اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے/توقیر کھرل

پاکستان میں ناموس صحابہ، اہلبیت اور امہات المومنین بَل سینٹ سے منظور کیا گیا، اب صدر کے دستخط کے بعد یہ قانون کا حصہ بن جائے گا۔ اس بل کے مطابق سزا تین سال سے بڑھا کر 10 سال کر دی گئی اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔ پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کی ابتدا کی تاریخ کا جائزہ لیں تو اس کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے ہوا۔ 1927ء میں ہندو راج پال نے توہین رسالت پر مبنی کتاب شائع کی تو مسلمانوں نے جذیات مجروح ہونے پر احتجاج کیا تو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا دی گئی، مگر ملزم کو رہا کر دیا گیا، جس پر ایک احتجاجی تحریک شروع ہوئی اور ہندو راج پال کو قتل کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد مولانا محمد علی جوہر نے مرکزی قانون ساز اسمبلی کی تائید سے تعزیراتِ ہند میں دفعہ 295 کا اضافہ کیا گیا، جس کی رو سے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کی سزا دو سال مقرر کی گئی۔

1983ء میں مشتاق راج نامی ایڈووکیٹ نے توہین رسالت پر مبنی کتاب لکھی۔ مقدمہ درج ہوا، اس کو سزا نہیں ہوئی، ابھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے ایک سیمینار سے گفتگو میں شانِ رسالت میں توہین آمیز الفاظ بیان کر دیئے۔ اس کے بعد مذہبی طبقہ میں ایک بار پھر احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگیا۔ روزنامہ جسارت کی رپورٹ کے مطابق “خواتین محاذِ عمل اسلام آباد کے ایک جلسے میں صورتِ حال اس وقت سنگین ہوگئی، جب ایک خاتون مقرر عاصمہ جیلانی نے شریعت بل کیخلاف تقریر کرتے ہوئے سرورِ کائناتﷺ کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کی۔ اس پر ایک مقامی وکیل نے احتجاج کیا اور کہا کہ رسولِؐ خدا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیئے۔ جس پر دونوں کے درمیان تلخی ہوگئی اور جلسے کی فضا کشیدہ ہوگئی۔ اس کے بعد اسمبلی اور سینیٹ سے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت مقرر کی گئی ۔یہ ضیاء الحق کا دور تھا۔

1947ء سے لیکر 2023ء تک توہین مذہب کے الزام پر 90 افراد کو قتل کیا گیا۔ 1990ء تک اس الزام میں 10 افراد کو قتل کیا گیا، جبکہ 1990ء سے 2023ء تک یعنی 33 سال میں 80 افراد کو قتل کیا گیا، یعنی قوانین میں جیسے جیسے ترامیم کی گئیں، بجائے اس کے قانون پر عمل درآمد ہوتا، لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور خود ہی عدالت لگائی، خود ہی انصاف کر دیا۔ اگر قانون پاس ہونے کے بعد مقدمات کی بات کی جائے تو اس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 1986ء سے لے کر دو ہزار بارہ تک، 1272 افراد کو گستاخی مذہب کے الزام کا سامنا کرنا پڑا اور محض گذشتہ دس سالوں میں 300 افراد پر الزام لگایا گیا۔

اب قانون ناموس صحابہ و اہلبیت بِل پاس ہونے کے بعد یہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں اضافہ ہوگا۔ 1947ء سے لیکر اب تک توہین مذہب کے نام پر قتل ہونے والے 90 فیصد قتل میں ذاتی دشمنی سب سے بڑا عنصر رہا ہے۔ کسی بھی مذہبی جماعت کو قانون کے عمل درآمد پر کوئی تحفظات حاصل نہیں۔ یوں بھی قانون تو سب کا محافظ ہوتا ہے، لیکن یہ کیسا قانون ہے، جس سے ایک مسلک کے افراد اور قیادت کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بات پریشان کُن ضرور ہے اور وہ محض ان قوانین کا بطور ہتھیار استعمال ہونا ہے۔

شیعہ مسلک کی پاکستان میں قیادت نے اس قانون کو پاس ہونے کے بعد عمل درآمد سے روکنے کیلئے سخت موقف اپنایا۔ اُن کے مطابق ہم تو پاکستان میں اہلبیتؑ کے حق میں بھی ایسا قانون نہیں چاہتے، ہم ایک دوسرے کے مقدسات کے احترام کے قائل ہیں اور اہل تشیع کے ہاں ہی دوسرے کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا گیا ہے جبکہ دوسرے مسالک ہمارے مقدسات اور مسلکی شعار کی کھلے عام توہین کرتے ہیں، لیکن ہم مشترکات پر اتحاد کی دعوت ہیں۔ شیعہ جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی موقف اپنایا گیا ہے کہ درسی نصاب اور دیگر قوانین پاس کرتے ہوئے ہمارے مسلک کی رائے کو سرے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ پاکستان تو تمام مسالک کا ہے، لیکن یہاں خاص مسالک کی ذہنیت کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ایسے قوانین پیش کئے جا رہے ہیں، جو ایک مسلک کے خلاف ہیں۔

پاکستان میں اہل تشیع کی طرف سے جس طرح سے ردعمل ظاہر کیا گیا ہے، اس کے اثرات سے لگتا ہے کہ دیگر قوانین کی طرح اس پر بھی عمل نہیں ہوگا، تاہم مذہبی شدت پسندی میں ضرور اضافہ ہوگا۔ توہین مذہب کے نام پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسلامی ممالک میں ایسے قوانین ہیں، لیکن ڈیڑھ ارب کے مسلمانوں میں صرف پاکستان ہے، جہاں ایسے سخت قوانین بنائے جاتے ہیں، جن کا نشانہ بھی خود مسلمان بنتے ہیں اور مذہبی ہم آہم ہنگی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ اگر اہلسنت کی اہم کتب سے توہین پر مبنی مواد کو تو اس بِل کے مطابق چیلنج کر دیا گیا تو پھر یہ قانون اس طرف بھی لاگو ہو جائے گا۔

صرف شیعہ سنی ہی نہیں دیگر تمام مسالک کے ایک دوسرے کے خلاف فتاویٰ موجود ہیں، حتیٰ کہ بعض مواقع پر ایک مسلک کا فرد دوسرے مسلک کے پیش امام کے پیچھے فتویٰ کے زیر نظر نماز پڑھنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ اقلیتی جماعتوں سے مسلمانوں کے تمام مسالک فرقہ واریت کی اس کشیدگی کے زیر اثر میں آئیں گے۔ یعنی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے۔ قانون ساز اداروں کو عجلت کے بجائے مسالک کی آراء کو پیش نطر رکھنا چاہیئے تھا۔ قانون ساز اداروں سے عرض ہے کہ قوانین ضرور بنائیے، مگر اُن کے درست استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply