میرے انتظار کا عذاب
اس لا پتہ شہید کی بیوہ سا ہے
جو روز متروک ریلوے اسٹیشن کے بینچ پر گھنٹوں بیٹھی
اس گاڑی کی راہ تکے
جس میں جھنڈے میں لپٹا جسد خاکی آنا ہو
سفید چادر سونی کلائیاں
چہرے پر کچھ سوکھے اشکوں کی لکیر
میرے انتظار کا عذاب
اس لاپتہ مزدور کی بیوہ سا بھی ہے
جو روز سفارتخانے جائے
افسروں سے پوچھے کیا خلیجی ملک میں سمندر
لاش کے کپڑے بھی نگل جاتا ہے کیا؟
میرے انتظار کا عذاب
اس نامعلوم فرد کی بیوہ سا بھی ہے
جو بے گناہ راہگیر کسی پولیس مقابلے میں کام آگیا ہو
اور پولیس لاش ہی غائب کردے
وہ روز تھانے جائے
اور قاتلوں کے خلاف ہی رپورٹ درج کرے
میرے انتظار کا عذاب
بالکل ویسا ہے
جیسے کسی مظلوم کو قیامت کے دن کا ہوتا ہے
زخمی روح
آسمان کو تکتی نم آنکھیں
اور فلک شگاف چیخیں ہائے اللہ جی
میں ویسے ہی
تمھارا انتظار کرتی ہوں یارم ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں