ہم تلک چاڑی سے تھوڑا نیچے اتر کر اسٹیشن روڈ کی جو گلی چھوٹکی گٹی کی طرف جاتی تھی اس میں مسجد کے سامنے والی پتلی سی گلی کے ایک حویلی نما مکان میں رہتے تھے جو دادا کو جودھپور کے گھر کے کلیم میں ۱۹۵۱ میں الاٹ ہوا تھا۔
ابتدائی کلاسوں میں ابو خود یونیورسٹی جانے سے پیشتر ہمیں اسکول چھوڑتے۔ بعد ازاں ہم بہنیں اپنے کزن عتیق بھائی جان کے ساتھ جو آگے کنٹونمنٹ اسکول میں پڑھتے تھے اسکول جانے لگے۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے سینٹ بونا وینچر کے سامنے سے گزرتے ہوئے عتیق بھائی جان کے دوست نے شرارت میں آکر انہیں کیچڑ کی ڈائریکشن میں دھکا دیا۔ میں عتیق بھائیجان کے برابر میں تھی۔ انکے بجائے سارا زور مجھ پر آیا۔ میں کیچڑ میں گر گئی، میرے کپڑے خراب ہو گئے اور میں رونے لگی۔ عتیق بھائی جان اسکول جانے کے بجائے مجھے واپس گھر لے کر گئے اور اسکول کے ٹائمنگز اتنے سخت تھے کہ میں پھر اس دن اسکول نہیں جا سکی جسکا مجھے بہت افسوس رہا۔یہ یاد نہیں کہ عتیق بھائی جان اسکول جا سکے یا نہیں۔
اسکول لے جانے کے لئے ابو ہمیشہ ٹریفک سے بچنے کے لئے ہمیں بجائے اسٹیشن روڈ کے، اندر گلیوں سے لے کر جاتے۔ ہمارے گھر کے پیچھے آڈوانی لین تھی جسکے گھر ہمیں اپنی گھر کی چھت اور کھڑکیوں سے بھی نظر آتے تھے۔ ہندو آرکیٹیکچر کے تعمیر کردہ بہت ہی خوبصورت گھر جیسے کبھی کبھی فلموں میں نظر آتے۔ بچپن میں ہمارے گھر کی کھڑکیوں سے پیچھے جو گھر نظر آتے اس میں ایک برآمدہ مجھے بہت خوبصورت لگتا۔ یاد پڑتا ہے کہ بڑوں نے کبھی بتایا یہ کوئی مندر ہوا کرتا تھا۔ واللہ اعلم
بھارتی سیاست دان ایل کے آڈوانی کے خاندان نے بھی سندھ سے ہجرت کی تھی۔ ویسے انکا تعلق کراچی سے تھا مگر آڈوانیوں کی بڑی تعداد حیدرآباد میں بھی رہتی تھی۔ نرسری سے ہی میرے ساتھ سپنا آڈوانی اور سونا بھگوانداس پڑھتی تھیں۔ اسکول چھوڑنے کے بعد ابھی دو مہینے پیشتر سپنا سے بات ہوئی ۔ وہ آسٹریلیا منتقل ہو گئی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حیدرآباد شہر کی ہندو برادری تقسیم سے قبل بہت خوشحال تھی اور کاروبار پر انہی کا تسلط تھا۔ تقسیم سے قبل بنوائی گئی تقریباً ہر خوبصورت رہائشی عمارت پر اسکی تعمیر کی تاریخ اور بنوانے والے کا نام لکھا ہوتا تھا۔ ایسی ایسی خوبصور ت حویلیاں تھیں کہ بنوانے والوں کے ذوق کا اندازہ ہوتا تھا۔ پچھلے چند سالوں میں بہت سے ٹی وی ڈرامے بھی حیدرآباد کی حویلیوں میں فلمائےگئے۔
امی کے ایک چچا گاڑی کھاتہ میں فردوس سینما کے سامنے والی گلی میں رہتے تھے۔ علی گڑھ کے پڑھے خاندان کے سب سے حسین خوش شکل پڑھے لکھے۔ انہیں جو گھر اپنے والد کی وساطت کلیم میں ملا بہت ہی کلاسک فنش کا۔ یہ کوئی چار بہت بڑے بڑے گھروں کا انکلیو تھا۔ جس کے ایک گھر کا گراؤنڈ فلور امی کے دادا کو الاٹ ہوا۔ باقی گھر لمبی لمبی راہداریوں سے ایک دوسرے سے کنیکٹڈ تھے۔
سفید براق ٹائلوں کا فرش، برآمدے کے بلند گول ستوں، صحن کے آخر میں پانی کے مٹکوں کے لئے جو الماری بنی تھی اس کے دروازے پلانٹیشن ڈورز تھے جو لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو ملا کر بنائے جاتے اور جس میں ٹکڑوں کے درمیان جھریاں ہوتی ہیں۔ کچن کے باہر لکڑی ذخیرہ کرنے کا اسٹوریج تھا جس کا ایک ایگزٹ کچن کے باہر اور ایک کچن کے اندر کھلتا تھا۔ مجھے یاد ہے باہر ایک چھوٹی سی کھڑکی کی طرح سبز دروازہ تھا جہاں سے لکڑی اندر ڈالی جاتی ہوگی اور کچن کے اندر سے نکالی جاتی ہو گی۔
پاکستان بننے کے تقریباً پچاس سال بعد ایک ہندو فیملی نے رابطہ کیا کہ یہ ہمارا گھر تھا ہم پاکستان کے وزٹ کے دوران اسے دیکھنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ فیملی آئی۔ تفصیل تو نہیں معلوم،لیکن وزٹ کے دوران فیملی کا کہنا تھا تعمیر کے فوراً بعد ہی انہیں بھارت منتقل ہونا پڑا۔
بڑے ہال نما کمرے کے پنکھے کے بارے میں بتایا کہ یہ ہم نے اٹلی سے منگوایا تھا اور اسکی گارنٹی پورے پچاس سال تھی۔ امی کی چچی نے بتایا اسی سال پنکھے میں کچھ پر ابلم آنی شروع ہوئی ہے۔
۲۰۱۰ میں جب ہمیں حیدرآباد میں اپنا آبائی گھر چھوڑنا پڑا گو اس ہجرت میں ہماری اپنی مرضی شامل تھی پھر بھی دل کیسا خون ہوا تھا۔ اور آج بھی یہ زخم تازہ محسوس ہوتا ہے۔
یہاں کوئی یہ نہ سمجھے کہ ایسا صرف ہندؤوں کے ساتھ ہی ہوا۔ ہم جانتے ہیں کہ دوسری طرف مسلمانوں اور سکھوں نے بھی تقسیم کو اسی طرح بھگتا ہے۔ اور سینکڑوں نہیں ہزاروں لاکھوں فیملیز نے بھگتا۔ ایسی فیملیز لکی تھیں جو بغیر جانی نقصان کوچ کر گئیں۔
میں سوچتی ہوں ہجرت کی تاریخ شاید انسانی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے۔ ہجرت کا لفظ میں مذہبی اصطلاح کے طور پر نہیں بلکہ مائیگریشن کے اردو ترجمے کے طور پر استعمال کر رہی ہوں۔ کیونکہ اور کوئی متبادل مجھے اس وقت یاد نہیں آرہا۔
تاریخ میں بنی اسرائیل کی کنعان سے مصر اور پھر مصر سے صحرائے سینا اور پھر کنعان میں آباد ہونا قرآن اور دیگر مذہبی صحیفوں میں مذکور ہے۔ پھر اسرائیل کے قیام کے وقت کنعان کے لاکھوں فلسطینیوں کا جن کی اکثریت خود یہودیوں کی تحقیق کے مطابق انہیں بنی اسرائیل کی اولاد تھی، پوری دنیا میں پھیل جانا۔
ہجرت کے موضوع پر لاتعداد ناول اور فلمیں بنیں۔ ان سطور کو تحریر کرتے ہوئے مجھے معروف فکشن رائٹرز قرات العین حیدر کا “سیتا ہرن” نامی ناولٹ یاد آرہا ہے۔ جو ایک ایسی لڑکی سیتا کی کہانی ہے جسکے والدین نے سندھ سے ہجرت کی۔ فیملی بعد ازاں مشکلات کا شکار رہتی ہے۔ اس لڑکی کو اسکے ماموں کے پاس نیو یارک بھیج دیا جاتا ہے جہاں کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران (جی ہاں اسی کولمبیا یونیورسٹی میں جس نے پورے امریکہ بلکہ تازہ اطلاعات کے مطابق غزہ کے مسئلے پر پوری دنیا کی یونیورسٹیز میں آگ لگا دی ہے۔) وہ اسلام قبول کر کے اقوام متحدہ کے نیو یارک آفس میں کام کرنے والے ایک مسلمان لڑکے جمیل سے شادی کر لیتی ہے۔ بعد ازاں شوہر سے علیحدگی کے بعد وہ اسکے رشتے داروں کے ہاں کراچی وزٹ کرتی ہے اور وہاں سے اپنے والد کے دوستوں سے ملنے سکھر کا سفر کرتی ہے۔ قرات العین کا وژن اور موضوعات کا تنوع دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
۲۰۱۶ کے موسم بہار میں ہارورڈ کے ایک سیمسٹر میں ہجرت کے موضوع پر ایک فلم اور ناول پر کچھ کام کیا۔ مگر اسکا تذکرہ پھر سہی۔
آڈوانی لین کے کونے پر ایک دھوبی کی چھوٹی سی دکان تھی جسکا نام غالباً نتھو دھوبی تھا۔ آگے گلی کے آخر میں اسلام بھائی کی دکان تھی جس میں لائیبریری بھی تھی۔ لوگ آنا لائیبریری کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن میری بچپن میں کم سے کم کرایہ جو میں نے کسی ایسی لائیبریری کو ادا کیا وہ آٹھ آنے تھا۔
بات شہناز کی ہو رہی تھی جسکا شکوہ تھا تزئین ہمارے والدین کو ہماری شادی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ بس ہمیں پڑھائی میں کھپانا چاہتے۔ چند سال پیشتر شہناز سے بات ہوئی تو معلوم ہوا سلیقے قرینے سے دو چوٹیاں باندھنے والی شہناز اب اسکن اسپیشلسٹ ہے۔ کچھ سال سعودیہ میں کام کرنے کے بعد اب پاکستان منتقل ہو گئی ہے۔ شوہر بھی اسپیشلسٹ ہی ہے اور شاید ابھی سعودیہ میں ہی سرو کر رہا۔ بچے بڑے ہو چکے ہیں۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں