پاکستان کا “ایکسٹو” کون ہے؟۔۔۔۔سلیم جاوید

ہمارے بچپن کی پسندیدہ کتب میں، ابن صفی کی عمران سیریز بھی تھی جس کا ہیرو علی عمران، بیک وقت دو روپ رکھتا تھا۔ ظاہری کردار میں اتنا سادہ لوح کہ باورچی سے دبا ہوا مگر دوسرے روپ میں ایسا شاطر کہ نام بھی بے نام تھا یعنی”بلیک زیرو”- عہدے کے لحاظ سے، علی عمران ہی اصل”ایکسٹو” تھا۔

بہت غور و خوض کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ پاکستان کا ایکسٹو، مولانا فضل رحمان ہے۔

کہا جاتا ہے کسی کے کردار کی گواہی دینے کو تین شرائط ہونا ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ معاملہ پڑا ہو، اس کے ساتھ سفر کیا ہو یا وہ آپ کا پڑوسی ہو۔ مولانا کے ساتھ ہمارا معاملہ تو خیر کیا پڑنا کہ کوئی جماعتی یا ذاتی تعارف تک نہیں ہے۔ ایم آر ڈی کے دنوں میں مولانا کے ساتھ کچھ مٹر گشت ہوئے جنہیں “سفر” قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ ڈیرہ میں مولانا کے پڑوسی ہونے کے ناطے، جو گواہی دے سکتا ہوں اس کے مطابق، مولانا ایک آدمی نہیں ہے۔ ایک وہ مولانا فضل رحمان ہے جس کے گھرانے سے میں 30 سال سے واقف ہوں اور دوسرا پاکستانی میڈیا کے مطابق، وہ مولانا ہے جو چند ٹکوں کی خاطر بک جانے والا ایک بے اصول شخص ہے۔ اور پاکستانی میڈیا کو جھٹلانے کی بھلا کس میں جرائت ہے؟

مولانا فضل رحمان کی سیاست کی ابتدا ہوتی ہے 1981 میں جب جنرل ضیاء کا مارشل لاء نافذ ہے۔ جنرل ضیاء نے علماء میں تفرقہ ڈالنے کیلئے، پرکشش معاوضوں کے ساتھ ایک مجلس شوری بنائی ہے اور مدارس کو زکوۃ فنڈ کے نام سے بھاری رقوم جاری کردی ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ 28 سالہ نوجوان فضل رحمان ، یہ ساری ترغیبات مسترد کرکے، جیل کا راستہ پسند کرتا ہے تو یہ اس کا ظاہری روپ تھا ۔ درحقیقت، ایک دوسرا فضل رحمان بھی تھا جو ہر حکومت کا ساتھ دیا کرتا ہے۔ پس اس نے جنرل ضیاء کا ساتھ دیا ، مال بنایا، عیاشی کی۔ چونکہ وہ والا فضل رحمان ، بلیک زیرو ہے تو آپ کو اس بارے کیسے پتہ چل سکتا ہے؟ ہیں جی

پھرغیر جماعتی انتخابات ہوتے ہیں 1985 میں۔ جماعت اسلامی سمیت موسمی سیاستدان ان میں حصہ لیتے ہیں۔ ایک وزارت کی خاطر بکنے والا فضل رحمان یہ گولڈن چانس کیسے چھوڑتا؟ یہ جو مولانا فضل رحمان ہے جس نے ان الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا، یہ اصلی والا نہیں ہے۔ اصل فضل رحمان نے اس اسمبلی میں تین سال مزے کئے تھے مگرآپ کی نظروں سے غائب رہ کر۔

فوجی ایجنسیاں ، 1988 کےجنرل الیکشن کے ہنگام، ، نواز شریف وغیرہ کو خفیہ فنڈ فراہم کرتی ہیں۔ 30 سال بعد، جنرل اسد درانی سپریم کورٹ میں پیسے لینے والوں کی فہرست پیش کرتا ہے جس میں مولانا کا نام نہیں۔ کیوں کہ “ایکسٹو” ہونے کے ناطے کوئ اس کا نام نہیں لے سکتا ورنہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ وہ پیسے پہ مرنے والا آدمی ہے۔

الکشن کے بعد، بے نظیر گورنمنٹ میں مولانا کو امور خارجہ کمیٹی کی چئرمینی ملتی ہے۔ بلوچستان میں بگٹی کے ساتھ حکومت ملتی ہے۔ حکومت کو فضل رحمان جیسا آدمی کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ مگر ایک سال بعد ہی، وہ بلوچستان حکومت کو ٹھوکر مار دیتا ہے اور بے نظیر کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دے کر اپنی روزی روٹی پہ لات مارتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایک اور فضل رحمان غائبانہ طور پر بدستور حکومت میں تھا، بس عوام کو پتہ نہیں چلا۔

پھر 1990 کے الیکشن میں دو بڑے سیاسی اتحاد بن گئے ہیں۔ دونوں مولانا کو ساتھ ملانے کیلئے سرگردان ہیں۔ اس باروہ سولو فلائٹ کرتا ہے –اپنا حلقہ ہار جاتا ہے مگر اس کی پارٹی حکومت میں پہنچ جاتی ہے۔ اسکو فوراً حکومت میں شامل ہونا چاہئے تھا۔ ضرور ہوا ہوگا بس ہم کو نظر نہیں آیا۔

اگلے الیکشن میں یعنی 1993 میں، پھر وہ جیت جاتا ہے۔ بے نظیر کی حکومت ہے۔ ظاہر ہے اس کو حکومت میں آنے کیلئے، کوئ خاص محنت کی ضرورت نہیں کہ پرانے جمہوری اتحادی ہیں۔ اگر اس حکومت میں وہ شامل نہیں ہے تو یہ آپ کی آنکھوں کا دھوکہ ہے۔ “ایکسٹو” نظر تھوڑی آیا کرتے ہیں؟

تاریخ ساز دھاندھلی والے 1997 کے الیکشن میں نواز شریف دو تہائی اکثریت حاصل کر لیتا ہے– مولانا کو ہر حکومت کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ حکومت میں نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اصلی والا فضل رحمان بھی حکومت میں نہیں تھا۔ وہ حکومت میں شامل تھا مگر وہ چونکہ ایکسٹو ہے تو قوم کو کیسے پتہ چلتا؟

پھر اپنا سید مشرف تشریف لاتا ہے۔ ریفرنڈم کراتا ہے۔ کئی پاک لوگ بس اصولوں کی خاطر، جنرل مشرف کی مہم چلا رہے ہیں۔ سامنے وزارتیں پڑی ہیں تو مولانا کیسے پیچھے رہتا؟ بس اس نے یہ گیم کھیلی کہ ایک مولانا جیل میں چلا گیا جس کا ہم کو پتہ ہے، دوسرا ان دنوں مشرف کا وزیر بن گیا تھا جوحیطئہ غیب میں پوشیدہ تھا۔

مولانا ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر، مشرف کا اپوزیشن لیڈرمنتخب ہوا۔ مشرف نے کئی ایسے ناگوار اقدامات کئے تھے جس کی بنا پر، ایک غیرت مند آدمی کو اسمبلی سے استعفی دینا چاہیئے تھا ( جیسے آج کل لوگ غیرت کے مارے استعفی دے دیا کرتے ہیں)۔ مگر چونکہ مولانا بکا ہوا تھا، اس نے استعفی نہیں دیا۔ حالانکہ ایم ایم اے میں اس کے باقی اتحادی، یعنی جماعت اسلامی کے 25 ممبران اسمبلی، اور عمران خان تو پہلے دوسال میں ہی استعفی دے چکے تھے۔ اگر آپ کو اس اسمبلی میں، عمران خان اور قاضی حسین احمد جیسے لوگ، کامل مراعات سمیت، پانچ سال پورے کرتے نظر آتے ہیں یہ فقط میڈیا کا پراپیگنڈہ ہے ورنہ تو یہ سب مستعفی ہو گئے تھے اور اسمبلی میں صرف مولانا فضل رحمان اور اسکے 35 ممبران ہی رہ گئے تھے۔ کیوں جی؟

اس دوران، ایک ایسا موقع بھی آیا کہ اگر سرحد اسمبلی کو مولانا کا وزیر اعلی توڑ دیتا تو مشرف کے لئے آئینی بحران ضرور پیدا ہوجاتا (یہ الگ بات ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی چھڑی کسی بحران کو نہیں مانتی)۔ چونکہ مولانا ، مشرف کے ہاتھ پہ بکا ہوا تھا ، اس لئے مشرف کو بچانے کیلئے اسمبلی نہیں توڑی، ورنہ دیکھ لیجئے، نواز شریف کو ہٹانے، پختونخواہ اسمبلی کو تو پچھلے سال ہی توڑ دیا گیا ہے۔

پہلے میں حیران ہوتا تھا کہ پاکستان میں نگران حکومت میں لوگ کیوں شامل ہونے کو مرتے ہیں جبکہ یہ صرف تین ماہ کیلئے ہوا کرتی ہے۔ یہ راز تو بعد میں کھلا کہ وزارت، ایک دن کیلئے بھی مل جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ سنا ہے ایک نگران وزیر نے پہلے ہی دن، گورنمنٹ کی کمرشل زمین، 90 سالہ لیز پر اپنے بیٹے کو الاٹ کروا دی، اور تین ماہ میں اس پہ کمیٹی سے سرکاری خرچ پر مارکیٹ بنوا کر، گورنمنٹ کو ہی من مانے کرایہ پر چڑھا دی۔ پاکستان میں پانچ بار نگران حکومتیں آئیں اور منت ترلے کرکے، تیسری صف کے سیاستدانوں کو بھی اس میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ مولانا جیسا پیسہ پرست آدمی بھلا کیوں پیچھے رہتا؟ پس اگر آپ کو مولانا ان پانچوں حکومتوں کا حصہ نظر نہیں آتا تو آپ کے پاس بصیرت نہیں ہے۔

بہرحال، مولانا فضل رحمان، ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ظاہری مولانا تو آپ کے سامنے ہے۔ جس کے بارے ہمیں معلوم ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اس کا آدھے کنال کا گھر ہے۔ اسکے بچے اور بچیاں، دینی مدرسوں میں پڑھتے ہیں۔ اس کے دن رات، ملک یا بیرون ملک ، پارٹی یا منصبی مصروفیت میں گذرتے ہیں جن میں اسکا قیام عموماً مدراس اور مساجد میں ہوتا ہے۔ اسکی نجی چھٹیاں کوئی نہیں اور عید وغیرہ کے ایام ڈیرہ میں یا حرم مکہ میں گذرتے ہیں۔

مگر اصل مولانا فضل رحمان کا صرف مجھے پتہ ہے۔

سوشل میڈیا کے ماہرینِ شماریات نے بتایا کہ ایک ممبر قومی اسمبلی، ماہانہ ایک کروڑ ڈکار جاتا ہے۔ اس لحاظ سے، بطور ممبر قومی اسمبلی 18 سال میں 2 ارب روپے سے زیادہ کی تنخواہ و مراعات سے صرف آدھا کنال گھر؟ بھلا یہ کوئ ماننے کی بات ہے؟۔ پس حال ہی میں جس لیڈر کی خبریں لیک ہوئی ہیں کہ اپنے کارکنوں کو پاکستان کے غم میں مبتلا کرکے، مالدیپ میں کسی کے ساتھ رنگ رلیاں منانے گیا تھا، وہ مولانا ہی ہوگا۔ عالمی میڈیا نے مولانا کے ڈر سے اسکا نام پانامہ لیکس یا آف شور کمپنی میں نہیں دیا ہے لیکن یہ بات آپ لکھ لیں کہ مدرسے کے چندے سے اس نے ساوتھ افریقہ میں جائداد بھی خریدی ہے جس سے اس کی بہن نے دبئ میں فلیٹس بھی لئے ہیں۔

ہمارے مولانا “ایکسٹو” کی اضافی خوبی یہ ہے کہ دینی و دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ “الٹرا فزیکس” کے علوم سے بھی واقف ہے۔

ٹیلی پیتھی ایک علم ہے جس کے ذریعے، کس شخص کے ذہن کو گرفت میں لے لیا جاتا ہے۔ دنیا میں فردی ٹیلی پیتھی یعنی ایک آدمی کا ذہن کنٹرول کرنے کی مثالیں موجود ہیں لیکن ابھی تک اجتماعی ٹیلی پیتھی، یعنی پورے ایک طبقے کا ذہن مفلوج کرنے کی مثال مجھے نہیں معلوم تھی مگر اب پتہ چلا کہ مولانا تو اجتماعی ٹیلی پیتھی کا بھی ماہر ہے۔

اختصار کے پیش نظر، صرف دو مثالیں دوں گا۔

مولانا نے اپنی صوبائی حکومت کے زمانے میں، آرمی کے ذہن کو ایسا مفلوج کیا کہ بلاوجہ وہ قوم کی امانت یعنی سرکاری اراضی سے اس کو ہزاروں ایکڑ زمین دے بیٹھے۔ پھر اسی ٹیلی پیتھی کو استعمال کرتے ہوئے اس نے ” ان ویسٹی گیٹو جرنلزم” کو بھی مفلوج کردیا کہ صحافیوں کو کہیں کوئ رسید یا ڈاکومنٹ نہیں مل سکا۔ پھر اسی علم کو استعمال کرتے ہوئے، اے این پی حکومت کے ذہن کو مفلوج کیا کہ پانچ سال میں وہ اس زمین کا اتہ پتہ معلوم نہیں کرسکے۔ پھر اسی خاص علم کو استعمال کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے سارے ادارے، تین سال میں اس زمین سے واقف نہیں ہو سکے حالانکہ محکمہ مال کا وزیر بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ اور تو اور، پورے ڈیرہ کے باشندے ، روزانہ اس زمین کے ساتھ گذرتے ہیں لیکن کسی کو اس کی لوکیشن یاد نہیں رہتی ہے۔

مولانا کے اس خاص علم کا دوسرا مظاہرہ یہ ہے مولانا نے 1995 میں ہزاروں ٹنکر ڈیزل کے پرمٹ حاصل کئے –یوں تو شمع گھی کی ایجنسی کا پرمٹ بھی لیا جائے تو تین جگہ اس کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ ایجنسی کے پاس رجسٹر میں ایجنسی ہولڈر کا نام ہوتا ہے۔ ڈپو کے سپلائ رجسٹر میں ریکارڈ ہوتا ہے۔ اور ایک ریسیونگ رسید، ٹرک ڈرائیور کو سائن کرکے دی جاتی ہے جو ایجنسی تک پہنچاتا ہے۔ یہاں چونکہ ڈیزل کی سپلائ کا معاملہ تھا، جس میں کسٹمز کے علاوہ، اوگرا کا کام بھی ہوتا ہے پس پانچ جگہ ریکارڈ موجود تھا ۔ لیکن مولانا نے ہماری صحافتی برداری کا ذہن اپنے علم سے یوں مفلوج کررکھا ہے کہ 20 سال میں ایک بھی جگہ سے رسید نہ مل سکی۔ اگر یہ ہزاروں ٹنکر مولانا نے کسی د وسرے ملک بھیجے ہوتے تو بارڈر سیکورٹی کے پاس بھی ریکارڈ ہوتا جو کہ نظر نہیں آرہا۔ یہ پرمٹ، مولانا نے کسی اور آدمی کو بیچے ہوتے توا ب تک اس کا نام بھی معلوم ہوجاتا –پس ظاہر ہے کہ اس سارے ڈیزل سے مولانا نے ملک بھر میں اپنے ہزاروں پٹرول پمپ چلا رکھے ہیں جو ںظر نہیں آتے اور جنات کو ڈیزل سپلائی کرتے ہیں۔

پس مولانا، ایک ایسا ایکسٹو ہے کہ جنات بھی اس کے تابع ہیں۔

بلکہ میرا تو خیال ہے کہ” ایکسٹو” مولانا کے بچے، آپ کو مدرسے میں پڑھتے پڑھاتے نظر آتے ہیں جوکہ نظر کا دھوکہ ہے۔

ہونولولو کے جزائر میں ایان علی کو لاکھوں پاوںڈ کی شاپنگ کس نے کرائی تھی؟ وہ مولانا اسد محمود ہی تھا، جس نے افتخار چوہدری کے بیٹے کا میک اپ کیا ہوا تھا جبکہ ارسلان افتخار تو اس کی جگہ خیر المدارس ملتان میں ترمذی شریف پڑھا رہا تھا۔ ہیں جی!

ٹیکنالوجی کا دور ہے بھیا، کانوں کو ہاتھ لگاؤ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستان کا “ایکسٹو” کون ہے؟۔۔۔۔سلیم جاوید

  1. تو جناب آپ نے یہ ثابت کیا کہ فضل الرحمٰن صاحب اصل میں عمران ہی کا دوسرا روپ ہیں۔۔۔ وہ سن پائیں تو ناراض ہو جائیں گے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *