میرے لیے انتہائی مسرت کی بات ہے کہ عزیز دوست ڈاکٹر ابھے کمار کی تقرری بہار میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ہوئی ہے۔ جناب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات۔اس سے قبل ان کا تقرر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی٬ کرناٹک میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ہوا تھا۔ موصوف نے وہاں کچھ دنوں تک تدریسی خدمات بھی انجام دیں لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر دہلی چلے آئے تھے۔۔ وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں دل نہیں لگا۔۔خیر اب تو ڈاکٹر ابھے کمار اپنے وطن میں رہیں گے۔ اپنے آس پاس روشنی بکھیریں گے۔ ان کی انسان دوستی، اردو دوستی، فکری اعلیٰ ظرفی، علم دوستی، حق گوئی اور مذہبی رواداری مجھے بہت عزیز ہے۔۔
ابھے کمار کی پیدائش 12/دسمبر 1982 کو بہار کے ضلع مشرقی چمپارن کے شہر رکسول میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام اُماکانت مشرا اور والدہ کا نام چمپا دیوی ہے۔ ان کا تعلق ایک چھوٹے سے کسان گھرانے سے رہا ہے۔ ابھے کمار نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ ہائی اسکول اور انٹر کی تعلیم کے لیے انھیں رکسول جانا پڑا۔ ڈاکٹر ابھے کمار کو دوران تعلیم شدید مالی دشواریوں کا سامنا پڑا۔ مالی مشکلات کے باعث انھیں کوئلے کی دکان میں کام بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے گاؤں کے ایک مولوی صاحب سے اردو زبان سیکھی۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اردو زبان سے ان کا رشتہ بچپن سے استوار ہو گیا تھا اور یہی شوق انھیں اس مقام تک لے آیا۔ انٹر پاس کرنے کے بعد وہ پٹنہ چلے آئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بی اے کی تعلیم انگریزی آنرز میں کریں گے۔ دوران قیام پٹنہ میں سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ ان کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور مالی حالات ایسے نہیں تھے کہ کرایے پر کمرہ لے سکیں۔ ایسے میں روزنامہ “قومی تنظیم” کے ایڈیٹر اشرف فرید نے انہیں اخبار کے دفتر میں رہنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے چار سال وہیں گزارے اور گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔
پٹنہ کے اے این کالج سے انگریزی آنرز فرسٹ کلاس سے مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر ابھے کمار صحافت کی باقاعدہ تعلیم کے لیے دہلی کے معروف ادارہ “انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس میں داخلہ لیا۔آئی آئی ایم سی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، انہوں نے مشہور انگریزی اخبار “انڈین ایکسپریس” میں بطور رپورٹر شمولیت اختیار کی۔ ایکسپریس میں اپنے ڈیڑھ سالہ دور کے دوران، انہوں نے اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات سے متعلق کئی اہم مسائل پر رپورٹنگ کی۔ انڈین ایکسپریس کے بعد، انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم کے طور پر داخلہ لیا اور 2009 میں سیاسیات میں ماسٹرز فرسٹ ڈویژن کے ساتھ مکمل کیا۔ انہوں نے اخبار چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم کی طرف رخ اس لیے کیا کیونکہ انہیں احساس ہوا کہ ایک اچھے صحافی کو سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی امور میں گہری سمجھ بوجھ ہونی چاہیے۔ تاریخ اور نظام حکومت کی گہری سمجھ کے بغیر، کوئی بھی ان حقائق کا درست تجزیہ نہیں کر سکتا جن کا وہ روزمرہ زندگی میں سامنا کرتا ہے۔
چاہے وہ کسی ادارے کے ساتھ کام کر رہے ہوں یا بطور آزاد صحافی، صحافت کے میدان میں ان کا تجربہ دو دہائیوں سے زائد کا ہے۔ دراصل، انہوں نے صحافت کا آغاز پٹنہ سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ “قومی تنظیم” سے کیا۔ ڈاکتر ابھے کمار نے اپنی صحافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا۔ جامعہ سے پوسٹ گریجویشن کرنے کے بعد وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئ دہلی میں داخلہ لیا۔ اپنی دلچسپی اور زوق و شوق کی بنیاد پر ڈاکٹر ابھے کمار نے بین الاقوامی سیاست میں دوسرا ایم اے مکمل کیا۔ موصوف نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے ہی ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی اعلی ڈگریاں حاصل کیں۔ دلچسپ بات یہ کہ دوران تعلیم ڈاکٹر کمار سیاست میں بھی بے حد سرگرم رہے۔ سال 2012 میں انہوں نے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کا انتخاب آزاد امیدوار کے طور پر لڑا اور تیسرے مقام پر رہے۔انتخابی مہم کے دوران، ان کے سیاسی پروگراموں اور نظریات کو عام طلبہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔ بطور طالب علم کارکن، وہ سیکولر نظریے اور سماجی انصاف پر مبنی پالیسی کی حمایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔
جہاں دائیں بازو کا پروپیگنڈہ یہ ہے کہ جو طلبہ سیاسی طور پر سرگرم ہوتے ہیں وہ نہ تو پڑھائی کرتے ہیں اور نہ ہی اچھی تحقیق و تحریر کر سکتے ہیں، وہاں ڈاکٹر کمار کی علمی خدمات اس دقیانوسی تصور کو رد کرتی ہیں۔ان کی تحریریں“سیمینار میگزین” “انڈیا ٹوڈے” “وائر اردو” “مین اسٹریم ویکلی”، “پایونیئر” “فارورڈ پریس” “دی بک ریویو” “کاؤنٹر کرنٹس” “قافلہ” “ماس میڈیا” “جن میڈیا” “روزنامہ راشٹریہ سہارا” “کشمیر اعظم”، “سیاست” “دعوت ہفت روزہ” “ٹو سرکلز نیٹ” “کاؤنٹر ویو” “جن چوک” “جن پتھ” “ریڈیئنس ویکلی” “کلیریئن انڈیا نیٹ” اور “راؤنڈ ٹیبل انڈیا” جیسے اہم اخبارات اور رسائل میں تسلسل کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر ابھے کمار کی صحافت خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی اہم اعزازات سے نوازا گیا، جن میں “مولوی محمد باقر ایوارڈ” اور “تہذیبی اردو ایوارڈ” خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ معروف نیوز پورٹل “انڈیا ٹومارو” نے بھی ان کی صحافتی خدمات پر انہیں اعزاز دیا ہے۔
ڈاکٹر ابھے کمار کی تقرری ڈپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس میں ہوئی ہے لیکن ان کی فکری بصیرت کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ میں آج بھی ان کے اختصاص کے متعلق کنفیوژ رہتا ہوں۔ موصوف زبان٬ ادب٬ کلچر تھیوری٬ مذہب٬ فلسفہ٬ سیاست٬ معیشت٬ مڈیا غرض یہ کہ دنیا جہاں کے موضوعات پر نہایت گہری نظر رکھتے ہیں۔ کتابوں٬ رسالوں اور اخبارات سے دیوانگی کی حد تک محبت۔ بس یوں کہ انھیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ مجنوں کا خیال آتا ہے۔ میں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں انھیں ہمیشہ کتابوں میں دفن پایا ہے۔یعنی ہر لمحہ غوروفکر میں غرق۔ کمال کی سادگی۔آنکھوں پر چشمہ۔بے ترتیب بڑھی ہوئی داڑھی اور بکھرے ہوئے بال۔نہ کھانے پینے کی فکر اور نہ نہانے کا خیال۔ بھٹکتی آتما کی طرح ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی تڑپ۔ یاد آتا ہے کہ وہ ہاسٹل کے جس ونگ میں رہتے تھے٬ ادھر کی ٹنکی کبھی خالی نہ ہوئی ۔ لنچ/ڈنر کا یہ عالم کہ کئی بار تو میں نے گھیر گھار کر میس تک پہنچایا۔ ایک ہم تھے کہ لنچ ڈینر کا باضابطہ انتظار کیا کرتے تھے۔ بلکہ اکثروبیشتر لنچ/ڈینر سے آدھا گھنٹہ قبل یاد دہانی کے لیے گھر سے کال آتی تھی۔ جناب کو دیکھ مجھے کبھی کبھی خیال گزرتا کہ اتنا دبلا پتلا انسان آخر کار اتنا ذہنی بوجھ کیسے برداشت کرتا ہے؟
جناب ابھے کمار ہندی٬ انگریزی کے علاوہ اردو میں بھی لکھتے پڑھتے ہیں۔ لیکن انھیں اردو زبان سے خصوصی رغبت اور محبت ہے۔ ان کے خصوصی کالم “انقلاب” جیسے اردو کے قومی اخبارات میں مستقل شائع ہوتے ہیں۔ ان کے کالم غیر روایتی قسم کے ہوتے ہیں۔ وہ مختلف قسم کے عصری موضوعات و مسائل پر نہایت بے باکی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں مزاحمت کے ساتھ ساتھ حقائق اور دلائل کی روشنی بھی ہوتی ہے۔ ملک بھر میں اردو قارئین کا ایک وسیع حلقہ ان کی تحریروں سے مستفیض ہوتا ہے اور ان کے انداز فکر کا قائل بھی ہے۔۔
ڈاکٹر ابھے کمار نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں عربی زبان بھی سیکھی۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اقلیتی مسائل کے حوالے سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا اور باقاعدہ طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ “مسلم پرسنل لا: ڈیفینیشنز، سورسز اور کانٹیسٹیشنز” کے عنوان سے ان کی کتاب جلد ہی منظر عام پر آنے والی ہے۔اگرچہ وہ سماجی علوم کے طالب علم ہیں، لیکن زبانوں میں ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کا پختہ یقین ہے کہ ایک اچھے محقق کو کثیراللسان ہونا چاہیے تاکہ وہ مختلف رسم الخط میں موجود ماخذ کا مطالعہ کر سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ حقیقت بے حد پیچیدہ ہوتی ہے، اور ایک اچھا محقق وہی ہوتا ہے جو مختلف نقطہ ہائے نظر کا موازنہ اور تجزیہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس طرح انھیں کئی زبانوں پر مہارت حاصل ہے، لیکن اردو سے انھیں خصوصی لگاؤ ہے۔ وہ آن لائن اردو بھی پڑھاتے رہے ہیں۔
اگرچہ ابھے کمار کو اپنے وقت کے بہترین طلبہ میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن انہیں طاقتور لابی کے ہاتھوں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ ہمیشہ سچ بولتے رہے۔ اپنے اس مزاج کے سبب انہوں نے بہت خسارہ بھی اٹھایا ہے۔خاکسار ذاتی طور پر انھیں کم و بیش پندرہ برسوں سے جانتا پہچانتا ہے۔ اردو کے بڑے بڑے سیمیناروں، جلسوں خصوصا صحافتی تقریبات میں انھیں مدعو کیا جاتا ہے۔ میں نے دہلی کے کئی پروگرام میں انھیں سنا ہے۔ ان کی گفتگو نہایت سنجیدہ، فکر انگیز اور مدلل ہوتی ہے۔ یو ٹیوب اور انٹرنیٹ پر ان کی بہت سارے لیکچر موجود ہیں۔
میں اپنی زندگی میں جن چند لوگوں سے متاثر رہا ہوں٬ ان میں ایک اہم نام ابھے بھائی کا بھی ہے۔ وہ بالکل اسم با مسمی ہیں۔ ان میں علم و دانش کی ایسی روشنی ہے کہ خوف انھیں چھوکر بھی نہیں گزرتا۔میں ان کی کون کون سی خوبیوں اور کن کن اوصاف کا ذکر کروں۔ حیرت کہ ایک شخص میں اتنی ساری خوبیاں کیسے جمع ہو سکتی ہیں۔۔میری نظر میں ان کی شخصیت در اصل ملک کے مشترکہ کلچر کا امین اور پاسدار ہے۔ وہ صبر و قناعت اور رواداری کا سراپا تصویر ہیں۔ ان کی زندگی بذات خود ایک مشن لگتی ہے اور ایک ہم ہیں کہ خود کے لیے جی رہے ہیں۔حضرت اپنی تعریف پر ذرا بھی خوش نہیں ہوتے اور ایک ہم ہیں کہ اپنی تعریف سننے کے لیے پکڑ پکڑ کر کھلاتے پلاتے ہیں۔جو لوگ موصوف کو جانتے پہچانتے ہیں٬ وہ میری باتوں سے حرف بہ حرف اتفاق کریں گے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے ریسرچ اسکالر وصی احمد الحریری نے اپنے مضمون بعنوان “جدید اردو صحافت کا ایک بے لوث خادم: ڈاکٹر ابھے کمار” میں ان کی شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے:
“ڈاکٹر ابھے کمار جیسے نوجوان اسکالر سے مل کر لکھنے پڑھنے اور زندگی میں کچھ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ وہ خود میں ایک انجمن، ایک تحریک، ایک انسائیکلوپیڈیا اور چلتی پھرتی لائبریری ہیں۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ وہ جے این یو کی دانشورانہ روایت کے آمین اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے پاسباں ہیں۔ سماج میں ایسے صاف دل، نیک، ملنسار، متحرک اور فعال شخصیت کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ دعا ہے کہ وہ یوں ہی پوری دیوانگی کے ساتھ ظلم و تشدد کے خلاف علم بغاوت بلند کیے رہیں۔ اور سماجی انصاف کی جنگ علمی اور عملی دونوں سطحوں پر یوں ہی بے خوف ہوکر لڑتے رہیں۔
(روزنامہ سہارا، پٹنہ، 26/جون/2021، صفحہ/7)
ڈاکٹر ابھے کمار نے کبھی اگتے سورج کو نہ سلام کیا اور نہ ہی ناسازگار حالات سے کبھی مایوس ہوئے۔ دہلی یونیورسٹی اور دیگر اداروں میں انٹرویو کے دوران ان کے ساتھ ناانصافی بھی ہوئی لیکن زمانہ شاہد ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اپنی قدروں اور اپنے نظریات سے سمجھوتا نہیں کیا۔ ڈاکٹریٹ کے بعد دہلی مقیم رہے اپنی قدروں کے ساتھ جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ ملک کے موجودہ حالات میں اچھے بھلے لوگوں کو مصلحت پسندی کی زد میں آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حق گوئی اور بے باکی کے لیے انھیں کئی بار نوٹیس اور دھمکیاں بھی ملتی رہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی اس کی پرواہ نہ کی۔تعلیم کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ انسان قدروں کی حفاظت کے لیے زندہ رہے۔
ان کا قلم ہمیشہ غریبوں اور مظلوموں کی حمایت میں چلتا ہے۔ خاص طور پر وہ ملک کے دلت اور اقلیتی طبقے کے مسائل کے تئیں فکرمند رہتے ہیں۔ وہ فاشسٹ اور سیاسی طاقتوں سے ڈرے بغیر ناانصافی اور ظلم و استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ انھیں ملک کی جمہوری قدروں سے شدید محبت ہے۔ یہ محبت ان کی تحریر اور تقریر سے ہر آن آشکار ہوتی ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں ان کا وجود بہت قیمتی ہے۔ ایسی بے مثل شخصیت کا کھلے دل سے استقبال کیا جانا چاہیے تاکہ حق گوئی ٬ بے باکی اور دیانتداری زندہ رہ سکے۔۔ مجھے امید ہے کہ عزیز دوست ڈاکٹر ابھے کمار صاحب اب مزید توانائی اور تازگی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے۔چونکہ وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تدریس کرنے جا رہے ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ ایک بڑی تعداد میں ایسے طلبہ کی تربیت کریں گے جو جمہوریت، سیکولرازم اور سماجی انصاف کے نظریات سے وابستہ ہوں گے۔ یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ ان کی تحقیق اور تحریریں معاشرے کی فلاح و بہبود سے متعلق مسائل، خاص طور پر حاشیے پر موجود افراد کے مسائل کو مزید اجاگر کریں گی۔ ایک اچھا استاد معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتا ہے اور وہ فکری انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فکری انقلاب بالآخر معاشرے اور ملک کی ترقی کا راستہ ہموار کرتا ہے اور انسانیت کی پیش رفت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات۔

گورکھپور یونیورسٹی
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں