ذمہ دار کون ؟معاشرہ یا حکومت۔۔ژاں سارتر

سانحہ قصور پر کچھ دوستوں کو اصرار ہے کہ اس کی ذمہ داری صرف معاشرے پر عاید ہوتی ہے۔ بعض اسے مذہب سے دوری کا شاخسانہ قرار دے رہے اور بعض کے نزدیک یہ گھٹن قدامت پسندی کا نتیجہ ہے۔ اس بحث کو ایک جانب رکھتے ہوئے پہلےتو یہ سمجھ لیجیے کہ انسان بحیثیت مجموعی، بلا تفریق رنگ و نسل ایک جیسی جبلت اور نفسیات رکھتے ہیں اور ہر معاشرے میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کی شرح معمولی کمی بیشی کے ساتھ ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ باقی رہی جرم کی شرح تو یہ بھی جان لیجیے کہ یہ کبھی صفر نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی سماج میں تعلیم اور شعور کی کمی بلکہ مفقودی پر دو آراء نہیں ہو سکتیں لیکن تعلیم یافتہ اور باشعور مغرب اور مغرب میں بھی امریکا ہی کی مثال لے لیجیے۔ صرف 2016 میں ریاستہائے متحدہ امریکا میں جنسی زیادتی کے 97000 سے زاید کیسز رجسٹر ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ کیسز، کُل واقعات کا محض 34 فیصد تھے۔ گویا اس ایک برس میں جنسی زیادتی کے کم و بیش تین لاکھ واقعات رونما ہوئے اور وہ بھی ایک ایسے سماج میں جہاں شادی کے علاوہ بھی جنسی تعلق رکھنا ہمارے معاشرے کی نسبت بہت آسان ہے، جہاں تقریباً سو فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہیں، جہاں بچوں کو ابتدا ہی سے سیکس ایجوکیشن دی جاتی ہے، جہاں تعلیم کے دوران سماجی ذمہ داریوں سے بھی درست طور پر روشناس کرایا جاتا ہے اور جہاں سیکچوئل اسالٹ کو بدترین جرم سمجھا جاتا ہے۔

یہ بات قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی کہ 2016 میں امریکی آبادی کے ہر ایک لاکھ نفوس میں سے 29.8 افراد کے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 1992 میں یہ شرح ایک لاکھ نفوس میں 42 تھی۔ گویا 24 برس کے دوران ان افسوسناک واقعات میں تقریباً 30 فیصد کمی آئی۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایسے جرائم کی شرح میں کمی کرنے کی یہ بڑی کامیابی کیسے حاصل ہوئی؟
کیا اس عرصے کے دوران امریکیوں نے اپنے بچوں کو 1992 کی نسبت بہتر تعلیم دینا شروع کر دی؟
کیا اس عرصے میں امریکا کی شرح خواندگی میں 30 فیصد اضافہ ہوا؟
کیا اس عرصے کے دوران آزادانہ جنسی تعلق رکھنے کے مواقع تیس فیصد بڑھ گئے؟
کیا ان 24 برسوں کے دوران امریکی مذہب پر پہلے سے زیادہ کاربند ہو گئے؟
یا اس عرصے کے دوران امریکی عوام کے شعور میں کوئی انقلابی تبدیلی آگئی؟
ویسے امریکی عوام کے شعور میں “بہتری” کی ایک بڑی مثال تو یہ ہے کہ 1992 میں انہوں نے بل کلنٹن کو صدر منتخب کیا تھا اور 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مسخرے کو ۔۔۔۔۔ (جملہ معترضہ)

ان جرائم کی شرح میں کمی کا اصل سہرا ڈیموکریٹک پارٹی کی ان پے در پے قانون سازیوں اور تمام ریاستوں میں قوانین کے بہتر نفاذ کے سر ہے جو صدر بل کلنٹن اور صدر باراک اوباما کے ادوار میں منظور کرائے گئے۔ ان میں نہ صرف نئے قوانین تھے بلکہ پرانے قوانین کو بھی بہتر بنایا گیا۔ یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ امریکا میں جب قوانین بنائے جاتے ہیں تو وہ صرف لاء بکس کی زینت نہیں رہتے بلکہ ان پر ان کی روح کے مطابق عمل بھی کیا اور کرایا جاتا ہے۔

اس کے برعکس ہمارے ہاں قوانین خصوصاً قانونی پروسیجر ڈیڑھ سو برس پرانا ہے۔ اس پر مستزاد پولیس کا نظام بری طرح بوسیدہ بلکہ تعفن زدہ ہے جس کی واحد وجہ حکمرانوں کے سیاسی مفادات ہیں۔ کیا ہم کبھی اپنے نمائندوں سے سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے عدالتی نظام کو درست کرنے کے لیے کیا قانون سازی کی ہے؟ کیا ایسی قانون سازی میں اسٹیبلشمنٹ رکاوٹ ہے یا عدلیہ؟ کیا ہم کبھی سوال کرتے ہیں کہ پولیس کا نظام بہتر کرنے کے لیے اسمبلیوں میں کون سے قوانین بنائے جا رہے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس راہ میں مقتدر حلقے رکاوٹ ہیں؟

اہل دانش کا فرض ہے کہ عوام کو درست راہ دکھائیں۔ جہاں وہ تعلیم عام کرنے کی بات کرتے ہیں، وہاں عوام کو یہ شعور بھی دیں کہ ان کے مسائل کی ذمہ دار حکومتیں ہوتی ہیں جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قوانین گھنٹوں میں بنا کر ان پر عملدرآمد تو منٹوں میں کر لیتی ہیں لیکن سانحہ قصور جیسے افسوسناک واقعات پر جے آئی ٹی، کمیشن، نوٹس کا لالی پاپ تھما دیتی ہیں۔ اس لیے استحصال زدہ اور مظلوم عوام کو کوسنا چھوڑئیے اور حکمرانوں کا گریبان پکڑئیے۔

ژاں سارتر
ژاں سارتر
ہر شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ذمہ دار کون ؟معاشرہ یا حکومت۔۔ژاں سارتر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *