شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ کے مضافاتی علاقے ہری وٹنو میں یکم جنوری 1950 کو پیدا ہونے والے غلام حسن میر کو کون نہیں جانتا۔ سیاست کی دنیا میں آپ محتاج تعارف نہیں ہیں۔ ملک بھر کے اہم سیاسی رہنماؤں میں آپکا شمار ہوتا ہے۔
غلام حسن میر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے علم قانون میں گریجویشن کی، تعلیم مکمل کرتے ہی آپ محکمہ تعلیم میں بحیثیت استاد مقرر ہوئے۔ ان کی ابتدائی زندگی اپنے علاقے کی پسماندگی کے مضبوط احساس اور اپنے علاقے میں مثبت تبدیلی لانے کی خواہش سے بھرپور تھی۔ عوام کی خدمت کی اس فطری دعوت نے انہیں سیاسی میدان میں قدم رکھنے پر مجبور کیا، تاکہ وہ اپنے لوگوں میں رہ کر انکے مسائل کو حل کریں اور جہاں وہ اپنے علاقے کے تئیں ایک اہم کردار نبھا سکیں۔ اسی سوچ کو ملحوظ نظر رکھ کر غلام حسن میر نے چند سال کے بعد ہی ملازمت سے مستعفی ہوکر سیاست میں طبع آزمائی کی، جو غلام حسن میر اور انکے چاہنے والوں کے لئے ثمر آور ثابت ہوئی۔ سیاست کے حوالے سے گلمرگ حلقہ انتخاب ایک بنجر سرزمین کے مانند تھی جسے غلام حسن میر نے اپنی سیاست سے سیراب کیا۔ آپ شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں جنہوں نے گلمرگ کو شہرِ سرینگر سے جوڑا، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ٹنگمرگ کے لوگوں کو تمام سہولیات میسر ہوں۔
میر کا سیاسی سفر 1970 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا، اور وہ جلد ہی ریاست کے سیاسی منظر نامے کی صفوں میں شامل ہو گئے۔ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے پرعزم تھے، اور اس عزم نے ان کے پائیدار سیاسی کیریئر کی بنیاد کا کام کیا۔
غلام حسن میر جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے رکن ہیں۔ وہ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی رکن تھے۔ آپ 2002 میں جموں اور کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر جموں اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ گلمرگ سے منتخب ہوئے تھے۔ آپ غلام محمد شاہ کی قیادت میں کابینہ میں وزیر قانون تھے۔ 2002 سے 2006 تک مرحوم مفتی محمد سعید کی قیادت میں کابینہ میں وزیر سیاحت بھی رہے۔
جموں و کشمیر کے لیے غلام حسن میر کی خدمات قانون ساز اسمبلی سے باہر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ 80 کی دہائی میں انہیں مرحوم غلام محمد شاہ کی زیرقیادت کابینہ میں وزیر کے طور پر مقرر کیا گیا، جس نے خطے کی ایک اہم سیاسی شخصیت کے طور پر ان کا مقام بلند کیا۔ اپنے پورے سیاسی کیرئیر کے دوران، غلام حسن میر عوام کی خدمت کے اپنے عزم پر ثابت قدم رہے۔ خطے میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اقتصادی ترقی کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے ایسے اقدامات کی وکالت کی جن کا مقصد جموں و کشمیر کے دیہی علاقوں میں لوگوں کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانا ہے۔ ان کی کوششوں نے خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے غلام حسن میر کا ایک بہت بڑا رول رہا ہے۔ نارہ بل سے ٹنگمرگ تک دو لین سڑک اور ڈگری کالج ٹنگمرگ غلام حسن میر کے اہم کارنامے ہیں۔
غلام حسن میر کی نجی زندگی اور سیاسی زندگی عوامی خدمت کے جوہر سے عبارت ہے۔ ایک عام نوجوان سے ریاستی کابینہ میں وزیر بننے تک کا ان کا سفر جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ان کی غیر متزلزل وابستگی کا ثبوت ہے۔ خطے کے سیاسی اور سماجی تانے بانے میں ان کی شراکت نے ایک انمٹ نشان چھوڑا ہے، اور ان کی میراث ان لوگوں کو متاثر کرتی رہتی ہے جو سیاست اور حکمرانی کی دنیا میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ غلام حسن میر شائد وہ واحد سیاست داں ہیں جنکا دروازہ 24 گھنٹے اپنے عوام کے لئے کھلا رہتا ہے۔ راقم الحروف کو امسال انکی ایچ ایم ٹی رہائش گا پر کسی کام سے جانا ہوا وہاں شہر سرینگر اور کشمیر کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تھے جنکی امیدیں میر صاحب سے وابستہ ہیں اور مجھے یقین کامل ہے کہ کوئی بھی انکے در سے خالی ہاتھ یا نا امید نہیں جاتا ہے۔

نوٹ: فاضل مضمون نگار سے رابطہ کرنے کے لئے پتہ ہے
ishfaqparwaz4@gmail.com
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں