عرب خواتین کیا پہنتی ہیں ؟-منصورندیم

عرب ممالک کے سماجی پہلوؤں پر جب بات ہوتی ہے تو اکثر ان ممالک کی اپنی سیاسی آزادی، آزادی ء صحافت، اظہارِ رائے کی آزادی کے بارے میں بھی بات ہوتی ہے۔ عموما ًیہ سوشل میڈیا پر ان لوگوں کا خصوصی میدان ہوتا ہے، جو عرب سماجیات کو نہیں جانتے یا تو وہ عرب ممالک کو ایک خاص مذہبی تناظر سے دیکھتے ہیں یا پھر عرب کی سیاسی آزادی، آزادی صحافت، اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں تنقیدی تناظر میں بات کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عرب کی موجودہ جدیدیت کو اکثر لبرل ازم گردانا جاتا ہے، حالانکہ جدیدیت اور لبرل ازم کی ظاہری شکل میں بہت فرق ہے۔ اصلاً تو لبرل ازم کے مخالف اسپیکٹرم پر آمریت ہے نہ کہ قدامت پرستی۔ ویسے پاکستان میں اکثریتی عوام عرب ممالک کی سماجیات کو لبرل یا جدیدیت کے لیے جن واحد پیمانوں کو جانچنے کی کسوٹی دیکھتے ہیں، وہ ہے وہاں پر خواتین کیسا اور کتنا لباس پہنتی ہیں، اور وہاں شراب وغیرہ کتنی آسانی سے ملتی ہے۔   ہمارے یہی دو میزان ہیں، اصولاً یہ میزانی پیمائش کسی ملک کی سماجی حیثیت کو واضح نہیں کرتی۔ ویسے عرب خواتین بیرون ملک جا کر کیا پہنتی ہیں؟ یہ وہ چیز ہے جسے عرب خواتین اپنے گھر (ملک) میں بغیر کسی سنگین اثرات کے بھی پہن سکتی ہیں۔ مگر صرف عرب سماجیات میں سیکیولرازم یا لبرازم یورپ و امریکہ تصور کے تحت ڈھونڈنا عجیب لگتا ہے، کیونکہ ہر معاشرے کا اپنا تنوع ہوتا ہے اسے اسی زاوئیے سے دیکھنا ہوگا۔ آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ عرب عورت عائلی معاملات سے لے کر معاشرتی معاملات میں کتنا اعتماد اور حقوق رکھتی ہے۔

عرب ممالک جمہوری روایات سے دور ہونے کے باوجود اپنی عوام کے ساتھ کئی جمہوری ممالک سے کہیں بہتر حالت میں ہیں۔ جبکہ ہماری کئی مثالیں عموماً لبرل ازم کے سماجی پہلوؤں پر مرکوز ہوتی ہیں مگر ہم اس میں جدیدیت کے فیکٹر کو الگ رکھے بغیر شامل کرلیتے ہیں۔ ویسے اگر لبرل افکار پر دیکھا جائے تو ہمیں لگے گا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین بہترین لبرل سماجیات کے ممالک ہیں، مگر جانیں گے تو عمومی طور پر آپ اس سماجیات کی شکل میں کویت کو بھی رکھ سکتے ہیں۔ مگر اصولاً دیکھا جائے تو لبنان، مراکش اور تیونس اس میں سر فہرست رہیں گے، ماضی کا شام بھی رہے گا مگر اب وہاں ملکی انتشار کے بعد سے صورتحال خاصی بدل چکی ہے۔ ملک شام میں مشرق وسطیٰ کے قدیم ترین گرجا گھر موجود ہیں اور وہاں پر مسیحی، مسلمان، اور ڈروز ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں، یہی حالات ملک لبنان کے بھی  ہیں ۔ ان ممالک میں اقلیتیں معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور شراب بالکل قانونی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً خواتین کے لئے سر ڈھانپنا ضروری نہیں ہے، ہمارے نظام کے مقابل وہاں پر لوگ معاشی طور پر اچھی زندگی گزار رہے ہیں، گزشتہ دہائی سے پہلے تک ملک شام بھی اپنی مجموعی سماجیات میں بہت خوبصورت تھا اور امید ہے کہ اس کی خوبصورتی واپس آئے گی۔ اسے صرف اسد  اور فائدہ اٹھانے والی بیرونی طاقتوں سے چھٹکارے کی ضرورت ہے۔

مصر، یمن اور چند دوسرے ممالک بیک وقت قدامت پرستی اور قدرے خلیجی ممالک کی نسبت معاشی طور پر کمزور نظر آتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہاں پر خلیجی ممالک کی نسبت ایک اور وجوہ نظر آتی ہے کہ یہ بلواسطہ عربوں کے اجداد نہیں بلکہ فونشین کی نسلوں سے ہیں۔ آج ان تمام ممالک کے لوگ عربی بولتے ہیں اور عربی کھانے پیتے ہیں کیونکہ وہ ضم ہو گئے تھے۔ ڈی این اے کے لحاظ سے وہ عربی نہیں ہیں۔ نہ شام، مصر اور نہ ہی باقی شمالی افریقہ۔

لبنانیوں کی اکثریت فونیشین ہیں عرب نہیں، اور یہ عربوں اور مغربی ثقافتوں کے درمیان مرکب ہے۔ اس لحاظ سے لبنان اس معاملے میں سرفہرست ہے، یہ ایک خاص معاملہ ہے، جو دوسرے “عرب/مسلم ممالک” یعنی خلیجی ممالک سے بالکل مختلف ہے۔ لبنانیوں کی اکثریت فونیشین ہیں عرب نہیں ہیں، اور یہ عربوں اور مغربی ثقافتوں کے درمیان کا ایک مرکب ہے۔ وہ نسب میں فونیشین ہیں، فونیشین و کنعانی ثقافتی عناصر کی وہاں ایک پوری تاریخ محفوظ ہے جیسے روایتی ڈبکے رقص وغیرہ ۔۔۔ لبنان میں عیسائی صدر کے ساتھ لبنانی عوام آدھے عیسائی اور آدھے مسلمان ہیں۔ لبنان میں خواتین پر لباس کے معاملے میں کوئی ثقافتی یا مذہبی حدود نہیں ہیں وہ بغیر کسی پابندی کے جو چاہیں پہن سکتی ہیں۔

(عربوں کا فونشین کے اجداد پر اور لبنانیوں کی کنعانیوں یا عرب ہونے پر ایک طویل اختلافی مبحث ہے، جس پر میں آج تک کوئی حتمی رائے نہیں بنا سکا، کیونکہ دونوں اطراف سے اسناد کے دلائل کی طویل تاریخی فہرست موجود ہے).

لبنان عرب میں آج بھی عرب کے علمی سفر کا گڑھ ہے، بیروت میں شاید عرب زبان کی سب سے زیادہ کتب شائع ہوتی ہیں، شامی و لبنانی فلاسفہ و علمی شخصیات کے بعد مصر و سعودی ادباء و شعراء کا کردار بھی بہتر ہے، امارات و سعودی عرب جدیدیت اور معاشرتی سماجیات میں قدرے لبرل افکار کے قریب موجود ہیں، یہاں آج کے سعودی عرب کے تدریجی سفر کی بات کررہا ہوں, (ماضی کے نہیں)۔ اب کوئی لبرل ازم کی اسی آمریت کے مقابل میں اپروچ کو ڈھونڈے گا تو یقیناً  ایسا نہیں ملے گا۔ مگر ہر عہد و خطہ ہر افکار کو تبدیلی کے ساتھ ہی قبولیت بخشتا ہے۔ وہ پرانا تصور کہ تقریباً تمام عرب اور اسلامی ممالک میں آزادی صرف مردوں کے لیے ہے، عورتوں کے لیے نہیں ہے اور ان ممالک میں سماجی اور صحافتی، سیاسی آزادی بہت محدود ہے۔ تو کافی حد تک اب یہ معاملہ خلیجی ممالک میں بھی بدل چکا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ویسے سچ کہوں تو عرب سماجیات کو سمجھنا کم ازکم پاکستانی اپروچ سے بہت مشکل کام ہوگا، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ پاکستانی جو یورپ و امریکا بھی جا بستے ہیں وہ بھی عرب سماجیات نہیں سمجھ پاتے۔ ہر مقامی سماجیات کو اسی تناظر سے سمجھنا ضروری ہوتا ہے، اس کا تقابل رد کی بنیاد پر کبھی نہیں کیا جاسکتا، ویسے یہ تصویر دیکھیں یہ سنہء 1971 کی ہے، اس وقت یہ دنیا کے سب سے بڑے مقابلہ  حسن (خواتین) کی ایک تصویر ہے، اس تصویر کا مقام امریکا میں میامی کا ساحل ہے، یہ دونوں خواتین لبنان و تیونس کی مقابلہ حسن کی امیدوار تھیں اس تصویر میں یہ سگریٹ پی رہی ہیں، خیر ان زمانوں میں سگریٹ پینا ایک فیشن کا حصہ تھا آج بھی عرب میں خواتین سگریٹ پیتی ہیں مگر اب خاصی حد تک سگریٹ پینے پر صحت کے حوالے سے تنبیہہ موجود ہے۔ آخری بات یہ ضرور بتا دوں کہ یہ سنہء 1971 کا مقابلہ حسن لبنانی خاتون نے جیتا تھا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply