• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اہلِ تشیع میں اخباریت، اجتہاد، مرجعیت اور حکومتِ فقیہ کے تصورات میں فرق/حمزہ ابراہیم

اہلِ تشیع میں اخباریت، اجتہاد، مرجعیت اور حکومتِ فقیہ کے تصورات میں فرق/حمزہ ابراہیم

آج کل سوشل میڈیا پر اہل تشیع کے بیچ اجتہاد و تقلید پر بحث گرم ہے جس میں مرجعیت اور ولایت فقیہ مطلقہ جیسے عنوانات بھی گڈ مڈ ہو رہے ہیں۔ عام عزادار یا ملنگ شیعہ کو ان سب اصطلاحات اور مکاتبِ فکر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی کے روز و شب میں ہی الجھا ہوا ہے اور اس کے پاس مطالعے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ البتہ دینی معاملات میں مطالعہ کرنے والے اثنا عشری شیعوں میں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں جن کی وضاحت سے پہلے اختصار کے ساتھ  تاریخی پس منظر بیان کرنا ضروری ہے۔

تاریخی پس منظر

عرب میں ساتویں صدی عیسوی میں  اسلام آیا تو قرآن عربی کی پہلی بڑی کتاب تھی۔ اس خطے میں رومی، یونانی اور ساسانی زبانوں میں لکھی گئی کتب تو ہوتی تھیں لیکن عربی کو پڑھنے لکھنے کی زبان کا درجہ اسلام کے آنے کے بعد ملا۔ چنانچہ عربی کا کوئی معیاری رسم الخط اور یکساں گرامر نہ ہونے اور لکھنے والوں کی کم تعداد جیسی وجوہات کی بنا پر احادیث جمع نہ ہو سکیں۔ حضرت عمر کے دور میں تو احادیث لکھنے پر پابندی بھی رہی۔ البتہ قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں محفوظ کر لیا گیا۔ قرآن میں احکام کی آیات بہت کم ہیں اور ان کی تشریح احادیث کی روشنی میں کی جاتی تھیں ، جو قاضیوں کو یاد ہوتی تھیں۔

دوسری طرف فتوحات کی وجہ سے حکومت کا دائرہ پھیلتا چلا جا رہا تھا۔ ایسے میں انتظامی امور کو سنبھالنے کیلئے جن صحابہ کو مقرر کیا جاتا ان کو کچھ احادیث یاد ہوتیں اور کچھ وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ اس سمجھ بوجھ میں اختلاف بھی ہوتا تھا۔ سرکاری دستاویزات اور سکّے وہاں رائج رومی و ساسانی زبانوں میں ہی ہوتے تھے۔ لیکن اموی دور کے آخر میں عربی کو بھی سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ البتہ یاد رہے کہ عربوں کے برعکس رومی، ساسانی اور چینی تہذیب میں کتابیں لکھنے اور پڑھنے پڑھانے کا رواج بہت پہلے سے تھا۔ مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں اکثریت غیر مسلم ہوتی تھی جو آہستہ آہستہ اسلام قبول کر رہی تھی۔

عباسی دور تک ایسی نئی نسلیں آ چکی تھیں ،جنہیں احادیث کم ہی یاد ہوتیں۔ مسلمانوں کی آبادی بہت بڑھ گئی اور اس میں حدیثیں جاننے والوں کا تناسب خطرناک حد تک کم ہو گیا تھا۔ مختلف لوگوں کی سمجھ بوجھ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہونے لگیں۔ اسی دوران چین کے قریبی علاقے فتح ہوئے تو وہاں سے کاغذ بنانے کا فن مسلمانوں نے سیکھ لیا۔ مامون الرشید کے دور میں رومی، ساسانی، یونانی اور ہندوستانی کتابوں کا بڑے پیمانے پر ترجمہ ہونے لگا تو مسلمانوں میں نظریات کا اختلاف بڑھ گیا۔ اب فیصلے کرنے کیلئے قاضیوں کی تربیت کا معاملہ درپیش ہوا تو دین کی سمجھ بوجھ کا نام اجتہاد پڑا اور اس کی مدد سے مختلف مسائل کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش سے فقہ ترتیب پائی۔ اجتہاد میں جن فکری اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا تھا انہیں اصولِ فقہ کہا گیا۔ اصولِ فقہ کی پہلی کتاب، الرسالہ، امام شافعی (متوفیٰ 819ء) نے لکھی۔ یہ حکومت کی بھی ضرورت تھی، کیونکہ حکومت کو مختلف علاقوں میں قاضی تعینات کرنے ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اہلسنت کے ہاں قاضیوں نے چار بڑے مجتہدین کے اجتہاد کو کافی سمجھ لیا کیونکہ معاشرہ زیادہ تیزی سے تبدیل نہیں ہو رہا تھا، بعد میں کوئی نیا مسئلہ پیش آتا تو قاضی انہی مجتہدین کے اصولوں کے مطابق قیاس کر لیتا۔

احادیث کو بعد میں کتابوں میں جمع کیا گیا۔ مختلف علما  نے لوگوں سے احادیث سن کر اپنی محدود عقل کے مطابق ان کو پرکھا اور جو درست معلوم ہوئیں ان کو لکھ لیا۔ امام بخاری کی وفات 870 عیسوی کی ہے۔ اہل تشیع میں احادیث لکھنے کا سلسلہ پہلے سے تھا لیکن متفرق اوراق کو کتابی شکل بعد میں ملی۔ شیخ کلینی 941 عیسوی میں فوت ہوئے۔ حدیث کی اکثر کتب ایرانیوں نے لکھی ہیں۔ یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ اس زمانے میں کتاب لکھنے پر بہت سرمایہ خرچ ہوتا تھا۔ چنانچہ جب آل بویہ نے عباسی خلافت میں مالی وسائل تک دسترس پیدا کی تو ہی شیعہ کتب حدیث کی تدوین ممکن ہوئی۔ اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ احادیث پر کام کی ایک علمی سرگرمی کے طور پر مالی سرپرستی تو کی جا سکتی تھی لیکن حکومت کی خود سے فیصلے سنانے والے قاضیوں کی ضرورت صرف اجتہاد کرنے والے ہی پوری کر سکتے تھے۔ اہل تشیع کو چونکہ کسی بڑی سلطنت کا انتظام چلانے کا مسئلہ درپیش نہیں تھا لہٰذا ان کے ہاں فقط احادیث ہی احکام کی تشریح کا مآخذ رہیں۔ شیعوں کی تعداد بھی بہت کم ہوتی تھی۔

قاضی کسی لکھے ہوئے آئین کے پابند نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی فقہی فہم کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ اسی طرح مجرم کو وکیل کی مدد سے دفاع کے حق کا تصور بھی نہیں تھا۔ چنانچہ سفارش، رشوت اور اقربا پروری زوروں پر تھی۔ ایک ہی جرم میں کسی کو معمولی تو کسی کو سخت سزا سنائی جاتی۔ قاضی کا ایک کام حکومت کے سیاسی مخالفین کو سزا دینا بھی ہوتا تھا۔ صدیوں تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔

طالب علموں کو عربی قواعد اور ادب، منطق، فقہ اور اصول فقہ،  کلام اور یونانی فلسفیوں کے اقوال یاد کرائے جاتے تھے جسے فلسفہ کہا جاتا تھا۔ یہی لوگ حکومت کے دیگر کام سنبھالتے تھے۔ جیسے امراء کے طبیب بنتے تھے تو یونانی اور ہندوستانی حکمت بھی پڑھتے تھے۔ کیلنڈر بنانے اور جائیداد اور تجارت کے حساب کتاب کیلئے ہیئت، ریاضی اور دھات سازی بھی پڑھتے تھے۔ لیکن یہ سب یونانی علوم نہایت ناقص تھے۔ یونان اور ہندوستان سے تصوف کا جہلِ مرکب بھی عربی میں منتقل ہو گیا۔

ہمارے سماج  کیلئے پہلا تحریر شدہ آئین انگریزوں نے بنایا۔ انہوں نے ہی مجرم کو اپنے دفاع کیلئے وکیل لانے کا تصور بھی دیا تاکہ کسی سے زیادتی کا احتمال کم ہو جائے۔ یوں کمی کمین عوام کو پہلی بار قانون کی حکمرانی کی ہَوا لگی۔ انگریزوں نے ہی جدید ہسپتال، میڈیسن، سائنس اور سماجی علوم متعارف کرائے جنہوں نے ابنِ سینا اور مُلاصدرا کے خیالات  کی جگہ لے لی۔ جدید طب کی وجہ سے بیماریوں کا مقابلہ ممکن ہوا تو انگریز دور میں آبادی تیزی سے بڑھی۔ انگریز دور سے پہلے نہ صحتِ عامہ کا کوئی نظام تھا نہ عوام کی تعلیم کا کوئی نظام ہوتا تھا۔  اکثر انسان بچپن میں ہی مر جاتے تھے۔ یہ سمجھنا اس لئے ضروری ہے تاکہ تاریخ کو ماضی کے ماحول میں رکھ کر دیکھا جا سکے۔ انگریز یہ تبدیلیاں لائے تو  علما بیروزگار ہو کر چندے کے محتاج ہو کر رہ گئے۔ اسی لئے علما  ملحد چین کے اتنے خلاف نہیں جتنے سیکولر مغرب کے خلاف ہیں۔ امام حسین ؑ کا فرمانا ہے کہ اکثر لوگ دنیا کے بندے ہوتے ہیں اور دین ان کیلئے زبان کا چٹخارہ ہوتا ہے۔ علما  دینی مخالف کو بھلے معاف کر دیں لیکن دنیاوی نقصان پہنچانے والے کو نہیں بھولا کرتے۔

اہل تشیع میں اجتہاد

شیعہ آئمہ ؑ نے اصولِ فقہ پر کوئی کتاب نہیں لکھی تھی۔ البتہ شیعوں میں بھی غیبت کے زمانے میں احادیث کے اختلاف کے پیش نظر اصولِ فقہ پر کام شروع ہو گیا۔ سید مرتضٰی (متوفیٰ 1044ء) نے اصولِ فقہ پر پہلا رسالہ لکھا۔ شیخ طوسی (متوفیٰ 1067ء) نے بھی اصولِ فقہ پر کتاب، عدۃ الاصول، لکھی۔ انہوں نے اس کتاب میں اجتہاد اور قیاس کی مخالفت بھی کی کیونکہ شیعہ آئمہ ؑ نے اجتہاد کی مخالفت کی تھی۔ البتہ علما کا ایسا گروہ بھی سامنے آیا جو اصولِ فقہ کو بالکل بھی درست نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اخباری کہلائے۔ اخباری کی اصطلاح سب سے پہلے عبدالجلیل قزوینی (متوفیٰ 1170ء) نے استعمال کی۔ شیعوں میں مجتہد کی اصطلاح سب سے پہلے عراق کے عالم علامہ حلی (متوفیٰ 1325ء) نے استعمال کی اور اسے منظم غور و فکر کا جائز طریقہ قرار دیا۔ علامہ حلی تصوف کے خلاف تھے۔

موجودہ لبنان کے علاقے جبل عامل سے تعلق رکھنے والے جناب شمس الدین محمد ابن مکی (متوفیٰ 1385ء) نے فقہ کی کتاب لمعہ لکھی جو اب بھی شیعہ مدارس کے نصاب کا حصہ ہے۔ ان کو مملوک سلطان برقوق کے شافعی قاضی نے مسلکی بنیاد پر سزائے موت سنائی جس پر دمشق میں ایک سال قید کے بعد عمل درآمد ہوا۔ بعد میں ان کی لاش جلا کر راکھ اڑا دی گئی۔ لبنان سے ہی تعلق رکھنے والے شیخ زین الدین عاملی (متوفیٰ 1559ء) نے ان کی کتاب کی شرح لکھی۔ ان کے مذہبی عقائد کی تفتیش اور سنی علما  سے مناظرے کیلئے عثمانی خلیفہ نے ان کو گرفتار کر کے استنبول لانے کا حکم دیا لیکن خلیفہ کے وزیر رستم پاشا نے ان کا سر تن سے جدا کر کے خلیفہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جس پر خلیفہ نے رستم پاشا کا سر تن سے جدا کروا دیا اور لاش کو دریا برد کر دیا۔

صفوی دورِ حکومت

اس دوران ایران میں 1501ء میں صفوی سلطنت قائم ہوئی جو پہلی مستحکم شیعہ سلطنت تھی۔ اب ان کو وہی ضرورت پیش آئی جو عباسی سلطنت کو پیش آئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے جبل عامل سے شیعہ مجتہدین منگوائے تاکہ سلطنت کیلئے قاضی تیار کئے جا سکیں۔ یوں مجتہدین کو قاضی کے منصب کی شکل میں دنیاوی فائدہ بھی ملنے لگا۔ اب زیادہ شاگرد ان کی طرف جانے لگے اور اصولی مکتب پھیل گیا۔ اس دور میں عوام اپنے قبیلے کے سردار کے مذہب کو اپناتے تھے اور سردار بادشاہ کے مذہب کو اپنایا کرتا تھا۔ یوں شیعہ آبادی تیزی سے بڑھی اور اس طرح بھی اصولی زیادہ ہو گئے۔ اسی دوران عام شیعہ کیلئے کسی مجتہد کی پیروی کا تصور بھی سامنے آیا۔ شہروں میں رہنے والے شیعہ اپنے شہر کے کسی بھی مجتہد کی تقلید کر سکتے تھے۔ اسے خمس دے سکتے تھے تاکہ وہ اسے ایسے کاموں میں خرچ کرے جو امام مہدی ؑ کی خوشنودی کا باعث ہوں۔ اکبر اعظم کے دور میں ہندوستان آنے والے قاضی نور اللہ شوشتری (متوفیٰ 1610ء) بھی اصولی مجتہد تھے اسی لئے قاضی بنے۔

صفوی حکمران ایک صوفی سلسلے کے پیر بھی تھے۔ لہٰذا شیعوں میں تصوف بھی اسی دور میں عام ہوا۔ ملا صدرا (متوفیٰ 1640ء) کے خاندان کو حکومت کی طرف سے وسیع جائیداد ملی تھی۔ انہوں نے ابن عربی کے خیالات، فلوطین کے فلسفے اور مختلف جاہلانہ باتوں کی تاویلات پر کئی کتابیں لکھیں۔

اب اخباری علما نے اصولیوں کی رد میں زیادہ سرگرمی دکھائی۔ چنانچہ ملا امین استر آبادی (متوفیٰ 1623ء) نے فوائد مدنیہ کے عنوان سے اصولی مکتب کے خلاف کتاب لکھی۔ صفوی دور کے آخر میں علامہ مجلسی (متوفیٰ 1699ء) نے احادیث پر کام کیا جس سے اخباری مکتب دوبارہ طاقتور ہو گیا۔ وہ تصوف کے بھی خلاف تھے۔

یہاں رک کر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس دور میں کتابیں عام لوگوں تک نہیں پہنچتی تھیں کیونکہ کاغذ بہت کم ہوتا تھا اور چھاپہ خانہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ کتابیں بڑی تعداد میں شائع ہو پاتیں۔ عام مسلمانوں کے پاس کوئی کتاب نہیں ہوتی تھی نہ ہی لکھنے کیلئے کوئی کاپی پنسل ہوتی تھی۔ وہ صرف سننے اور بولنے کی حد تک زبان جانتے تھے۔ لباس کا بھی یہی حال تھا، عوام بمشکل ایک یا دو چادروں سے بدن ڈھانپتے تھے۔ لباس بھی مغربی دنیا میں  انجن کی ایجاد کے بعد کپڑے کی فیکٹریاں لگنے سے سستا اور عام ہوا ہے۔ شہر میں یا مذہبی عالم لکھ پڑھ سکتا تھا یا تاجر یا پھر سرکاری عہدیدار کچھ لکھ پڑھ سکتا تھا۔ کاروبار کرنے والے بھی مشکل سے محدود مقدار میں کاغذ خرید کر حساب کتاب رکھتے تھے۔ اسی لئے ہمیں پرانے قلعے، مندر اور مساجد تو ملتی ہیں لیکن کوئی صدیوں پرانا سکول نہیں ملتا۔ یہ تو شہروں کا حال تھا جن کی آبادی مشکل سے چند ہزار تک جاتی تھی۔ دیہاتوں میں تو بالکل جنگل کا ماحول ہوتا تھا۔ لکھنا پڑھنا انگریز دور میں عام ہوا ہے۔

قاجار دورِ حکومت

صفوی سلطنت 1736ء میں ختم ہوئی۔ اس کے بعد ایران میں مختلف علاقوں پر مختلف حکومتیں قائم ہوئیں یہاں تک کہ 1789ء میں دوبارہ ایک بڑی سلطنت قائم ہو گئی جسے قاجار سلطنت کہتے ہیں۔ اس درمیانی زمانے میں عراق پر عثمانی خلیفہ حاکم تھا، وہاں کے شہر کربلا میں آقا باقر بہبہانی (متوفیٰ 1793ء) نے اصولی مکتب کو نیا عروج دیا۔ ان کے زمانے میں اخباری مکتب کی نمائندگی شیخ یوسف بحرانی (متوفیٰ 1772ء) کرتے تھے۔ اس دوران اصولیوں اور اخباریوں میں لڑائیاں اور قتل و غارت بھی ہوئی اور آخر میں اصولی علما اخباری مکتب فکر کے خاتمے میں کامیاب ہو گئے۔ اودھ میں 1721ء میں شیعہ گورنر کی حکومت بنی جو سنی علماکے مدرسے فرنگی محل کے علاوہ شیعہ علما  کو بھی مالی امداد دیتی تھی۔ لکھنؤ کے سید دلدار علی نقوی (متوفیٰ 1820ء) بھی اصولی مجتہد تھے جنہوں نے اساس الاصول لکھی۔ انہوں نے تصوف کے خلاف بھی ایک کتاب، الشہاب الثاقب، لکھی۔ عراق کے اصولی علما  کو بھی لکھنؤ سے مالی مدد جاتی تھی۔

مرجعیت

اب تک کے اصولی علما مرجع نہیں بنے تھے کیونکہ مرجعیت اس دور تک ممکن ہی نہیں تھی۔ لکھنؤ  کے مجتہدین بھی مرجع نہیں تھے۔ انیسویں صدی عیسوی میں انگریزوں نے ہندوستان میں چھاپہ خانہ متعارف کرایا۔ کاغذ کی صنعت کو فروغ دیا۔ یوں بڑی تعداد میں کتابیں چھاپنا ممکن ہوا۔ اس کے ساتھ ہی اخبارات کا آغاز ہوا۔ یہ ذرائع ابلاغ کا انقلاب تھا جس نے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا۔ خط و کتابت عام ہونے لگی۔ مختلف شہروں میں کالج قائم ہوئے جس سے پڑھے لکھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مذہبی شناخت واضح تر ہوئی اور سماج میں تقسیم بھی بڑھی۔ اب یہ بھی ممکن ہوا کہ شرعی مسائل کو ایک مختصر رسالۂ عملیہ کی شکل میں لکھ کر بڑی مقدار میں چھاپا جائے اور وہ سب شیعہ آبادیوں میں فروخت ہو۔ ٹیلی گراف، جسے تار بھی کہتے ہیں، ایجاد ہوا تو ایک ہی دن ہزاروں میل دور سے پیغام پہنچانا ممکن ہو گیا۔ اسی طرح انگریز انجن بھی لائے۔ ریل گاڑی کے ذریعے سفر آسان اور عام ہو گیا۔

اب ایک نیا سماجی منصب سامنے آیا جسے مرجعیت کہتے ہیں۔ جب ہر علاقے کے مجتہد تک رسائی ممکن ہو تو کیوں نہ اس کی تقلید کی جائے جو سب کا استاد ہے؟ اب اعلم مجتہد کا عنوان سامنے آیا۔ شیخ مرتضی انصاری (متوفیٰ 1864ء) وہ پہلے مجتہد تھے جن کی تقلید کو باقیوں کی تقلید پر فوقیت ملی اور وہ عالمِ تشیع کے پہلے مرجع بنے۔ انہوں نے اعلم مجتہد کی تقلید کو اجماع کی رو سے لازمی قرار دیا۔ تقلید کے بغیر شریعت پر عمل کرنے کی صورت میں جن مسائل میں مجتہدین میں اختلاف ہو، ان میں عام شیعہ کا عمل شریعت کی مخالفت تصور ہونے لگا۔ اب اخروی نجات کیلئے عراق میں موجود مرجع کی تقلید ضروری تھی۔ اس سے مرجع کو بے پناہ طاقت مل گئی جس کا پہلی مرتبہ اظہار میرزا حسن شیرازی (متوفیٰ 1895ء) کے دور میں ہوا۔ انگریزوں نے ایران میں تمباکو کا کاروبار شروع کیا تو انہوں نے تمباکو کے حرام ہونے کا فتوٰی دے دیا۔ یہ فتوٰی ٹیلی گراف اور ڈاک کے جدید نظام کی بدولت ایران بھر میں پھیل گیا اور لوگوں نے مذہبی جذبے سے حقے توڑ ڈالے۔

اس طاقت کا زیادہ نمایاں اظہار ان کے بعد آنے والے مرجع آخوند خراسانی (متوفیٰ 1911ء) کے دور میں ہوا جو ایرانی نظام حکومت کو بدل کر جمہوری حکومت لانے میں کامیاب ہوئے۔ بادشاہ کے اختیارات کو محدود کر کے اختیارات پارلیمنٹ اور عدلیہ کو منتقل کئے گئے۔ اسے انقلابِ مشروطہ کہا جاتا ہے۔ اخباریوں کی طرح اصولی بھی امامِ معصوم کے سوا کسی کی حکومت کو اسلامی نہیں سمجھتے۔ لہٰذا غیبت کے زمانے میں جمہوریت کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اصول کے تحت بادشاہت پر فوقیت دی گئی۔ جمہوریت بھی انیسویں صدی کی سماجی تبدیلیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اس سے پہلے ہر شہری کا ریکارڈ تیار کرنے، اس کو ووٹ کا حق دینے اور الیکشن کی مہم چلانے کیلئے نہ کاغذ ہوتا تھا نہ پرنٹنگ پریس، نہ ہی سیاسی جلسے جلوس کے لئے سفر کرنا ممکن تھا کیوں کہ  ریل گاڑی اور بسیں وغیرہ نہیں ہوتی تھیں۔ جو لوگ خلافت راشدہ کو جمہوریت کہتے ہیں وہ ماضی پر حال کا قیاس کرنے کی غلطی کرتے ہیں۔ بہر حال ڈیڑھ سو سال پہلے شروع ہونے والا مرجعیت کا ادارہ ہمیشہ جمہوریت کا حامی رہا ہے اور آج بھی آیت اللہ سیستانی عراقی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

حکومتِ فقیہ

ولایت مطلقہ فقیہ یا حکومتِ فقیہ کا تصور اگرچہ ملا احمد نراقی (متوفیٰ 1829ء) نے عوائد الایام میں دیا تھا لیکن ان کی مراد ایک ایسے بادشاہ کی تھی جو مجتہد ہو۔ اس تصور کو باقی مجتہدین نے قبول نہیں کیا تھا اور اخباریوں کیلئے تو یہ بالکل قابلِ قبول نہ تھا۔ ایران کا موجودہ نظام بادشاہت نہیں بلکہ ایک طبقے کی حکومت ہے جس کی وضاحت بیسویں صدی عیسوی میں آنے والی سماجی تبدیلیوں کو سمجھے بنا ممکن نہیں ہو گی۔

برصغیر میں انگریز دور میں عام عالم دین کا روزگار مزید تنگ ہونے لگا تو علما  نے انگریزوں کے بنائے کالجوں کی طرز پر مدارس قائم کئے جن میں اسی طرح ایک کورس کے تحت پڑھانے، امتحانات منعقد کرنے اور ڈگریاں دینے کا آغاز ہوا۔ یہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں سے سند یافتہ علما یا تو مزید مدارس بناتے یا مساجد میں خطیب بن جاتے۔ مدارس کا انتظام چندوں یا انگریزوں کی مدد سے چلایا جاتا تھا۔

لیکن اس دوران انگریز ایک اور ایجاد لائے جسے لاؤڈ سپیکر کہتے ہیں۔ اب یہ ممکن ہوا کہ ایک عالم دین ریل کے ذریعے کسی علاقے تک جائے اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کرے۔ پہلے آبادی کم ہونے سے اجتماعات میں سو سے زیادہ لوگوں کی شرکت کم ہی ہوتی تھی۔ اب خطیب کیلئے مختلف شہروں میں جانا اور ہزاروں کے مجمع سے خطاب فرمانا آسان ہوا تو اس سے معقول آمدن بھی ہونے لگی۔ اسی طرح چھاپہ خانے کی برکت سے مختلف دینی اخبارات اور ماہوار مجلے نکالے جانے لگے۔ علماکو آمدن کے نئے ذرائع میسر آ گئے تھے۔ چنانچہ مذہبی بنیادوں پر جھگڑے بھی ہونے لگے۔ 1906ء میں لکھنؤ میں شیعہ سنی فساد ہوا۔ ہندو مسلم جھگڑے بھی بڑھنے لگے۔ ایران میں 1909ء میں شاہ کے حامی شیخ فضل اللہ نوری نے پارلیمنٹ کے خلاف ہنگامہ کیا۔

انگریزوں نے مقامی آبادی کو اسمبلیاں بنا کر انتخابات کے ذریعے اقتدار میں شریک کرنا شروع کیا جس سے انہیں اپنی اہمیت کا احساس ہوا۔ جنگ عظیم اوّل چھڑی تو ترکی کی خلافت کو لے ڈوبی۔ پہلی بار مسلمانوں میں تحریکِ خلافت کی شکل میں لاوہ پھٹا۔ تحریک خلافت تو ناکام رہی لیکن اپنے پیچھے مذہبی سیاسی کارکن چھوڑ گئی۔ علمانے جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار بنا لیں۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے پر مصر میں رشید رضا اور ہندوستان میں مولانا مودودی نے خلافت کے احیاء کا نظریہ پیش کیا۔

مغرب میں جدید ادویات، اخبارات، لاؤڈ سپیکر اور ریل گاڑی نے ایک اور جن کو جنم دیا۔ وہاں چونکہ جدید دور کے آغاز سے پہلے ہی پادری اور سیاست الگ ہو چکے تھے، لہٰذا وہاں مذہب کے بجائے نسلی یا معاشی بنیادوں پر سیاسی جتھے بننے لگے۔ سیاسی جتھہ سیاسی جماعت سے الگ ہوتا ہے۔ سیاسی جتھے میں پروپیگنڈے کے زور پر لوگوں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر کے ایک سیلاب کی شکل دی جاتی ہے۔ یہ آئیڈیاز پر سوچنے کے بجائے آئیڈیالوجی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل کرشماتی لیڈر کے پاس ہے اور ان کے اپنے دماغ کا کام علم حاصل کرنا اور دنیا کو سمجھنا نہیں بلکہ آئیڈیالوجی بنانے والے لیڈر کی اطاعت کرنا ہے اور دنیا کو بدلنا ہے۔ اطاعتِ امیر کا تصور مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ سماجی طور پریہ متنوع اکثریت پر ایک منظم اور یک رنگی اقلیت کا چڑھ دوڑنا ہے۔ چنانچہ روس میں کمیونزم اور اٹلی میں فاشزم کے انقلابات آئے۔ لیڈر نے اپنی ناکامی کو ضدِ انقلاب کی سازش قرار دیا تو مخالفین کی جان و مال و آبرو منظم جتھے کے ہاتھوں محفوظ نہ رہی۔ لاؤڈ سپیکر کا بڑا بھائی، ریڈیو، بھی آ چکا تھا۔ جنگ عظیم دوم میں ہٹلر اور مسولینی جیسے لیڈروں کے قوم سے ریڈیو پر خطاب کے کرشمے نے چھ کروڑ لوگوں کی جان لے لی۔

یہ خبریں ہندوستان اور مصر پہنچیں تو ہندوؤں میں بھی ہندوتوا کا نظریہ سامنے آیا۔ خلافت کا احیا چاہنے والوں نے اسلام کی ایک نئی تشریح نکالی جسے اب علمی حلقوں میں اسلام ازم کہا جاتا ہے۔ مولانا مودودی، حسن البناء، سید قطب وغیرہ نے کمیونزم اور فاشزم سے متاثر ہو کر اسلامی نظام کے خود ساختہ عنوان سے کئی کتابیں لکھیں۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکہ نے اس سوچ کو کمیونزم کے توڑ کیلئے پھیلایا۔ سعودی اور ایرانی بادشاہ امریکی کیمپ میں تھے لہٰذا یہ کتب عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ایران میں بھی بڑی تعداد میں شائع ہوئیں۔ ایران میں ساواک نے ڈاکٹر علی شریعتی کو کھڑا کیا جنہوں نے تاریخ کی جاہلانہ تشریح کر کے سرخ شیعیت جیسے من گھڑت خیالات پھیلائے۔ سید قطب، مولانا مودودی اور اخوان المسلمون کے دیگر مصنفین کی کتب کے فارسی تراجم ہوئے۔ چونکہ کمیونسٹ یہ جھوٹا دعویٰ  کرتے تھے کہ وہ سائنسی فکر کے حامل ہیں، اس لئے ملا صدرا کے فلسفے کو سید حسین نصر کی مدد سے سائنس کے مقابلے میں لایا گیا۔

اس ماحول میں آیت اللہ خمینی نے ملا احمد نراقی کے نظریۂ ولایت فقیہ مطلقہ کو زیادہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا۔ وہ سیاسی مسائل پر شاہ کے خلاف موقف اپنایا کرتے تھے۔ وہ لوگ جو کمیونزم کے خلاف اسلام ازم کے انقلابی نظریئے کو اپنا چکے تھے، وہ آیت اللہ خمینی کے پرچم تلے جمع ہونے لگے۔ ان میں سے اکثر نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کم ہی کیا تھا اور دوسروں کی تحریریں زیادہ پڑھی تھیں۔ آیت اللہ خمینی کے پیغامات ریڈیو اور کیسٹ کے ذریعے ملک بھر میں پھیل گئے۔ حوزے کے علما  آیت اللہ خمینی اور ان کے پیروکاروں کو اخوانی کہتے تھے۔ وہ ان کے تصوف کی طرف رجحان کو بھی درست نہیں سمجھتے تھے۔ لبنان میں علامہ جواد مغنیہ (عماد مغنیہ کے والد) نے الخمینی والولایۃ الفقیہ کے عنوان سے کتاب لکھ کر آیت اللہ خمینی کے نظریات کو رد کیا۔ موسیٰ صدر بھی ان کے نظریات کو باطل سمجھتے تھے۔ لیکن کالج یونیورسٹی کے لڑکے لڑکیوں میں آیت اللہ خمینی مقبول ہوتے گئے۔

شاہ کے دور میں جبر اور ظلم کی فضا بھی تھی جس نے غصے کو جنم دیا تھا۔ شاہ کمیونزم اور اسلام ازم کے بیچ جھگڑا بڑھا کر مخالفین کی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کو اپنی کامیابی سمجھتا تھا۔ لیکن افغانستان اور ایران امریکہ کیلئے کمیونزم کے خلاف فرنٹ لائن صرف اسی صورت بن سکتے تھے جب یہاں سے کمیونزم کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔ چنانچہ ایران میں انقلاب آ گیا اور کمیونزم کا خاتمہ کر دیا گیا۔ افغانستان میں جہاد ہوا اور وہاں سے بھی کمیونزم رخصت ہوا۔

ایران میں 1979ء میں انقلاب کے نتیجے میں حکومتِ فقیہ قائم ہوئی۔ اس انقلاب میں 11 فیصد عوام عملی طور پر منظم ہو کر شریک ہوئے تھے۔ یہ مرجع کی حکومت نہیں تھی بلکہ ولی فقیہ کی حکومت تھی۔ اس میں عقل سے مراد اہل تصوف کا کشف یا علمِ حضوری ہے۔ ولی فقیہ کا قول خود حجت ہے۔ اسی لئے اکثر ولی فقیہ کو زمانے کا حسین کہا جاتا ہے۔ عام شیعہ اس بات سے چڑتے ہیں۔ اخوانی شیعہ جواب میں عام شیعوں کو کو گمراہ سمجھتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

خلاصہ

اخباری شیعیت قرآن کی تشریح میں حدیث کو محور سمجھتی ہے۔ اصولی شیعیت اگرچہ عقائد کے معاملے میں حدیث کو ہی محور سمجھتی ہے لیکن احکام سے مربوط آیات کی تشریح میں احادیث سے استنباط کرنے کیلئے منطق کا استعمال اور اجماع کا خیال کرنا بھی لازمی سمجھتی ہے۔ مرجعیت اس کی نئی شکل ہے جس میں صرف توضیح المسائل میں درج شدہ احکام کی حد تک اعلم مجتہد کی تقلید کرنا لازمی ہوتی ہے۔ البتہ عقائد، تاریخ اور سیاست میں اپنی عقل کا استعمال کرنا اور مطالعے کو وسعت دینا ضروری ہے۔ اصول دین میں تقلید کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح فوت شدہ مرجع کی تقلید بھی درست نہیں سمجھی جاتی کیونکہ زمان و مکان سے آگاہی کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تیسری قسم کی شیعیت اخوانی شیعیت ہے جو سیاسی جتھے کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ یہ اجماع کے خلاف ولی فقیہ کے مکاشفے کو اہمیت دیتی ہے۔ ولی فقیہ کا علمِ حضوری ہی اسکی نظر میں عقل ہے جسے ولی فقیہ نے سیر و سلوک کر کے حاصل کیا ہے۔ اسے اللہ نے باقیوں کا حاکم مقرر کیا ہے۔ اسے الہام ہوتا ہے، وہ کرامات کا مالک ہے، وہ لوگوں کی جان و مال پر ان سے زیادہ حق رکھتا ہے۔ باقی لوگوں کو اپنی عقل پر تالا لگا لینا چاہیے ورنہ ۔ ۔ ۔

Facebook Comments

حمزہ ابراہیم
ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا § صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply