گرمیوں کی دوپہر گلی سے آنے والی سلائی مشین کی آواز میرے کانوں میں کسی دلکش موسیقی کا احساس دلاتی تھی۔ موٹر والی مشین ابھی متعارف نہیں ہوئی تھی، اس لیے یہاں روایتی ہاتھ سے چلنے والی سلائی مشین ہی استعمال ہوا کرتی تھی، جو کبھی تیز اور کبھی آہستہ چلنے پر ہر مرتبہ اک نیا سحر پھونکتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سلائی مشین کی سوئی کسی کے خوابوں کو ریشمی کپڑے میں سی کر اسے خودنمائی کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کر رہی ہو۔
ایک روز میں گلی میں دھیرے دھیرے ٹہلتا ہوا اس کھڑکی کے قریب جا پہنچا جہاں سے سلائی مشین کی آواز روز میرے کانوں میں رس گھولتی تھی۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو ایک جوان عورت سلائی مشین کے سامنے ہاتھ میں ناپ کی ڈوری تھامے، کسی گہرے خیال میں گم بیٹھی تھی۔ میں کافی دیر اسے دیکھتا رہا، مگر وہ عورت نجانے کن خیالوں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اسے کسی کی آہٹ کا احساس ہی نہ ہوا۔۔ میں نے کمرے پر نظر دوڑائی تو رنگ برنگے کپڑوں کے ڈھیر اس کی نامکمل آرزؤوں کی کہانی سُنانے لگے۔ میں کھڑکی کے بالکل قریب جا کر کھڑا ہو گیا اور اسے بغور دیکھنے لگا۔ اس کا چہرہ گندم کے خوشوں کی مانند سنہرا تھا، جبکہ کشادہ پیشانی اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہی تھیں۔ اس کی ان بیدار آنکھوں کے پیچھے مجھے ایک ایسی تڑپ کا احساس ہُوا جسے اس وقت بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے تھوڑی کو سہارا دیے خیالوں میں اتنا محو تھی کہ اسے یہ بھی معلوم نہ ہُوا کہ میں کھڑکی کے بالکل پاس کھڑا اُسے مسلسل دیکھ رہا ہوں۔ شاید وہ اپنے کپڑوں کے لیے فکر مند ہو گی یا پھر اس نے زیادہ گاہکوں کے کپڑے رکھ لیے ہوں گے، جنہیں وہ وقت پر مکمل نہیں کر پائی ہو گی۔ لیکن ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے کام سے آزاد ہونا چاہتی تھی۔
میں نے آہستہ سے کھڑکی کی سلاخوں پر انگلیوں کو گھمایا تو وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگی۔ کچھ دیر یونہی خاموشی کا عالم رہا اور پھر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ سلائی کا باقاعدہ کام کرتی ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ سلائی مشین کی یہ آواز مجھے عرصہ دراز سے ہی اپنی جانب متوجہ کرتی چلی آئی ہے۔۔ باتوں باتوں میں مَیں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ وہ کیا سوچ رہی تھی؟ تو اس نے کہا کہ وہ اپنے کام سے تھک گئی ہے۔ اس کے پاس بہت زیادہ کام ہے اور وہ اسے وقت پر مکمل نہیں کر پائے گی۔ میں نے اسے تسلی دی، اور کہا کہ تمہاری مہارت تمہیں ناکام نہیں ہونے دے گی بس سوچ کا محور بدلنا نہیں چاہیے۔ “شاید آپ ٹھیک کہتے ہیں”، اس نے آہستگی سے کہا، “شاید مسئلہ کام کی زیادتی نہیں، میری خودکلامی کا ہے جو مجھے تھکا دیتی ہے۔” میں نے اسے بتایا کہ میں ایک پینٹر ہوں اور کینوس پر رنگ بکھیر کر اپنی خودکلامی کو مختلف تصاویر میں بدلتا ہوں۔ میں نے اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ چاہے تو میں کھڑکی کے سامنے کینوس رکھ کر اس کی خودکلامی کو رنگوں میں ڈھال سکتا ہوں۔۔ یہ سُن کر اس کے چہرے پر ایک بچگانہ سی مسکراہٹ لپکی اور وہ کہنے لگی، “مجھے ہمیشہ سے رنگوں سے بہت پیار تھا۔”
یوں اس گلی میں سلائی مشین کی موسیقیت کے ساتھ رنگوں کا رقص بھی شروع ہوا۔ وہ مجھے اپنے خوابوں کی بے رنگ کہانیاں سناتی، اور میں انھیں کینوس پر رنگین بنانے کی جستجو کرتا۔ کبھی وہ مجھے نظموں کی دنیا میں لے جاتی، جہاں الفاظ اس کی سوچوں کو پنکھ لگا کر آسمانوں پر اُڑاتے اور میں ہَواؤں میں آزاد اُڑتے اس پنچھی کو کینوس پر نقش کرتا۔
ایک دن میں نے اسے اپنی ایک پینٹنگ دکھائی جو کافی عرصے سے ادھوری پڑی تھی۔اس نے اسے بغور دیکھا اور کہنے لگی اسے میرے پاس چھوڑ دو۔ میں نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ میری ادھوری پینٹنگ کیوں چاہتی تھی؟ “تمہیں اس کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے پوچھا۔” اس نے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ یہ ادھوری پینٹنگ میری کہانی کی طرح ہے۔ یہ کہتی ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں کچھ ایسے خواب ہوتے ہیں جو وہ پورے نہیں کر پاتا۔ یہ پینٹنگ اس خواب کی نمائندگی کرتی ہے۔” میں اسے مکمل کرنے کی کوشش کروں گی۔ یہ سن کر میں نے اسے اپنی یہ ادھوری پینٹنگ دے دی۔
کئی دنوں بعد میں اس سے ملا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی “میں نے تمہاری پینٹنگ کو مکمل کر دیا ہے۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “تم نے؟” اس نے کہا، “ہاں، میں نے تمہاری پینٹنگ کو اپنے خوابوں کے رنگوں سے بھر دیا ہے۔” میں نے بے صبری سے اپنی اس پینٹنگ کو دیکھنے کی درخواست کی جسے نہ جانے کیوں میں مکمل نہیں کر پایا تھا ۔ اس نے جب پینٹنگ میرے سامنے رکھی تو میرے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ رنگین کپڑوں کی کترنیں اور دلکش رنگوں کے دھاگوں سے ایک خوبصورت باغ، اس میں ایک گھنا درخت اور درخت پر ایک گھونسلے میں بیٹھا ہوا چھوٹا سا سیاہی مائل پرندہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ پرندے کا جسم کمزور جبکہ آنکھیں بڑی اور گہری تھیں جن میں ایک عجیب چمک تھی، جیسے وہ کسی خواب میں گم ہو یا بہار کی آرزو میں دل گرفتہ ہو۔
میں نے پوچھا، “تم نے اس پینٹنگ میں کیا عیاں کیا ہے؟”
“میں نے اپنے خوابوں کو اس پینٹنگ میں سمو دیا ہے اور اس پرندے کو اپنے خوابوں کا استعارہ بنایا ہے۔ یہ پرندہ میرے خوابوں کی نمائندگی کرتا ہے-”
یہ کہہ کر اس نے ایک سیاہ ریشمی کپڑے کا ٹکڑا مجھے تھمایا اور مسکرا کر کہنے لگی تصویروں سے پرندوں کی پرواز ممکن نہیں ہوتی، سو میرے خواب سارے اسی سیاہ کپڑے میں لپٹے ہوئے ہیں، کیا انھیں رنگین بنا سکتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اپنے کام میں مگن ہو گئی۔
اب میں کئی دنوں سے اپنے کمرے میں بیٹھا اس سیاہ ریشمی کپڑے کو رنگین بنانے کی جستجو میں خیال کے کئی کینوس سیاہ کر چکا ہوں، مگر یہ سیاہ ٹکڑا ہر رنگ کو نگل کر ویسے کا ویسا سیاہ ہی رہتا ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں