پچھلے حصے میں ہم نے تاریخی، جینیاتی، لسانی اور ثقافتی شواہد کی بنیاد پر یہ واضح کیا کہ برصغیر کے مسلمان اکثریتی طور پر مقامی نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے آبا و اجداد اسی سرزمین کے کسان، کاریگر، صوفی، لوہار، جولاہے، اور شاعر تھے۔ وہ ترک یا عرب بننے سے زیادہ پنجابی، بنگالی، سندھی، دکنی، پشتو، براہوی اور کشمیری بن کر زندہ رہے۔
اب ہم اس بیانیے کے پیچھے کارفرما نوآبادیاتی منطق کو بے نقاب کریں گے ۔ وہ منطق جو صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اصل باشندوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے لیے استعمال ہوئی۔
نوآبادیاتی منطق: “زمین کا کوئی وارث نہیں”
جب یورپی استعمار دنیا بھر میں پھیلا، تو اس نے ایک نظریہ اپنایا جسے terra nullius (یعنی “بے مالک زمین”) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اگر کسی زمین پر یورپی طرز کا نظم، مذہب یا ملکیتی نظام موجود نہ ہو، تو وہ زمین “کسی کی نہیں” اور یورپی قابض اس پر قانونی و اخلاقی حق رکھتے ہیں۔
یہی منطق آسٹریلیا، امریکہ، افریقہ اور ف ل س ط ین میں اپنائی گئی:
آسٹریلیا کو “خالی زمین” قرار دے کر Aboriginals سے چھینا گیا.
امریکہ میں ریڈ انڈینز کو بےدخل کر کے قبضہ کیا گیا.
ف لس ط ین میں مقامی عربوں کو “غیرقانونی قابض” کہا گیا. اور ی ہ ودی قوم کی ” واپسی”۔
افریقی اقوام کو “غیر مہذب، وحشی ” قرار دے کر تہذیب کے نام پر غلام بنایا گیا۔
اسی منطق کو برصغیر میں بھی استعمال کیا گیا: مسلمانوں کو حملہ آور، غیر مقامی، اور اقتدار پر قابض کے طور پر پیش کیا گیا ۔ حالانکہ وہ اسی زمین کی تہذیب، کاشتکاری اور عوامی تاریخ سے وابستہ تھے۔
آدی واسی اور مسلمان: ایک جیسا استعماری بیانیہ
برصغیر میں آدی واسی اقوام کو ان کے نظام کی بنیاد پر “غیر مہذب” اور مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر “غیر ملکی” کہا گیا۔
آدی واسیوں کو “Scheduled Tribes” قرار دے کر حکومت سے دور رکھا گیا اور مسلمانوں کو “غیر مقامی” کہہ کر وطن سے جذباتی جُڑاؤ توڑنے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان میں بھی جولاہا، میو، لوہار، انصاری، میراثی جیسی ذاتوں کو “عجم” یا کم تر کہا گیا۔
یہ سب دراصل نوآبادیاتی حکمتِ عملی تھی: مذہب، نسل، نسب، اور ثقافت کے نام پر قوموں کو توڑنا اور انہیں اقتدار و تشخص سے دور رکھنا۔
آج کے ترقیاتی منصوبے، جیسے ‘گرین پاکستان’،فاریسٹ کور پراجیکٹ’، اور فوج کی زیرنگرانی ‘نیشنل ایگریکلچر فارم اسکیم’ جیسے منصوبے دراصل اسی نوآبادیاتی بیانیے کی نئی شکل ہیں۔ ان میں زمین کو ‘خالی’ ‘” غیر ترقی یافتہ’ یا ‘غلط استعمال شدہ’ دکھا کر مقامی آبادی کو بےدخل کیا جاتا ہے ۔گویا زمین کا اصل وارث وہ ہے جو طاقت یا جدیدیت کے دعوے کے ساتھ آئے۔ یہ terra nullius کی وہی منطق ہے، جس نے مقامی رشتے، علم اور حق ملکیت کو غیر متعلق قرار دے دیا۔”
مزاحمت کرنے والی اقوام کو نشانہ بنایا گیا
دنیا کی وہ اقوام جو “غیر متعلق” یا “قبضہ شدہ” کہی گئیں، وہی سب سے زیادہ مزاحمت کرنے والی قومیں تھیں:
ف لس ط ی نی ۔۔۔ جنہیں مہاجر کہا جاتا ہے، مگر وہی سب سے بڑی قربانیاں دیتے ہیں۔
آسٹریلوی Aboriginals ۔۔۔ جنہوں نے زبان و ثقافت کے لیے طویل جدوجہد کی۔
ریڈ انڈینز ۔۔۔۔جنہوں نے “Trail of Tears” جیسے قتل عام کے بعد بھی شناخت بچائی۔
افریقہ کے زولو اور ہاؤسا .۔۔۔ جنہوں نے نوآبادیات کے خلاف بغاوت کی۔
برصغیر کے مسلمان ۔۔۔۔جنہوں نے 1857، خلافت تحریک، اور ریشمی رومال جیسی تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ۔
برطانوی نظریہ: مسلمان بطور خطرہ
رچرڈ ایٹن جیسے مؤرخ واضح کرتے ہیں کہ مسلمان اس سرزمین کے تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی طور پر مقامی لوگ تھے۔مگر انگریزوں نے انہیں اجنبی اور ظالم دکھایا تاکہ مقامی حمایت ختم کی جا سکے۔
ول ڈیورانٹ لکھتے ہیں:
“انگریزوں نے مسلمانوں کو حقیقی خطرہ اس لیے سمجھا کیونکہ ان کے ذہنوں میں اپنی سابقہ حکومت کی یاد موجود تھی، چنانچہ انگریزوں نے منظم طریقے سے ان کی زبان، تعلیم، اور سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کیا۔”
ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کی رپورٹ The Indian Musalmans میں صاف لکھا ہے:
“مسلمانوں میں بغاوت کا رجحان ہے۔۔۔لہٰذا انہیں طاقت سے دور رکھنا ضروری ہے۔”
درحقیقت وحشی ، جنگلی ، جاہل ، بد تہذیب ، حملہ آور جیسے سب بیانیے قبضے کو اخلاقی جواز دینے کے لیے گھڑے گئے۔
Indigenous Narrative
اقوام کا زمین سے روحانی اور تہذیبی رشتہ
مقامی اقوام کا مؤقف سادہ مگر گہرا ہے:
زمین ماں ہے، تجارت یا فتح کی چیز نہیں.
ہم ہمیشہ سے یہاں تھے.
ہماری شناخت دریا، پہاڑ، جنگلات سے جُڑی ہے. یہ ہمارے جد امجد ہیں ۔
ہم نے نہ دوسروں پر قبضہ کیا، نہ مذہب کے نام پر جنگیں لڑیں؛
ہمیں ریاستی قوانین، ڈیمز، کان کنی، اور انتہا پسندی کے ذریعے محروم کیا گیا۔
زمین پر قبضہ، دراصل زندگی پر قبضہ ہے ۔۔۔۔جیسا کہ نوم چومسکی کہتے ہیں۔
زمین کی واپسی: Indigenous تحریکیں
دنیا بھر میں Indigenous اقوام نے اپنی زمین کی واپسی کا مقدمہ لڑا اور جیتا:
Black Hills
، امریکہ — لاکوٹا قبائل نے 1980 میں امریکی سپریم کورٹ سے اپنی ملکیت منوائی۔
Mabo Case،
آسٹریلیا ۔۔۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ Aboriginals اصل وارث ہیں۔
کینیڈا، نیوزی لینڈ، لاطینی امریکہ ۔۔۔۔۔جہاں مقامی اقوام نے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی بنیاد پر حقوق واپس لیے۔
یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ زمین پر پہلا حق طاقت یا قانون سے نہیں، بلکہ قربانی، مزاحمت ، تہذیبی جڑت اور یادداشت سے بنتا ہے۔
ف ل س ط ین کی وراثت کا مقدمہ
ف ل س ط ین کے مقامی باشندوں کے حق میں جو بنیادی منطقی دلیل پیش کی جاتی ہے، وہ یہ ہے:
زمین پر پہلا حق اُس کا ہے جو اس میں نسلوں سے رہتا آیا ہے، جو اس سے جڑا ہے، جو اس کی تہذیب، ثقافت، زراعت، اور یادداشت کا حصہ ہے ۔۔۔ نہ کہ اُس کا جو بیرونی طاقت یا مذہبی دعوے کی بنیاد پر قبضہ کرے۔
زمین کے وارث وہ ہیں جو اس کے ساتھ روحانی و تمدنی رشتہ رکھتے ہیں، نہ کہ جو تلوار یا قانون سے قابض ہوئے
ف ل س ط ی نیوں کی زمین سے وابستگی صرف تاریخی نہیں، بلکہ اخلاقی و وجودی ہے۔ سعید نے کہا:
“یہ تصور کہ ف ل س ط ین ایک ‘قوم کے بغیر زمین’ ہے، دراصل ایک موجود حقیقت ۔۔ یعنی وہاں رہنے والے عربوں ۔۔۔ کو مٹانے کی کوشش ہے۔”
سعید واضح کرتے ہیں کہ:
“عربوں کا اس زمین پر دعویٰ زیادہ مضبوط ہے کیونکہ ان کی موجودگی، رہائش اور تاریخ یہاں ی ہ ودی وں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل ہے۔”
یہ بیانیہ استعمار کا مخصوص طریقہ ہے: مقامی شناخت، تاریخ اور تعلق کو مٹا کر باہر سے ایک “زیادہ مستحق” طاقت کو زمین پر قابض بنانا۔
کیا قوم کی شناخت فتوحات اور سلطنتوں میں ہے یا پس پردہ عوامی تاریخ میں
یہ سوال اہم ہے کہ کیا قوموں کی شناخت صرف سلطنتوں اور فتوحات سے جڑی ہے یا پھر ان عوامی تہذیبوں سے جو روزمرہ کی زندگی، محنت، فن، اور جدوجہد میں پروان چڑھتی ہیں؟ آدی واسی، جنہیں تاریخ یا ریاست نے نہیں لکھا، مگر وہ آج بھی اپنی زمین اور شناخت کے لیے لڑ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ دراصل وہی اصل وارث ہیں۔۔صرف عدالتی فیصلے یا حکومت کی منظوری نہیں، اخلاقی جواز اور تحقیقی حقیقت یہی ہے کہ وہی اصل وارث ہیں۔
جنوبی ایشیا کے تناظر میں معروف مؤرخ شاہد امین اپنی کتاب “Event, Metaphor, Memory: Chauri Chaura, 1922–1992” میں لکھتے ہیں کہ:
“اصل تاریخ ان کہی کہانیوں، معمولی سمجھے جانے والے واقعات اور عام لوگوں کی یادداشتوں میں زندہ رہتی ہے، نہ کہ صرف نیتاؤں اور فتوحات کے بیانیوں میں۔”
چوری چورا میں برطانوی پولیس نے پرامن کسانوں پر گولی چلائی؛
عوام نے تھانے کو جلا دیا، 22 پولیس اہلکار مارے گئے؛
گاندھی نے اس ردعمل کو اپنی تحریک کے خلاف کہا، اور ملوث افراد کو متشدد اور امن کا دشمن کہا ۔
ریاست نے اسے “وحشیانہ” کہہ کر 19 افراد کو پھانسی دی۔
شاہد امین نے دکھایا کہ اصل کہانی وہ نہیں جو گاندھی یا ریاست نے سنائی، بلکہ وہ ہے جو مقامی عوام کی یادداشتوں، لوک روایتوں، اور ان کے دکھ سکھ میں محفوظ رہی۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ تاریخ صرف “اوپر سے” نہیں بلکہ “نیچے سے” بھی لکھی جاتی ہے۔
شاہد امین کے مطابق، مقامی عوام کے لیے یہ “ردعمل” ظلم کے خلاف ایک فطری بغاوت تھا۔ ان کی یادداشتوں اور روایتوں میں یہ واقعہ قومی مزاحمت کی علامت بن چکا تھا۔
اس واقعے نے دکھایا کہ “قومی تحریکوں” کا بیانیہ ہمیشہ عام لوگوں کے تجربات، جذبات، اور تاریخ سے نہیں جڑتا۔ یہ عوام کی micro-history ہی ہے جو اصل تاریخی سچائی کو ظاہر کرتی ہے۔۔یہ micro-history ہی دراصل اصل تاریخ ہے .۔۔۔ جو طاقت کے بیانیے سے نہیں، بلکہ عوام کی زبان، روایت، اور تجربے سے لکھی جاتی ہے۔ ان کی لوک داستانوں اور گیتوں ، نظموں ، قصوں کہانیوں ، عوامی ادب اور فنون میں اسکے نشان ملتے ہیں ۔
مسلمان صرف فاتح نہیں تھے، بلکہ تہذیب، تعمیر، مزاحمت اور روحانیت کے علمبردار بھی تھے۔
ان کی زبان، شاعری، موسیقی، تصوف، لباس، کھانا، اور لوک روایتیں زمین سے جڑی ہوئی تھیں۔ جس پہلو کو کیتھرین ایونگ کے مطابق حذف کر دیا گیا ۔
انہوں نے مقامی ثقافتوں کو جذب کیا، اور ترک و عرب شناخت پر مقامی شناخت کو ترجیح دی۔
تاریخ کا قلم واپس لینا ہو گا
نوآبادیاتی بیانیہ صرف بندوق سے نہیں، قلم سے بھی قائم ہوا۔ انہوں نے ہمارے لیے تاریخ لکھی، ہمارا مقام طے کیا، اور ہمیں زمین سے کاٹنے کی کوشش کی۔ اب ہمیں:
اپنی تاریخ خود لکھنی ہے
اپنی نسبتیں خود طے کرنی ہیں
اور زمین سے دوبارہ جُڑنا ہے ۔۔۔۔۔۔جسمانی، روحانی، تہذیبی اور نفسیاتی سطح پر۔
ہم حملہ آور نہیں ۔۔۔۔ ہم اس مٹی کے بیٹے ہیں۔
یہ مٹی ہماری شناخت، ہمارا حق، اور ہمارا مستقبل ہے۔
جاری ہے
بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں