• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نانگاپربت پر پولش کوہ پیماؤں کی بہادری عظمت اور قربانی کی داستان۔ ۔محمد عبدہ

نانگاپربت پر پولش کوہ پیماؤں کی بہادری عظمت اور قربانی کی داستان۔ ۔محمد عبدہ

آخری اطلاعات کے مطابق نانگاپربت پر موسم خراب ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن روک دیا گیا ہے۔ الزبتھ  کو سخت محنت کے بعد بچا لیا گیا جبکہ پولش ٹام میکسوچ کو تمام تر کوشش کے باوجود نہیں بچایا جاسکا۔ سنو بلائنڈنس HACE اور فراسٹ بائٹ کے شکار میکسوچ کیلے خراب موسم منفی ساٹھ کی شدید ترین سردی میں بچنا ممکن نہیں رہا۔ میکسوچ ہمیشہ کے لیے نانگاپربت کی برف  میں دفن ہوگیا۔ سلام اس بہادر ٹام میکسوچ کی عظمت کو جس نے پہلے چھ بار نانگاپربت کو سر کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ  ہوسکا اور ایسا مستقل مزاج کہ ہار ماننے کی بجائے بار بار آتا رہا اور بالآخر نانگاپربت سے اپنی محبت کا ثبوت جان پیش کرکے دیا۔

الزبتھ نے 7400 میٹر کی بلندی سے ریسکیو کال کی تھی جس کے بعد ہنگامی طور پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔ الزبتھ نے بائیں پاؤں کی پانچوں انگلیوں میں فراسٹ بائٹ ہونے کے باوجود نیچے اترنے کا سفر جاری رکھا تھا۔ فراسٹ بائیٹ عموما ً ہاتھوں اور پاؤں پر حملہ کرتا ہے۔ انگلیاں بے جان ہو جاتی ہیں اور ان پر دباؤ  یا سردی کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ شروع میں متاثرہ عضو گرم ہوتا ہے اس میں سوجن آ جاتی ہے اور وہ خاصا نرم ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد بلسٹر بن جاتے ہیں جن کے اندر سرخی مائل اور پھر گہرے رنگ کا مائع جمع ہو جاتا ہے۔ عضو ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور پھر آخر میں یہ حصہ بالکل بے حس ہو جاتا ہے۔ اس میں خون کا دورہ نہیں ہوتا اور بالآخر یہ حصہ مر جاتا ہے۔

دونوں کوہ پیما 7400میٹر پر پھنس گئے تھے۔ پھر الزبتھ جوکہ خود بھی فراسٹ بائیٹ کا شکار ہوچکی تھی میکسوچ کو 7280 میٹر تک نیچے لائی اور قدرے ہموار جگہ پر ٹینٹ لگاکر لٹا دیا اور خود مدد لانے کے لیے اکیلی نیچے روانہ ہوگئی۔ الزبتھ نے آخری رابطہ 6671 میٹر پر کرکے بتایا کہ میں میکسوچ کیلے مدد حاصل کرنے نیچے آرہی ہوں۔
اس پورے ریسکیو میں سب سے خاص بات کےٹو کو سردیوں میں سر کرنے کے لیے موجود پولینڈ کے ایڈم بیلیکی، جاروسلا بوتر، پیوترک تومالا اور روسی نژاد پولش ڈینس یوربکو کی ہمت بہادری جرات اور قربانی کی ہے۔ انہوں نے اپنے دوست میکسوچ کو ریسکیو کرنے کے لیے اپنی مہم وقتی طور پر موقوف کردی۔ اور فوراً نانگا پربت پہنچ گئے۔ ہیلی نے انہیں 4900 میٹر کی بلندی پر اتارا اور چاروں بہادر جوان اپنی جان کی پرواہ نا کرتے ہوئے ساری رات سخت سردی میں نانگاپربت چڑھتے رہے۔ بہت کوشش کے باوجود انہیں میکسوچ نہیں مل سکا۔
سب سے حیران کن یہ تھا کہ ایڈم بیلیکی اور ڈینس بوریکومنفی چالیس سے منفی ساٹھ درجہ حرارت میں 6000 میٹر سے اوپر ایک بہت ہی مشکل ٹیکنیکل سیدھی اور برفانی چڑھائی پر بغیر رکے اور سانس لیے 121 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اوپر چڑھتے رہے۔ یہ رفتار عام کوہ پیمائی کی نسبت تین گنا زیادہ تھی جو کوہ پیمائی کی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے۔
کوہ پیماؤں کو سکردو اور الزبتھ کو اسلام آباد منتقل کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئیں ہیں ریسکیو کرنے والے چاروں عظیم کوہ پیما آج یا کل واپس کےٹو پر اپنی مہم دوبارہ شروع کردیں گے۔


دوسری طرف پولینڈ کے شہر وارسا کے ایک رپورٹر کے مطابق میکسوچ کی خبر آتے ہی پورے پولینڈ میں ریسکیو آپریشن چندہ کی مہم شروع کردی گئی اور ایک دن ایک لاکھ ڈالر جمع کرلیے گئے مگر میکسوچ اس سے پہلے ہی چلا گیا۔
کوہ پیمائی کی دنیا میں پولش کوہ پیماؤں کا شمار بہادر اور عظیم ترین کوہ پیماؤں میں ہوتا ہے۔ دنیا کے عظیم ترین پولش کوہ پیما جرزی ککوزکا سے شروع ہونے والا سفر ابھی جاری ہے۔ کسی بھی 8000 میٹر کی چوٹی کو سر کرنا کوہ پیما کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ مہم کی تیاری ٹریننگ خرچہ کا انتظام کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں مگر سلام ایڈم بیلیکی، جاروسلا بوتر، پیوترک تومالا اور ڈینس یوربکو کو جنہوں نے اپنی مہم چھوڑ کر قربانی کی عظیم مثال قائم کردی۔

نانگا پربت ریسکیو پر ایلن آرنیٹی نے ایک نقشہ شئیر کیا ہے جس میں کوہ پیمائی کی تاریخ کی سب سے منفرد تاریخ لکھی گئی ہے۔
بیلیکی اور یوربکو کو ہیلی کاپٹر پر کےٹو بیس کیمپ سے سیدھا نانگاپربت بیس کیمپ سے تھوڑا آگے کیمپ ون کے قریب اتار گیا جہاں سے وہ دنیا کی مشکل ترین برفانی دیوار کن شوفر وال پر آئے۔ ان کا اوپر چڑھنے کا انداز عام انسانوں کی بجائے کسی سپر مین یا مافوق الفطرت صلاحیتوں والی مخلوق جیسا تھا۔ سردیوں کا موسم رات کا وقت اور درجہ حرارت منفی چالیس سے بھی زیادہ تھا۔ انہوں نے رات کے اندھیرے میں صرف ساڑھے آٹھ گھنٹوں میں 1426 میٹر کی بلندی سر کی۔ ان کی اوپر چڑھنے کی رفتار ملاحظہ کریں۔
شام 5:30 بجے 4600 میٹر
شام 6:22 بجے 5219 میٹر
شام 7:01 بجے 5381 میٹر
رات 8:30 بجے 5600 میٹر
رات 9:00 بجے 5670 میٹر
رات 9:44 بجے 5814 میٹر
رات 12:30 بجے 5907 میٹر
رات 1:04 بجے 5926 میٹر
رات 1:26 بجے 6026 میٹر پر وہ الزیبتھ کے پاس جا پہنچے۔
کوہ پیمائی کو جاننے والے اچھی طرف سمجھتے ہیں یہ کوہ پیمائی یا ریسکیو نہیں ہے۔ بیلیکی اور بوریکو طاقت سے نہیں ہمت اور جذبے سے یہ کام کرکے تاریخ میں امر ہوگئے ہیں۔

Avatar
محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نانگاپربت پر پولش کوہ پیماؤں کی بہادری عظمت اور قربانی کی داستان۔ ۔محمد عبدہ

Leave a Reply to اقبال گورمانی جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *