ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے نام خط۔۔اظہر مشتاق

مکرمی جناب ڈاکٹر حسن ظفر عارف!

میں آپکی خیریت کی امید نہیں  کررہا بلکہ مجھے یقین ہے  کہ  آپ خیریت سے ہونگے۔ اور ویسے بھی ایک غیر روائتی فلسفی کو اگر خط کا پہلا جملہ ہی روائتی  لگے تو قرین از قیاس ہے کہ وہ پورا خط پڑھنے کا ارادہ ہی ترک کردے،  میں شاید آپ کے لئے تعظیمی اور توصیفی کلمات لکھنے سے بھی قاصر ہوں کیونکہ ایک متبدی کے پاس فلسفی اور دانشور کے لئے مناسب  الفاظ کیسے ہو سکتے ہیں،  میں چونکہ کبھی آپ سے نہ مل پایا لیکن مجھے لوگوں سے معلوم ہوا کہ آپ نہایت  نفیس، ہمدرد اور انسانوں سے  پیار کرنے والے تھے، دوستوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر  صاحب کبھی بھی  کسی سے غصّہ نہیں ہوئے اور تدریسی عمل کے دوران بھی اپنے طلبہ سے بے تکلفی اور شفقت سے پیش آتے رہے ہیں۔

میں آپکا  رسمی شاگرد تو نہیں رہا، کاش !!!! رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کی اجازت  ہو تو آپ کو استاد کہہ لوں، ارے آپ تو ایسی باتوں کا کبھی بُرا نہیں مناتے تھے اور یہ چھوٹی چھوٹی باتیں کبھی آپ نے سنجیدہ ہی نہیں لیں۔ تو بات یہ تھی استادِ گرامی کہ میں آپ کے ساتھ ہونیوالے سانحے کی وجوہات تلاش کر رہا تھا، میں گذشتہ تین دنوں سے مختلف کڑیوں کو آپس میں جوڑنے کی سعی کر رہا ہوں، مگر  میں ایک نالائق طالب علم ہوں جو ریاضی ، کیمیاء اور طبیعات کی مساواتوں  کو درست طریقے سے سمجھ نہیں سکا ،  مجھے یاد ہے کہ کیمیاء کی مساواتوں کو متوازن بنانے والے سوالات کومیں نے اکثر ادھورا چھوڑا ہے، میں اکثر جولاہے کی  مہارت پر رشک کرتا ہوں جو دھا گے کو ایسی  مہارت سے جوڑتا ہے کہ  مکمل کپڑے میں دھاگے کی کوئی بھی گرہ دکھائی نہیں دیتی، مجھ کوڑھ مغز سے بھلا ایک فلسفی کی  موت کا اندازہ بھلا کیسے لگایا جا سکتا ہے؟

لیکن سر ذرا سوچئے آپ  نے بھی تو کتنے قتل کِیے؟

دیکھیے  بیرون ِ ملک کی ایک اچھی جامعہ  سے فارغ التحصیل نوجوان نے جب جامعہ کراچی میں قدم رکھا ہوگا تو لوگ یہ سمجھے ہوں گے کہ، کل کلاں یہ نوجوان بھی باقی اساتذہ کا روپ دھار لے گا، اپنے دفتر میں بیٹھا پروفیسری کا رعب جھاڑتے ہوئے ، جی، کم اِن اور گیٹ آؤٹ جیسے الفاظ  اس کا تکیہ کلام ہوں گے، بھلا رنگ میں رنگنے میں کو ئی دیر تھوڑی لگتی ہے؟ لیکن آپ کے شاگرد بتاتے ہیں کہ آپ تو  جامعہ کراچی کی راہداریوں میں آلتی پالتی مار کر بھی بیٹھ جایا کرتے تھے،  ذرا سوچیے کہ  جب آپ کے گرد ترشے بالوں والی خواتین طالبات اور خوش لباس طلباء ایک دائرہ بنا کر بیٹھتے ہوئے ہوں گے توبظاہر تہذیب کا جبہ پہنے  جنسی ہیجان زدہ مرد اساتذہ کے ارمانوں کا خون نہیں ہوتا  ہو ہوگا؟

اور آپ نے بھی تو کمال ہی کر ڈالا تھا، بجائے  اپنے ہم عصر اساتذہ کے رنگ میں رنگنے کے آپ  خود ایک مرکزہ بن گئے اور جامعہ کے طلبہ آپ کے ارد گرد ایسے منڈلاتے جیسے ایک خلیے کے اندر موجود مرکزہ کے ارد گرد سائیٹو پلازم میں گالجی باڈیز، مائیٹو کانڈریا اور دیکیول تیرتے رہتے ہیں۔ اور پھر اگر طلباء خالی فلسفہ کے ہوتے تو خیر تھی مگر آپ کے مداح تو ہر شعبہ اور کلیہ میں تھے، سر غیر روائتی ہونا اچھی بات ہے مگر آپ روائت شکن ٹھہرے بھلا اپنے طلبہ کے ساتھ مجید کی کینٹین پر کوئی دال چپاتی ، چائے اور سیگریٹ پیتا ہے؟ سر آج کے نسبتاً ترقی یافتہ دور میں بھی سکہ بند پروفیسرز ایسا نہیں کرتے۔

آج وسعت اللہ خان نے اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ آپ جینز کی پتلون اور ایک ڈھیلی ڈھالی قمیض پہنا کرتے تھے  ، گذشتہ سال جب آپ  کی موٹر سائیکل سے گرفتار ہوتے ہوئے تصویر دیکھی تو سبز رنگ کی ڈھیلی سی قمیض میں آپ ہیرو لگے ، ایسا امن پسند ہیرو جو اپنے مزاج ، خوش اخلاقی  اور خوبصورت طبع سے اپنے آپ کو ممتاز بھی کرتا رہا اور ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنا  گرویدہ بھی کرتا  رہا، لیکن سر آپ خوش قسمت رہے کہ اُسوقت کے آپ کے ہم عصر  شاید اچھی سیاسی اخلاقیات رکھتے تھے، اسی لئے انہوں نے مذہبی بے حرمتی کا فتوٰی داغ کر آپ کو سلاخوں کے پیچھے نہیں پہنچایا، آپ  نے اپنی زندگی میں تو سنا ہی ہو گا کہ جنید  حفیظ نامی ایک  استاد جو امریکہ سے پڑھ کر آئے تھے کے گِرد بھی طلبہ کا ویسا ہی دائرہ بننے  لگا تھا، جیسا کہ آپ کے گرد تھا، مگر اس کے رفقاء کو یہ بات ہضم نہ ہوئی اور جنید کی منطقی گفتگو   اور مکالمے سے خائف  اُسی کی جامعہ کے اساتذہ نے اسے ملحد اور توہینِ مذہب کا مرتکب قرار دیکر اسے  جیل بھجوا دیا، یوں سمجھیے  کہ اس دن  ملتان سے پاکستان میں منطق ، مکالمہ اور متبادل بیانیہ کے دروازے بند  ہونے کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا اور آپ تو ضرور حیران ہوئے ہوں گے کہ جن پوسٹرز کا الزام جنید حفیظ پر لگایا گیا تھا ، تکنیک اور سائنس کے اس دور میں بھی ان پرسائنسی تحقیق نہ عدلیہ نے ضروری سمجھی اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے، حیرت یہ ہے کہ جنید حفیظ کا کیس اتنا حساس قرار دیا گیا کہ اس کے لئے جیل میں ہی عدالت لگائی گئی اور اس کے مقدمے کی پیروی کرنے والے راشد رحمٰن کو بھی دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ سننے میں آیا ہے کہ راشد رحمٰن کے قاتل ابھی تک پکڑے نہیں جا سکے۔

استادِ محترم میرا ماننا ہے کہ ایک حساس انسان اس وقت رفتہ رفتہ موت کو گلے لگانا شروع کر دیتا ہے جب عوام اور ریاست کے درمیان ہونے والے عمرانی  معاہدے کی روشنی میں بنائے گئے قوانین  پر  ریاست خود کاربند نہیں رہتی، آپ کے ساتھ بھی شاید یہی معاملہ تھا۔

آپ فلسفے اور مارکسزم  اور سرخ سویرے کے ایسے وقت میں داعی تھے جب مارکس کے مضامین اور کتابوں کو بغیر دیکھے  یہ فتوٰی صادر کر دیا جاتا تھا کہ سُرخ رنگ کی کتابوں میں تو درج ہی کفر ہے، آپ  کے ترقی پسند نظریات کے ناقد وہ لوگ تھے جو سوشلزم کی جامع تعریف سے بھی نابلد تھے، آپ  نے تنظیم ، مذہب، انسانی حقوق اور ترقی پسند روایت کا مطلب سمجھانا چاہا  مگر افسوس  کہ پاکستان کا موقع پرست ترقی پسند اور بایاں بازو  اپنی انا ء کے سحر اور انقلاب کے رومانس میں گرفتار رہا ، ترقی پسندی اور بائیں بازو سے منسلک  سیاسی کارکنوں  ، ارے نہیں کارکن تو کوئی نہیں ، یہاں تو سب رہنما ہیں، ہاں ترقی پسند رہنماؤں نے کبھی تنظیم کھڑی کرنے اور اسے مضبوط کرنے کا سوچا تک نہیں، مجھے محسوس ہو رہا اسی لئے کبھی آپ ذوالفقار علی بھٹو کی اور کبھی میر مرتضٰی بھٹو کی پیپلز پارٹی   میں ترقی پسندی  کو تلاشتے رہے۔

سر آپ کی اور مومن خان مومن کے  متحدہ قومی موومنٹ میں جانے کے فیصلے کو ترقی پسند وں نے  جہاں سخت تنقید کا نشانہ بنایا وہاں  آپ کے پڑھائے ہوئے چند لوگوں کو حیرانی بھی ہوئی، پھر آپ کی گرفتاری پر سب سے زیادہ شور بھی انہی  مٹھی بھر ترقی پسندوں نے مچایا، آپ کی وفات پر  آپ کی زندگی پر پندرہ پندرہ منٹ کی سلاٹ چلانے والا الیکٹرانک میڈیا اور اس پر بیٹھے بورژوا دانشورآپکی گرفتاری کے وقت کسی انجانے خوف کے زیرِ اثر خاموش تھے، آپ کی وفات پر وہ آپ کی تعریف کرتے نہیں تھکتے مگر مجھے کامل یقین ہے کہ آپکے کسی بھی ترقی پسند سیاسی عمل کے ناقد اور مخالف رہے ہوں گے، حیرانی کی بات یہ ہے کہ  یہ آج بھی  آپکی موت کو طبعی موت ہی سمجھے ہوئے ہیں ، یہ تصویر کے دوسرے رُخ کو دیکھنے، پرکھنے اور کریدنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، شاید آج بھی خوف کے زیرِ اثر ہیں  یا نجی چینل  فلسفہ اور مارکسزم کے ایک استاد کی موت کے تنازعے کو زیرِ بحث لانے سے اتنے پیسے نہیں کما سکتے۔

آپ یقیناً  عبدالحمید بھاشانی، سی آر اسلم، لطیف چوہدری، میجر اسحاق، نذیر عباسی، حسرت موہانی، فیض احمد فیض، بھگت سنگھ ، سید سجاد ظہیر، حسن ناصر، حاصل بزنجو، غوث بخش بزنجو، دادا امیر حیدر، بابا نوروز خان، رائے احمد خان کھرل.بشیر بلور، معراج محمد خان، باچا خان،جی ایم سیّد، اعتزاز احسن ، ڈاکٹر نجیب، ببرک کارمل ، خیر بخش مری، اسلم راحیل مرزا،  ماما عبداللہ جان جمالدینی، یوسف مگسی،  احمد فراز ، جون ایلیا، مشال خان اور اسی قبیل کے بہت سے اور لوگوں کی قطار میں کھڑے ہوں گے، شاید آرمی پبلک سکول کے معصوم بچے بھی پاس ہی اٹکھیلیاں کر رہے ہوں، میرے وطن جموں کشمیر کے عظیم فرزند چراغ حسن حسرت، محمد مقبول بٹ، امان اللہ خان، عبدالخالق انصاری، میر واعظ مولوی محمد یوسف، عبدالغنی لون،افضل گورو، اشفاق مجید وانی، جلیل اندرابی، بیرسٹر قربان علی، سردار محمد انور خان،  شبیر صدیقی، گلنواز بٹ،سردار  محمد آفتاب خان اور آزادی کی  خاطر جان نچھاور کرنے والے قریباً ایک لاکھ لوگ بھی  کہیں پاس ہی ہوں گے ، دیکھیے  گا کہ بلھے شاہ کی دھرتی کی معصوم زینب کو  دیکھ کر بلھے شاہ  رقص کرنا تو بھول نہیں گئے؟ شاید وہ  کوئی نیا  بین لکھنے میں مصروف ہوں گے، شاید معصوم زینب کے چہرے پر ابھی بھی  پژ مردگی چھائی ہوگی، مجھے لگتا کہ فرشتے بھی انسان کی اس درندگی پر نوحہ کناں ہوں گے۔

خوف اور جبر کی سیاہ رات میں مارے جانے والے روشنی کے سبھی سفیروں کو میرا عقیدت بھرا سلام عرض کیجئیے گا۔

مکالمے، منطق، انسانی آزادی، انسانی حقوق ، امن ، بھائی چارے  ، مساوات، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، ترقی پسند سماج اور روشن صبح کے عزم کے ساتھ ۔۔۔

آپکا چاہنے والا ایک متبدی طالب علم!

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے نام خط۔۔اظہر مشتاق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *