مطالعہ کتب۔۔ عبدالحمید صادق

گھر سے کال موصول ہوئی تو چھوٹی بہن محبت و یقین بھرے لہجے میں کہنے لگی “بھائی میرے امتحانات مکمل ہونے کو ہیں ، جب آپ آئیں گے تو میرے لیے کیا تحفہ لائیں گے؟”
اسے یقین دہانی کرواتے ہوئے میں نے کہا کہ “ان شاءاللہ آپ کے لیے اچھا تحفہ لاؤں گا”۔

اب میں سوچنے لگا کہ چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے کیا تحفہ لے کر جاؤں۔۔۔۔؟ بالآخر ان کے لیے جہاں مختلف چیزیں خریدیں ان کے ساتھ سب سے قیمتی تحفہ یہ کتاب (بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا) خریدی کیونکہ بچے ، جنت کے پھول،تتلیاں اور آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کا سرور اور زندگی کا نور ہوا کرتے ہیں۔تبھی تو والدین اپنے پیارے بچوں کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش بھی دل و جان سے پورا کرنے کوشش کرتے ہیں۔

رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے،پھر اس کے والدین اسے یہودی،عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔

جی ہاں! معزز قارئین کرام آج ہم اگر معاشرے پر ایک سرسری سی نظر دوڑائیں تو ہر جانب یہودیت و عیسائیت اور ہندو ازم کو عام کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں ،نئی نسل کو اسلام سے دور کرنے کیلئے فحاشی و عریانی سے لبریز مختلف اقسام کے ڈرامے ،کارٹون اور فلمیں پیش کی جا رہی ہیں، جس سے نئی نسل کی نا صرف تربیت میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے بلکہ یہ بچے لمحہ بہ لمحہ اسلام سے اس قدر دور ہوتے چلے جا رہے ہیں جیسے ایک درخت پر پے در پے کلہاڑی کے وار کیے جائیں، تو بالآخر ایک وقت آتا ہے کہ وہ درخت اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے یا ایک ایسی لکڑی جو دیکھنے میں تو بہت خوبصورت نظر آتی ہے مگر اسے اندر ہی اندر سے گھن لگ چکا ہو تو وہ لکڑی سوائے جلانے کے کسی کام کی نہیں رہتی۔۔۔۔من و عن اسی طرح معاشرے پر ہونے والے فحاشی و عریانی کے اس وار سے مسلسل اسلام کا یہ پودا کمزور سے کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

ظاہری طور پر تو ہمارے بچوں کے نام عبداللہ،عبدالرحمن،صدیق و قاسم ہیں مگر حقیقت میں وہ بین ٹین،چھوٹا بھیم،ڈوری مون یا موٹو پتلو ہیں۔
خدارا اپنے بچوں کو فتنوں کے اس دور میں اپنے اسلاف سے جوڑئیے۔ اگر ایسا کرنے پر دل رضامند نہ ہو تو سنِ بلوغت اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے بچوں کو کسی کے ساتھ عشق معشوقی کرنے یا کسی بچی کا لنڈے کے نام نہاد عاشق کے بھاگنے پر ماتم کرنا چھوڑ دیجیے۔

مکتبہ دارالسلام سے شائع ہونے والی ایک شاندار کتاب جو بچوں کے لیے کسی بڑے تحفے سے کم نہیں۔۔۔عقائد و عبادات، اخلاق و آداب اور سیرت و تاریخ کی روشنی میں کردار سازی اور شخصیت آموزی کے لیے اسلامی تعلیمات کا خوبصورت انتخاب، جو بچوں کی شاندار تعلیم و تربیت کے لئے شرط لازم ہے۔

یہ اور اس  طرح کی مختلف کتب نا صرف آپ کے بچے کی تربیت بہتر کریں  گی، بلکہ آپ کے بچے کو مستقبل کا محمد بن قاسم،صلاح الدین ایوبی، غوری ، غزنوی و ٹیپو سلطان ، خولہ ، فاطمہ،عائشہ ، رقیہ و ام کلثوم بننے میں بھی کردار ادا کرے گی بشرط یہ کہ  آپ اپنے بچے کے متعلق ایسا خیال رکھیں اور انہیں اسلاف کے نقش قدم پر چلانا چاہیں تو۔۔( الحمدللہ ہر بار میرے گھر پہنچنے پر چھوٹے بہن بھائی باقی تحفے تحائف یا کھانے پینے کی چیزوں پر کتابوں کو اہمیت دیتے ہیں اور آپس میں اس بات پر بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ کتاب پہلے میں پڑھوں گا/گی کیونکہ
سرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
ساتھی کوئی نہیں کتاب سے بہتر

آج اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیجیے تاکہ کل یہ کہہ سکیں کہ
ہم نے خود تراشے ہیں راہِ منزل کے سنگ
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *