دھاندلی یا تبدیلی ایک ن لیگی کی نظر میں۔۔۔۔ عامر عثمان عادل

 پاکستانی قوم کا سیاسی شعور اس قدر بیدار ہے کہ کوئی بھی محفل ہو سیاست کے تذکرے کے بغیر سجتی ہی نہیں ،بریکنگ نیوز کی ایسی چاٹ لگی ہے کہ ہر کوئی  ٹی وی سکرین سے چمٹا نظر آتا ہے جس طرح کوئی  مضطرب بار بار کلائی پر بندھی گھڑی دیکھتا ہے ایسے ہی چٹ پٹی خبروں کا نشہ ذرا ذرا دیر بعد فیس بک اسٹیٹس دیکھتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

گزشتہ روز ایک دعوت میں شرکت کا شرف حاصل ہوا پہلے سے براجمان دوستوں نے آواز دے کر بلایا اور اپنے پاس بیٹھنے کو کہا، جہاں موضوع زیر بحث تھا کہ کیا دھاندلی ہوئی  یا نہیں ۔۔۔ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے، ہم چپ رہے کچھ نہ کہا ،منظور تھا پردہ تیرا ۔۔سب پوچھنے لگے آپ کی رائے کیا ہے؟ میں خاموش رہا ،تو اصرار بڑھنے پر عرض گزاری کہ این اے 71 سے سالار قافلہ جیت گئے ہیں تو سمجھو دھاندلی نہیں ہوئی ۔

اس میز پر مختلف جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے افراد تشریف فرما تھے جن میں ایک حاجی صاحب باریش چہرہ ماتھے پر محراب لئے بیٹھے تھے ،پتہ چلا ن لیگ کے چیئرمین ہیں ۔میرا جواب سن کر بولے میری بیٹی بھی پریذائیڈنگ آفیسر کے طور پر تعینات تھی ،اس کا کہنا تھا کہیں کوئی  دھاندلی نہیں ہوئی، میں رات تین بجے تک اسکے ساتھ آر او کی عدالت میں موجود رہا، جب تک آن لائن رزلٹ کی ویریفیکشن نہ ہوئی، رزلٹ قبول نہ کیا گیا ،حاجی صاحب کہنے لگے ہمارے پولنگ سے پی ٹی آئی کی اکثریت ہمارے لئے حیران کن بھی تھی اور پریشان کن بھی وہ اس لئے کہ نہ تو یہاں۔پی ٹی آئی نے کوئی  جلسہ کیا ،نہ بظاہر اسکے سپورٹرز تھے ۔رات کو نتیجہ آنے کے بعد ہم بڑے سر جوڑ کر بیٹھے کہ آخر ہوا کیا پی ٹی آئی  ہمارے گڑھ سے اتنے ووٹ کیسے لے گئی، جب ہم نے کھوج لگایا تو انکشاف ہوا کہ یہ نقب تو ہمارے گھروں میں ہی لگائی  گئی اور نقب لگانے والے کوئی  اور نہیں ہمارے اپنے بیٹے بیٹیاں بھتیجے بھانجے تھے ،جو خاموشی سے اپنا کام دکھا گئے اور سارا دن ہم سے نظر بچا کر جس جس کو پولنگ اسٹیشن پر لاتے رہے ان کے کان میں بلے پر مہر لگانے کی سرگوشی کرتے رہے۔ نتیجہ سامنے تھا، جس کا اعتراف ہماری اولادیں کر چکی تھیں۔

حاجی صاحب نے مزید بتایا کہ اب یہ نوجوان نسل ہمارے کہے میں نہیں اور آل پارٹیز کانفرنس میں شریک تمام سیاسی لیڈرز کو دیکھ کر سخت غصے میں ہیں کہ یہ پٹے ہوئے مہرے اب کیسے اکٹھے ہو گئے اسی اثناء میں ٹی وی پر آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کی تصویر دیکھ کر ہمارے بچوں نے ہمیں خوب آڑے ہاتھوں لیا اور کہا ابو جی وہ دیکھیں سارے چور جمع ہو گئے ہیں حاجی صاحب کی سچ بیانی میرے لئے باعث حیرت تھی ،پولنگ ڈے پر ووٹ کاسٹ کرنے گاؤں  جاتے ہوئے ایک بڑے پٹرول پمپ پر رکے ،پٹرول ڈالتے ہوئے نوجوان سے پوچھا ووٹ کاسٹ کیا ،اس نے جواب دیا صبح ہی کر آیا تھا ،پوچھا یہاں اکثریت کس کی ہے اس کا جواب تھا یہاں صرف بلے اور کرین کے ووٹ ہیں۔

ایک صاحب ملے تو بتایا کہ سب گھر والوں نے بلے پر مہر لگائی ، والد محترم ن لیگ کے پکے ووٹر تھے شکر ہے انکا شناختی کارڈ ہی نہ ملا ،آج شام ڈنمارک سے آئے ایک بزرگ ملے کہنے لگے اوورسیز پاکستانیوں نے الیکشن کی صبح باقاعدہ دعائیں کیں کہ ملک کو اھل حکمران ملیں ۔میں نے ڈنمارک سے اپنی فیملی کو تاکید کر دی تھی کہ جو بھی ووٹ لینے آئے اسے کہیں آپ کا خیال کریں گے لیکن سارے ووٹ بلے کو دینے  ہیں اور ہمارے سینکڑوں ووٹ بلے کو ہی گئے ۔کیا کہیں گے اسے تبدیلی کا آغاز نوشتہ دیوار یا پھر دھاندلی!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *