا۔  اگر ان دونوں میں سےکوئی نہیں آیا تو  میں یہیں کھڑا  رہوں گا۔  ریشماں شاید اب بھی سوچتی ہو گی کہ میں کسی کے گھر میں ملازم ہوں۔ وہ کتنی خوش ہوگی جب اسے پتا چلے گا کہ میں تو ایک  شیف بن گیا ہوں۔ ‘

وہ دس منٹ تک کیا کیا سوچتا رہا۔ آج وہ خود کو کسی فلم کا ہیرو سمجھ رہا تھا۔ خوب شکل ، جاندار،  بہادر اور سچّا عاشق جو اپنی محبوبہ کو بھگا کر لے جائے گا!  ایڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز نے اسے چونکا دیا۔  پھر درواز تھوڑا سا کھلا۔ ،اس کے سامنے مٹّی اور پسینے میں رچی بسی گھبرائی ہوئی لڑکی کے بجائے بنی سنوری ہوئی پُراعتماد عورت کھڑی تھی ۔ عارف کی آنکھیں چندھیاں کے رہ گئیں، لب سل سےگئے اور ہاتھ پاؤں نے جنبش کرنے سے انکار کر دیا۔

عارف جب  پندرہ سال کا تھا، ایک  بوڑھی مگر مضبوط خد و خال کی عورت  جنت بی بی اس کے گھر گاہے بگاہے آتی تھی اور عارف کو گھور کر دیکھتی تھی۔ عارف سے بڑی دو بہنیں اور دو بھائی اس سے چھوٹے تھے ۔ باپ کافی کمزور تھا۔ عارف اور ماں کپاس کے کھیتوں میں کام کر کے کچھ پیسے کما لیتے تھے۔ ہر وقت گھر میں کھانے پینے کے لالے پڑے رہتے تھے ۔ کئی مرتبہ عارف اور اس کے گھر والے بھوکے  ہی سو جاتے تھے۔ عارف کے گھر سے کوئی بھی سکول نہیں جاتا تھا۔ ایک سرکاری سکول ساتھ والے گاؤں میں تھا لیکن کپڑے ،جوتے، کتابیں وغیره کہاں سے آتیں۔ 

جب بھی عارف کام سے فارغ ہوتا وہ گاؤں کی پچھلی پگڈنڈی کے چکر لگاتا رہتا۔  وہاں کبھی کبھی ریشماں سے ٹکراؤ ہو جاتا اور پھر عارف اس سے ضرور کوئی بات کرتا۔  ’ریشماں !  تیرا کیا حال ہے؟‘  یا  ’ریشماں !  تو تھکی تھکی سی لگ رہی ہے۔ کیا بہت کام کرتی ہے؟‘

اور ریشماں کا ایک ہی جواب ہوتا۔  ’میں ٹھیک ہوں۔‘

ریشماں ایک نوخیز کلی تھی، ناک نقشہ تو اس کا معمولی تھا  لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سی کشش تھی۔ ایک  دفعہ عارف ریشماں کا ہاتھ پکڑ کر اسے درختوں کےجھنڈ میں لے گیا۔  وہ ریشماں کی جھیل جیسی گہری آنکھوں کی تاب نہ لا سکا،  بس اسے دیکھتا رہا اور ریشماں  نے شرما کر نگاہیں نیچے کر لیں۔  آخر اس کے جذبات نے زبان اختیار کر لی ۔میں تجھ کو اپنی دلہن بناؤں گا اور ریشماں،  ریشماں ۔۔۔  تو وعدہ کر کہ میرے علاوہ کسی اور سے شادی نہيں کرے گی۔‘

یہ سن کر ریشماں کے رخسار شرم سے آگ کی طرح دہکنےلگے۔  اس نے اثبات میں سر ہلایا  اور بھاگ کر پگڈنڈی کی طرف واپس چلی گئی۔ اس کے بعد عارف نے محسوس کیا کہ ریشماں اس سے کتراتی  تھی،  درختوں کی اوٹ ميں جانے  کےبجائے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیتی۔ لیکن عارف جب تک کہ اس کی شکل نہ دیکھ لیتا پگڈنڈی کے آس پاس چکر لگاتا رہتا۔

ایک دن جنت بی بی قدرے خوشی خوشی ماں سے ملنے آئی۔  عارف دونوں کی بات چیت سن رہا تھا ۔ جنت بی بی نے عارف کی ماں کو بیس ہزار روپے دیئے۔  ماں نے عارف کو اپنے پاس بلایا،  پیار کیا اور آنکھوں میں  تیرتے ہوئے آنسو ؤں کو روک کر بولی۔

’اب تو جنت  بی بی کے ساتھ جا۔  یہ تجھے آس پاس کے شہر میں کام پر لگا دے گی اور تجھے کبھی کبھی ہم سے ملانے کے لئے گھر لایا کرے گی۔ ‘

 عارف بہت سہم گیا۔  اس نے جنت بی بی کے ساتھ ایک نا معلوم دنیا میں جانے سے انکار کردیا اور سسکیاں لینے لگا۔  عارف کے باپ نے نیم کپکپاتے ہؤے ہاتھوں سے  اسے اپنے  ساتھ لگایا اور سمجھایا۔

’میں بوڑھا  ہوں، گھر میں کھانے پینے کو نہیں ہے۔  تو بڑابیٹا ہے۔  بیس ہزار روپے تیری ایک سال کی تنخواہ ہے جو جنت بی بی ہمیں پیشگی دے رہی ہے۔  خدا اس کا بھلا کرے اور تجھےاپنی حفاظت میں رکھے۔  جنت بی بی تجھے ہم سے ملوانے لایا کرے گی۔  اور تو کام بڑی محنت سے کرنا ۔‘

یہ کہہ کر باپ نے عارف کو پیار سے بھینچ لیا اور اٹھ کر جنت بی بی کے حوالے کر دیا۔

جنت بی بی عارف کو کوئی پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر لہیّہ شہر میں اپنے گھرلے گئی  اور اندر سے تالا لگا لیا۔اگلے  دن جنت بی بی کے گھر کوئی آدمی آیا۔ اس نے عارف کو اس طرح دیکھا جیسے قصائی جانور کو ذبح کرنے سے پہلے دیکھتا ہے۔  ’اوئے  عارف، میں تیرا  رشتے سے چاچا لگتا ہوں۔  بس تو میرے ساتھ ساتھ رہنا۔ میں تجھے ایک دم فرسٹ کلاس نوکری دلواؤں گا۔  بھاگنے کے بارے میں نہ سوچنا،  ہر طرف میرے لوگ موجود ہیں،  یہ تیرے ہاتھ پاؤں توڑ دیں گے۔ ‘

 اس چاچا نے جنت بی بی کو کچھ روپے دیئے اور عارف کو اپنے ساتھ لے گیا۔  یہ آدمی حلیے سے کافی خوفناک تھا،  لمبی مروڑی ہوئی سیاہ مونچھیں اور وحشت سے  لبریز آنکھیں۔  تھوڑی دور جا کر  چاچا نے تانگہ کیا اور ایک گھنٹے بعد عارف چاچا کے ساتھ ریل گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔  ریل کے ہر پہیے کا چکر اسے اپنے گھر والوں سے  اور ریشماں سے دور لیے جارہا تھا۔  اگلے دن ریل گاڑی کراچی پہنچی۔  چاچا  عارف کو ایک فلیٹ میں لے گیا  اور ایک دھلی ہوئی قمیض پتلون عارف کو دی اور تیار ہونے کے لئے بہت ساری ہدایات دیں۔  عارف تیار ہو گیا تو چاچا پھر اسے موٹر رکشے میں بٹھا کر ایک بڑے مکان کے  سامنے لے آیا۔ موٹر رکشے سے اتر کر چاچا  بیڑی کاکش لیتے ہوئے بولا۔

’یہ بہت بھلے مانس لوگ ہیں۔  یہاں محنت سے کام کرنا۔  اسی میں تمہارا اور تمہارے گھر والوں کا فائدہ ہے۔  میں کچھ عرصے بعد تمہیں گھر والوں سے ملوانے کے لئے گاؤں لے جاؤں گا۔‘

مکان کے اندر سے ایک بڑی عمر کی عورت آئی۔  چاچا نے اس سے کچھ ادھر ادھر کی باتیں کیں اور پھر عارف سے بولا۔

’یہ تمہاری چاچی ہے۔  یہ تمہیں سب کام سکھا دے گی اور تم یہاں عیش کرو گے۔  جو مرضی جتنا مر ضی کھاؤ پیو۔‘

عارف نے تذبذب کے ساتھ چاچی کو دیکھا۔  ’ارے!  یہ تو بالکل ماں کی طرح لگتی ہے،  لیکن ماں کے مقابلے  میں کتنی صاف ستھری ہے۔‘

چاچی نے عارف  پر کافی وقت لگایا اور اسے اس گھر کے طور طریقے سکھائے۔  عارف کو باورچی خانے میں کام کرنا اچھا لگتا تھا۔  اس نے چا ئے بنانا  اور  عمدہ طریقے سے پیش کرناسیکھ لیا،  وہ غور سے دیکھتا رہتا کہ آٹا کیسے گوندھتے ہیں،  روٹی کیسے بنتی ہے۔ چند ماہ بعد وہ خود آٹا گوندھ کر روٹی پکانے لگ گیا۔  جب کوٹھی کے رہنے والے عارف کی بنی ہوئی چائے یا پکی ہوئی روٹی کی تعریف کرتے تو وہ پھولے نہیں سماتا۔ وہ اس تسکین اور فخر کے لئے بیگم صاحبہ کی پھٹکار کو نظر انداز کر دیتا تھا۔  اس نے چاچی سے پیاز اور سبزی کاٹنے کے لئے  پوچھا اور کچھ ہی دنوں بعد وہ آسان آسان کھانے پکانے لگ گیا۔  سولہ برس کی عمر میں وہ ایک پکوانچی بن گیا۔  جب اسے موقع ملتا تو چھوٹے موٹے کھانوں کے تجربے بھی کر لیتا۔  اب تو بیگم صاحبہ کا رویہ بدلا ہوا تھا اور وہ بھی اس سے من پسند کھانوں کی فرمائش کرتی۔

جب وہ را ت کو بان کی چارپائی پر لیٹتا تو باری باری ماں  باپ بہن بھائیوں کی شکلیں سامنے آتیں اور پھر ریشماں کا چہرہ،  اس کی آنکھيں  سانسیں ہاتھ پاؤں سب  بےدم ہو جاتے۔  ’مجھے تو اسے خدا حافظ کہنے کا بھی موقع نہيں ملا ۔ اس کو شاید پتا ہی نہيں کہ ميں کراچی آ گيا ہوں۔ وہ سونے تک اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تا کہ خواب میں ریشماں کو دیکھ لے۔

عارف اب بیگم صاحبہ کی تین سہیلیوں کے گھر کھانے پکانے جاتا تھا اور بیگم صاحبہ کی کوٹھی میں بھی وہ صرف پکانے  کے لئےہی آتا تھا۔ عارف دو سال کے بعد ملنے کے لئے گاؤں واپس آیا۔  گھر والوں کے ساتھ پورا ایک دن گزارنے کے بعد وہ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد گاؤں کی پیچھے والی  پگڈنڈی  پر جاتا رہا  لیکن ریشماں اسے کہیں نظر نہيں آئی۔ عارف نے اپنے ایک دوست کے ذریعے  ریشماں کے بارے معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ کچھ عرصے سے بیمار ہے۔

’میں کتنا خود غرض ہوں اس کو بتائے بغیر یہاں سے چلا گیا اور وہ میرے غائب ہونے کی وجہ سے بیمار ہو گئی۔  وہ ریشم کی کلی میرے دور چلے جانے سے مرجھا گئی۔‘

عارف نے اپنی ماں کو ریشماں کے گھر رشتے کے لئےبھیجا۔  وہ بےچینی  سے ماں کی واپسی کا انتظار کر رہاتھا  اور امید و بیم کی کیفیت کے درمیان ڈول رہا تھا۔  ماں کے واپس آتے  دیکھ کر چلّایا۔ ’ماں، بتا  انہوں نے کیا کہا؟‘

’مجھے سانس تو لینے دے۔ دوسرے گاؤں سے چل کر آرہی ہوں۔‘

  ماں نے چارپائی  پر بیٹھ کر ایک دو لمبے سانس لئے۔  ’ریشماں کے ماں باپ  پچاس ہزار  روپے کے عوض  اس کی شادی کر رہے ہیں  اور یہ رشتہ جنت بی بی نے طے کروایا  تھا۔‘

’یہ نہیں ہو سکتا!  میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گا۔ کیا تو نے انہیں میری آمدنی کے بارے میں نہیں بتایا؟‘

’ہاں بتایا لیکن انہوں نے کوئی توجّہ نہیں دی۔‘  پھر وہ کچھ سوچ کر بولی۔

’تو ریشماں کا خیال چھوڑ دے۔  میں تیرے لئے  سکینہ سے بات کروں گی۔  اس کی بیٹی بہت سگّھڑ ہے۔‘

عارف باہر پگڈنڈی کا چکّر لگانے چلا گیا۔  دو گھنٹے بعد  وہ جنت بی بی کے سامنے کھڑا تھا۔

’ تم ریشماں کی شادی ایک ایسے  مرد سے کروا رہی ہو جو ریشماں کے باپ کو پچاس ہزار روپے دےگا۔‘

’ریشماں کو ملیریا ہو گیا تھا۔  میں نے اس کے ٹھیک ہونے کا انتظار کیا۔  اب اس کی بات پکّی ہونے والی ہے۔ ‘

’ریشماں کی شادی نہیں،  تم اس کا سودا کرا رہی ہو۔‘

 یہ کہہ کر عارف کے قدم جارحانہ انداز سے جنت بی بی کی طرف بڑھےاور  پھر پیچھے ہٹ گیا۔

’میری وجہ سے تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے،  اور ایک کامیاب پکوانچی بن گئے ہو۔  اس کا تم مجھے یہ صلہ دے رہے ہو۔‘

’ مجھ کو اپنے پاؤں  پر کھڑا ہونے کا احسان نہیں جتانا۔  کتنے بچے تم نے پتا نہیں کہاں کہاں  جھونک دئیے ہیں۔  میں یہ سودا نہيں ہونے دوں گا۔  ریشماں کوئی گائے بھینس نہيں ہے۔‘

جنت بی بی  احتیاطاً ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔

’تم زیادہ رقم کی پیشکش کر دو تو اس کا باپ اس کی شادی تم سے کر دے گا۔‘

’کتنی رقم؟‘

’میں ایک لاکھ روپے میں اس کو منا لوں گی۔‘

یہ سن کر عارف کی آنکوں سے دو آنسو ٹپک گئے۔  ’میری ریشماں کی  نیلام گھر میں  بولیاں لگ رہی ہیں۔‘

 عارف گاؤں واپس آ کر ساری رات پگڈنڈی پر ٹہلتا رہا۔  ’یہاں ریشماں تو نہیں ہے لیکن اس مٹّی نے نجانے کتنی بار اس کے پیروں کو چھؤا ہے۔‘

’ایک لاکھ روپے!  میں کہاں سے اتنی بڑی رقم کا بندوبست کروںگا ؟  مجھے یہ کرنا پڑے گا،  ریشماں،  میں یہ کر کے رہوں گا  تمہاری خاطر،  اپنی خاطر۔‘

 صبح صادق کی پہلی کرن کے ساتھ ہی اس نے جنت بی بی کے گھر کا رخ کیا۔  اس کو سورج کی ہر کرن امید کی کرن لگ رہی تھی۔

’جنّت بی بی!  میں ایک لاکھ روپے لے کر آؤں گا۔  ریشماں کے باپ سے بولنا کہ عید تک میرا انتظار کرے۔‘

عارف نے کئی گھروں ميں کھانا پکانا شروع کر دیا اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک  نسبتاً اچّھے درجے کے ہوٹل کا شف بن گیا۔  اسے وقت کی رفتار سے تیز کام کر کے پیسے جمع کرنے تھے۔ اس کے لئے دن رات،  ہفتے کے ساتھ دن سب ایک جیسے تھے۔  اس نے ایک سال میں پچاس ہزار روپے اکٹّھا کر لئے  بقیہ رقم  اس نے دو بیگمات سے ادھار لے کر جمع کرلی۔  ایک چھوٹے صندوق میں ایک لاکھ روپے کے نوٹ دیکھ کر اس پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی۔  ’یہ ریشماں کی قیمت ہے ۔  میں اپنی محبت کو نیلام گھر سے خرید رہاہوں۔‘

دو دن بعد وہ جنت بی بی کے گھر جانے کے لئے ریل گاڑی میں سوار تھا،  چڑھنے اور اترنے والے مسافروں کے ہنگامے سے بے خبر،  اسٹیشنوں پر ہاکروں کی آوازوں سے بےنیاز،  اپنے ارد گرد  بیٹھے ہوئےمسافروں  سے بےپرواہ۔   ’اس کے پہئیوں کا ہر چکرمجھے ریشماں سے قریب تر کر رہا ہے۔  ریشماں،  میں آرہا ہوں  میں ہمیشہ کے لیے  تمہارے پاس آرہا ہوں۔‘

عارف ریلوے اسٹيشن سے سیدھا تانگہ لے کر جنت بی بی کے گھر پہنچ گیا اس کے چہرے پر خوشی اور اضطراب کے تاثرات باریاں لے رہے تھے۔ اس کے بائیں  ہاتھ میں چھوٹا صندوق تھا۔  گھر کے باہر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور اندر مدھم سی روشنی تھی۔  اس نے دروازہ کھٹکھٹایا،  جب کوئی جواب نہيں ملا تو وہ دروازہ پیٹنے لگا۔  دروازے کے دائیں طرف لگا ہوا بلب روشن ہوا اور ایک سہمی ہوئی آواز آئی۔

’کون ہے؟‘

’میں ہوں عارف،  مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔‘

رات کی خاموشی ميں دروازے کے کھلنے کی آواز کتنی پراسرار تھی۔

’بیٹا اتنی رات گئے کیوں آئے ہو؟‘

’ریشماں کے لئے ميں اور انتظار نہيں کر سکتا۔  میں ریشماں کے باپ کے لئے ایک لاکھ روپے لے کر آیا ہوں۔‘

’تم بولتی کیوں نہیں؟  چپ کھڑے مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو؟‘

’ریشماں کے باپ نے مزید انتظار کرنے سے انکارکردیا تھا اب اس کی شادی ہو چکی ہے۔ تم نے آنے ميں دیر کر دی۔‘

’شادی ہو چکی ہے؟ کیوں، کیسے؟  نہیں،  نہیں ۔  اس کے بیچے جانے کو تم شادی کہتی ہو ،  یہ شادی نہيں ہے سودا ہے ۔  یہ نکاح جائز نہيں ہے ۔  جلدی بتاؤ وہ کہاں رہتی ہے۔‘

’ریشماں کا باپ اس کا کفیل تھا ،  اس نے ریشماں کی طرف سے ہاں کر دی۔ تم اس کے پاس جانے کی کوشش نہيں کرنا اس ميں تمہاری جان کو خطرہ ہے۔‘

’تمہيں میری جان کی کوئی فکر لگی ہوئی ہے  ریشماں کی کوئی فکر نہيں جسے تم نے زندہ مار دیا!‘

’تم ریشماں کو بھول جاؤ،  میں تمہاری شادی بہت اچھی جگہ کروا دوں گی۔‘

’جس جہنم ميں تم نے اسے دھکیل دیا ہے وہاں سے اسے نکالنا میرا فرض ہے۔‘

چند سیکنڈوں کے بعد عارف کا ہاتھ جنت بی بی کی گردن پر تھا  اور سانس لینے  کے لئے تڑپتے ہوئے اس نے منہ ہلایا۔  عارف اس کی گردن چھوڑ کر پیچھے ہو گیا۔

جنت بی بی نے ہانپے کانپتے دو تین لمبے سانس لئے۔  ’اچھا لکھو۔‘

اگلے دن عارف لاہور ميں  جنّت بی بی سے لئے ہؤے پتہ پر پہنچ گیا۔  اس  خوبصورت چھوٹے  مکان کے دائیں  طرف درختوں کے جھنڈ تھے ویسے ہی جیسے گاؤں کے پچھلی طرف پگڈنڈی  کے آس پاس ۔ عارف وہیں رک گیا ۔

’میں ابھی ریشماں کے کمینے شوہر کو ایک لاکھ روپے دے کر اس کو آزاد کروالوں گا  اور پھر ہم ان  درختوں کے جھنڈ میں گم ہو جائيں گے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔‘

’یہاں کیوں کھڑا ہے ؟ ‘چوکیدار کی سخت آواز نے اسے بیدار کر دیا۔

’ریشماں سے ملنا ہے۔‘

’کیوں ملنا ہے؟‘

’اس سے بولو کہ عارف گاؤں سے ایک ضروری کام کے لئے آیا ہے۔‘

چوکیدار نے عارف کو اوپر سے نیچے کی طرف دیکھا۔

’میں جا کر ریشم بیگم کو بتاتا ہوں تم ادھر ہی کھڑا رہو۔‘

گیٹ بند ہونے کی آواز نے عارف کو پھر چونکا دیا۔

’یا خدا میں اس سے کیا بولوں گا اور وہ پہلے کی طرح گونگی بن کر نظریں جھکا لے گی!  اگر اس کا شوہر آیا تو ایک لاکھ روپے اس کے منہ پر دے ماروں گا۔  وہ کمینہ ایک کلا کھ روپے دیکھ کر فوراً ریشماں کو مجھے دے دے گا۔ اگر اس نے ریشماں کو خریدا ہے تو کچھ پیسوں کی خاطر اس کو بیچ بھی دے گا۔‘

اچانک زور سے گیٹ کھلا۔  عارف اپنی محبت کے دیدار کے لئے  کھلے گیٹ کے سامنے آگیا۔  اس کی نظر صحن اور برآمدے کی طرف گئی۔  ’بے ترتیب سامان اور مکان کی حالت بتاتی ہے کی یہ کوئی  زیادہ امیر آدمی نہیں ہے۔  ایک لاکھ روپئے اس کے لئے معمولی رقم نہیں ہو گی۔‘

’ریشم بیگم نے بولا ہے کہ انتظار کرو۔‘ یہ کہہ کر اس نے گیٹ زور  سے بند کر دیا۔

 ’انتظار کس لئے؟ وہ بھاگ کر میرے پاس کیوں نہیں آجاتی۔  شاید مناسب موقعے کی تلاش میں ہے۔  میں ساری عمر اس کےلئے یہاں کھڑا رہ سکتا ہوں۔ ‘

 نسوانی سینڈل کی ٹُک ٹُک کی آواز آئی اور عارف کا دل زور سے دھک دھک کرنے لگ گیا۔  گیٹ آہستہ سے کھلا  اور عارف کی نظر یں سامنے کھڑی ہوئی عورت کے چہرے پر جا کر ٹِک گئیں۔

’ریشماں ،  ریشم بیگم ،  یہ تو کوئی  فلم کی اداکارہ ہے۔‘

فالسے رنگ کی نفیس ساڑھی میں ملبوس اور ہلکے زیور سے آراستہ یہ عورت بہت سندر لگ رہی تھی۔  اس نے بلا جھجھک نظریں ملا کر عارف سے پوچھا۔

’تم یہاں کیاکرنےآئےہو؟ کوئی  نوکری چاہئے یا کچھ پیسوں کی ضرورت ہے؟‘

عارف بالکل ساکت تھا،  خون منجمد ہو چکا تھا ۔

’ریشماں!  ریشماں!  میں تمہیں ۔۔‘ 

ریشماں  نے فوراً بات کاٹ دی۔  ’مجھے یہاں کوئی ریشما ں نہیں کہتا۔  دیکھو مجھے پہلے ہی دیر ہو گئی ہے  مجھے ایک خیراتی تقریب ميں جانا ہے۔ تمہيں جو کام ہو چوکیدار کو بتا دینا۔‘

عارف نے نگاہیں گرالیں اور درختوں کے جھنڈ کی طرف چل پڑا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *