بین السطور /اقتدارِ جاوید

صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کا کہنا ہے کہ
ان کی جماعت مسلم لیگ اور انہوں نے” الیکشن ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے لڑنا ہے”۔
انہوں نے بتایا کہ فی الاصل مشکلات میں ڈالنے کے لیے تو انہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی اب مشکلات سے نکالنے کے لیے باگ ڈور سنبھالنی ہے۔تب ہمیں پوری دنیا نے حکومت سنبھالنے سے منع بھی کیا تھا مگر ہمارے ملک کو مشکلات میں ڈالنے کے عزائم ہی کچھ ایسے تھے جن کو پورا کرنا ضروری تھا۔ہم نے یعنی میثاق ِجمہوریت والی تمام پارٹیوں نے مل کر حکومت اس لیے سنبھالی کہ مل کر پوری جانفشانی سے ملک کو مشکلات میں ڈالا جائے کیونکہ ہمارا یقین ِکامل تھا کہ اس کے بعد ہی ملک کو مشکلات سے نکالا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں ہمارا اپنا تجربہ بھی کافی تھا کہ ایک عرصے سے اس ملک و قوم کا ناطقہ بند کیا ہوا تھا۔زہے نصیب کہ ہمیں زرداری صاحب کی صحبت بھی نصیب ہو گئی۔وہ تو آپ نے سنا ہو گا
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
وہ اس کار ِخیر میں ہمارے ساتھ مل گئے اور جو شاعر نے کہا تھا
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
کے مصداق وہ بھی ساتھ مل گئے اور گویا سونے پر سہاگے والی بات ہو گئی تھی۔انہوں نے دامے درمے سخنے ہمارا ہاتھ بٹایا۔ انہوں نے سندھ کا محاذ بھی کامیابی سے سنبھالے رکھا اور ہمارے دست و بازو بن کر گراں قدر مشوروں سے نوازتے بھی رہے۔ اللہ ان کو دونوں جہان میں سرخرو کرے۔اب بھی جہاں ان کا ذکر آتا ہے آنکھیں تشکر کے جذبات سے مغلوب ہو گر بھیگ بھیگ جاتی ہیں۔وہ بھی ہماری طرح فقیر طبیعت کے آدمی ہیں اور اس چنڈال دنیا سے واجبی سا رابطہ رکھنے کے قائل ہیں۔ہمارے باقی دوست احباب بھی اسی قسم کے جذبات رکھتے ہیں اور دنیاوی معاملات کو چنداں اہمیت نہ دینے کے قائل ہیں۔ بس جسم اور جان کا رشتہ بحال رکھنے کی حد تک اس دو ٹکے کی دنیا کے ناز اٹھاتے ہیں ورنہ وہ دنیاوی بکھیڑوں میں پڑنے والے نہیں۔
فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں

ہمیں سولہ ماہ کی حکومت ملی۔ یہ سولہ ماہ کا عرصہ جو پلک جپھکنے میں گزر گیا۔ اس دوران ہم نے عوام کو بھی ایک بار بھی پلک جپھکنے کی مہلت نہیں دی۔دیکھتے ہی دیکھتے مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔کوئی ایسی پالیسی بچی ہی نہیں تھی جو ہم نے نہ اپنائی ہو۔حکومت ملتے ہی مہنگائی کی سپیڈ کو تیز کیا اور اسے چوتھے سے پانچویں گئیر میں لے گئے۔مگر جیسے روح بے چین ہی رہتی تھی ایک پل اسے قرار نہ تھا۔بس اللہ مسبب الاسباب ہے اس نے توفیق بخشی اور ہم اپنے مقصد ِجلیلہ میں پوری طرح کامیاب ہو گئے۔

ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور یہ مشیت ِایزدی ہے جو اس خاک کے پتلے میں ایسے شرار چھپا دیتی ہے اور کانوں کان کسی کو خبر بھی نہیں ہونے دیتی تا وقتیکہ اس جوہر کو افشا کرنے کا موقع قدرت خود ہی نصیب میں لکھ دے۔اپنے تئیں ہر کوشش کی مگر کہا جاتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر رہ ہی جاتی ہے۔جو ایک آنچ کی کسر رہ گئی تھی جو بردار ِعزیز اسحاق ڈار نے لندن سے آ کر پوری کر دی۔ان کے آنے کے بعد تو مشکلات کا باغ جیسے کھل اٹھا۔میں نے تو شروعات کی تھی خیر سے باقی سارا کام بھائی اسحاق کے ہاتھوں ہی سرانجام پایا۔ان کے ہاتھ میں برکت ہی کچھ ایسی ہے کہ جس شے کو ہاتھ لگاتے ہیں سونا کر دیتے ہیں۔وہ ٹوپی سے کبوتر نکال سکتے ہیں ملک کو مشکلات میں ڈالنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ان کا ماضی اس بات پر گواہ ہے کہ انہوں نے ہاتھ سے کوئی موقع جانے نہیں دیا۔

شہباز شریف نے گزشتہ روز سابق رکن قومی اسمبلی احسان الحق باجوہ سے ملاقات کی۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ” معیشت بحال اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانی ہے”۔یعنی پہلے بدحالی کرنا ضروری ہے بدحالی ہو گی تو بحالی ہو گی۔ معیشت بدحال ہو گی تو بحال ہو گی۔یہ کوئی ایسی راکٹ سائنس نہیں جس کی سمجھ نہ آئے۔سادہ سی حقیقت ہے جس کو ہم نے سمجھا اور جی بھر کر کے معیشت بدحال کی۔کہا جاتا ہے الطاف حسین حالی موجودہ دور میں ہوتے تو مسدس ِحالی نہیں مسدس بدحالی لکھتے۔آخر ہم نے شعرا کی روحانی غذا کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے اور یہ ہمارا قومی فریضہ ہے اب موجودہ شعرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئیں اور اس بدحالی کے بارے میں کچھ لکھیں۔ ہم جتنا کر سکتے تھے وہ ہم نے کیا۔معیشت کی بدحالی اچھا موضوع ہے اور ہم نے نہایت محنت کر کے شعرا کے لیے زمین تیار کی ہے۔استاد الشعرا میر تقی میر بھی فرما گئے ہیں
آج ہمیں بدحالی سی ہے حال نہیں ہے جان کے بیچ
کیا عاشق ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جہان کے بیچ

Advertisements
julia rana solicitors london

اس طرح کے اشعار اب بھی کہے جا سکتے ہیں کیونکہ میر کے زمانے کی بدحالی تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات تھی اصل بدحالی تو اب دیکھنے والی ہے۔انہوں نے مزید بات چیت کرتے ہوئے کہ کہ ” الیکشن کے لیے انہوں نے اور کارکنوں نے بڑے جذبے سے کام کیا”۔اس کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے نے محسوس کیے ہیں۔چونکہ ہماری جماعت بنیادی طور پر مساوات کی قائل ہے۔ہماری پارٹی میں ہر کارکن کو پوری آزادی دی جاتی ہے کہ وہ وہ جذبے سے کام کریں۔ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں یہ بلند رتبہ کسی کسی کو ملتا ہے۔ہمارا کام ان کو برابر کے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔اب یہ کارکنان کی اہلیت اور صوابدید پر منحصر ہے کہ اس میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں۔لیڈر کا کام راہ دکھانا ہوتا ہے باقی کارکن خود سمجھدار ہوتے ہیں۔ہمارے کارکنوں کی ویسے بھی چار دانگ عالم میں دھوم ہے۔

Facebook Comments

اقتدار جاوید
روزنامہ 92 نیوز میں ہفتہ وار کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply