فوری اور سستا۔۔حسیب حیات

 سستی شے تو اب سستے بازار سے بھی نہیں ملتی صاحب، بیسیوں اسٹالز پر نظریں گھماتے گردن موڑتے تھک ہار کر ایک دکاندار سے ہم نے یہی سوال کر ڈالا ،بھائی صاحب کچھ سستا نہیں ملے گا آپ کے پاس؟

پہلے تو آنکھیں پھیلا کر اس نے ہمیں گھورا،پھر چہرے پر کاروباری مسکرا ہٹ لاتے ہوئے بولا ، بھائی صاحب یہ جو بازار کا نام ہے نا یہ ہی کافی ہے ،مزید کچھ سستا چاہیے تو دائیں بائیں نظر دوڑائیے آپ کو جو مسکراہٹ بکھیڑتی تصویر ہر طرف نظر آتی ہے اسے ساتھ لیجائیے یہ خادم معیار ا علی بھی ہے اور سستا ہونے کا دس سالہ سرٹیفیکیٹ بھی.

یہ جواب سننا تھا کہ ہم الٹے پاؤں وہاں سے بھاگے. تھک ٹوٹ کر ہم ایک ٹوٹے ہوئے بنچ پر خاموشی سے جا بیٹھے، اوٹ میں جس کے سستی مسکراہٹ اپنا فرض نبھا رہی تھی. سورج کی میٹھی کرنیں تھکے بدن سے ٹکرائیں تو غنودگی بھی لپٹنے کو بھاگتی آئی. ہم نے جھٹکے سے اسے دور بھگایا کہ کہیں سستانے کی یہ سستی بھی ہمیں مہنگی ناپڑ جائے. کیا زمانہ آگیا ہے کہ سُستی بھی اب سستی نہیں رہی. انہی سوچوں میں گم تھے کہ وہ زمانہ یاد آگیا جب لنڈے بازاز سے کچھ نا کچھ اچھا اور سستا ہاتھ لگ جایا کرتا تھا اور ہم اسے اپنی کامیابی جانتے ہوئے بگلیں بجانے کے ساتھ ساتھ اس بے وقوف گورے پر ہنسا کرتے تھے جس نے نئی نکور پتلون شرٹ یا سویٹر غلطی سے  اپنے اصل حقدار تک پہنچا دیا. اب تو گوروں کے اس پرانے مال پر کالے کرتوت والوں کا راج ہے .آج کے دور میں تو لنڈے میں بھی مال اچھا ملتا ہے اور نہ  سستا.

ماضی کے جھروکے سے جھانک کر  ہٹے تو چیف جسٹس کا تازہ بیان اڑتا ہوا آیا اور خیال کے جالے میں مکھی کی طرح آ پھنسا. کہتے ہیں فوری اور سستا انصاف ہر ایک کا حق ہے. جسٹس صاحب کے اس بیان میں فوری کو تو ہم فورا پہچان گئے. روز روز کا ٹاکرا جو ہے ہمارا. یہ جلد اثر کرنے والی دوا ہے جو ٹیکے کے طور لگائی جاتی ہے. درد تو خیر ہوتا ہے مگر قوم کو جان لیوا بیماری سے بچانے کے لئے درد والی یہ دوا دینی لازمی ہوتی ہے. جیسے ڈالر مہنگا ہونے پر فوری سے روٹی پانی سے لے کر پٹرول تک مہنگائی کا فوری ٹیکہ. سیانے لوگ بتاتے ہیں یہ ٹیکہ نہ  لگایا جائے تو قوم پر فالج کا حملہ ہو سکتا ہے اور فالج زدہ کمزور قوم اقوام عالم میں کبھی کوئی مقام نہیں پا سکتی.ایٹم بم نہیں چلا سکتی کسی بدزبان کی زبان کو لگام نہیں ڈال سکتی. ہم تو کوئیک اثر کرنے والے اس فوری ٹیکے کا درد چپ چاپ سہتے رہے ہیں اور آگے بھی خاموشی سے ایسا ہی کرتے رہیں گے.

چیف جسٹس کے بیان کا دوسرا حصہ سستا انصاف میری سمجھ سے تو بالکل ہی باہر ہے. سستی تو اب شے کوئی رہی نہیں ایسے میں انصاف سستا ہو  گیا تو شہرت مہنگی ہو جائے گی اور شہرت مہنگی ہو گئی تو نعروں پر پلنے والے لیڈروں کا کیا بنے گا. وہ لوگ جو روٹی کپڑا اور مکان، پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائیں گے، تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آگئی ہے، جیسے نعروں سے سستی شہرت پاتے رہے ان کا کیا بنے گا. یہ نعرے نہ رہے تو قیمے والے نان اور مرغ پلاؤ والی شوخ شرارتی شاموں کا کیا بنے گا. کالے کوٹ والوں اور ان نعروں  پر ناچنے والوں کا کیا بنے گا. دوسرے لفظوں میں یہ چسکے نہ  رہے تو فوری ٹیکوں کا اثر نہیں  چڑھے گا . ان ٹیکوں نے اثر نہ  کیا تو ہم یہودو نصاریٰ  تو کیا بھارت سے بھی لفظی جنگ کے قابل نہیں  رہیں گے اور اگر ہم نے لفظی جنگیں لڑنا چھوڑ دی‍ں تو ہمارا وقت کیسے کٹے گا؟ بتائیے چیف جسٹس صاحب؟

Avatar
حسیب حیات
ایک پرائیویٹ بنک میں ملازم ہوں اسلام آباد میں رہائش رکھے ہوئے ہوں اور قلم اُٹھانے پر شوق کھینچ لاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *