ہل ، پیل ، جندرا ، سلانگا ، پِیو،پھیو ، تیشہ ، درانتی ، سِکلی ، گینتی ، ترنگلی، جھبلی ، دھمچوُڑ، مورخ ، سُبّی ،روہڑا،جوترا، کھوتی کھرکھرا وغیرہ ہماری خالص دیہی زندگی کے لوازم میں شمار ہوتے رہے ہیں ۔ ہم ان سے نصابی ، غیر نصابی کارہائے نمایاں از قسم ضرب ہائے خفیف و شدید کا ارتکاب کر کے غنیم ہائے قسمہا کو شکست فاش سے دوچار کرتے تھے۔ اپنی ڈیجیٹل نسل نو کی اطلاع کے لئے ان ’اوزارہا‘میں سے چند کا مختصر سا تعارف پیش کرتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آسکے:
۱۔ جھانواں
یہ ایک طرح کا آلہ ہے جو دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو مٹّی سے بنتا اور آوے میں پکتا ہے۔ یہ ذات کا ہوتا توکھرکھرا ہے، لیکن شکل اور کرتوت میں لمبی جیبھ جیسا ہوتا ہے۔۔۔۔ ،جہاں’لمکار‘ ماری، دُور تک صفائی پھیر کر رکھ دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے عہد کی گھریلوخواتین عید کے عید اس سے گھِسی پھٹی ایڑیوں ، تلووٗں ،کہنیوں اورصراحی دار گردنوں کو رگڑ رگڑ کر’’رتّی ی ی لال‘‘یا پھر’’چِٹّی ی ی شمیت ‘‘کرتی تھیں/کرتی ہیں ۔ یعنی یہ ایک آلہ ِ حسن افزا ہے جو عید شب برات اور بیاہ ڈھنگ کے مواقع پرفعال ہوتا ہے۔ ورنہ ’سترانج‘پر پڑا سارا سال تماشہِ اہلِ کرم دیکھتا رہتا ہے۔ دوسری قسم کا جھانواں بھی جھانواں ہی ہوتا ہے لیکن وہ عیدوں شب براتوں کا پابند نہیں ہوتا۔’شریکوں‘/بیریوں کی مزاج پُرسی اور پُرسے وغیرہ کے مبارک مواقع پر بھی استعمال میں آجاتا ہے۔ جھانواں ہمارے ہاں’گوہڑ‘ کی لسّ مٹّی سے بنتا ہے، چنانچہ اک پرتا کھُردرا اور بدلحاظ ہوتا ہے۔ پیروں کا مَیل کھُریوں سمیت جڑ سے اکھاڑ کررکھ دینے کی خداداد صلاحیت رکھتا ہے۔ جھانوے کی یہ قسم ایک مختلف قسم کے آوے میں پکتی ہے۔ جس کا نام بھی اور طرح کا ہے ۔( جو اس وقت ہمیں یاد نہیں آرہا) ۔ لیکن یہ اسی آوے کا اعجاز ہے کہ خواہ کیسے ہی کھرکھرے سے کیوں نہ رگڑا جائے، کھرکھرے کے دندانے گھِس جاتے ہیں،لِسّے ماڑے جھانویں کا ککھ نہیں بگڑتا۔ اہلِ زبان کی زبان میں اسی وصف کو مستقل مزاجی اور ہم جیسے بے زبانوں کی زبان میں شوہرانہ ڈھٹائی کہتے ہیں ۔ جھانواں پنڈی پوٹھوار ہر جگہ پایا جاتا ہے لیکن وطن مالوف راولاکوٹ کا جھانواں اتنا سخت مزاج ہوتا ہے کہ منٹوں میں بڑے سے بڑے کُھرکو کھُری بنا کرچھوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے جھانویں کو یہاں وہاں، تھاں تھاں استعمال کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ باقی آپ خود سیانے ہیں۔
۲۔ روُہڑا
مذکورہ آلاتِ کشاورزی میں دوسرے نمبر پرجو آلہ آتا ہے، اُسے سائنس کی اصطلاح میں ’’روُہڑا‘‘ کہتے ہیں ۔ روہڑا ایک Multipurpose gadget )کثیرالمقاصد مشین(ہے ۔ یہ ایجاد ِبندہ بظاہر بے کارسی معلوم دیتی ہے مگراوکھے سوکھے در بھِت اور کھُلے منہ بند کرنے کے کام آتا ہے۔اسے تاک کر ’’جات میں ٹھوکنے‘‘سے انتہائی سخت قسم کا ایبڈو آپی آپ لاگوہو جاتا ہے۔ کوُٹ کردفعہ ۱۴۴ کا اطلاق نہیں کرانا پڑتا۔ تاہم اس سے کماحقہ کام لینے کے لئے بھِت پر ایک اڑنگا اور فرش میں اُکھل بنانا پڑتا ہے ۔ پھر اس کا ایک سرا اڑنگے میں ، دوسرا اُکھل میں پھنسایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی مائی کا لال باہر سے بھِت نہیں کھول سکتا۔ رُوہڑا ایک اَن منہ سِری ایجاد ہے ، اس لئے اس سے ویسے ہی کام لئے جاسکتے ہیں ۔ مثلاً آپ روُہڑا گھمانے کی سکت رکھتے ہیں توکپتّی سے کپتّی گھر والی کو راہِ راست پر لا رکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح اوکھے سوکھے گھر والی بھی آپ کو ٹھکانے لگا سکتی ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ اس پر ’’خطرہ 440 وولٹ‘‘ اور انسانی کھوپڑی والا بورڈ مستقل چسپاں کر کے رکھیں ۔اشتہاری کھوپڑی دیکھ کر جنی سے جنی گھر والی اسے ہاتھ نہیں لگائے گی۔ چنانچہ آپ بھی اُس کی فالتو اورپالتودستبرد سے محفوظ رہیں گے۔ روہڑے کے سائیڈ ایفیکٹس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ گھر والی سے بنا کررکھیں یا اُسے منا کر رکھیں ۔ ورنہ اچھی بھلی گھر والی بھی کبھی بدلحاظی پر اُتر سکتی ہے۔ پھر:
جگر کی چوٹ اوپر سے کہیں معلوم ہوتی ہے
جگر کی چوٹ اوپر سے نہیں معلوم ہوتی ہے
(جاری ہے)
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں