واللہ اعلم/حسان عالمگیر عباسی

عوام اب باہر نکلے گی۔ اب عوام نوالہ چھینے گی۔ اب عوام کا صبر جواب دے گا بلکہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گا۔ اب عوام غیرت کھائے گی۔ اب عوام کی ہمت جواب دے چکی ہے۔ یہی کچھ سننے میں آرہا ہے لیکن پریکٹس ان جملوں سے بالکل برعکس ہے۔ عوام موروثیت پسند ہو چکی ہے۔ عوام کو اپنے حقوق کا علم نہیں یا علم ہوتے ہوئے چپ چپیت ہے یا عوام ہمت کھو چکی ہے۔ اس عوام کا اللہ  ہی حافظ ہے جو مسیحاؤں کو گنتی ہے۔ وہ آئے گا جبر توڑ ڈالے گا۔ وہ آئے گا باطل پٹ جائے گا۔ وہ آئے گا حق چھا جائے گا۔ وہ آئے گا انصاف لائے گا۔ وہ آئے گا ظلم کے اندھیرے مٹ جائیں گے۔

کون آئے گا؟ کوئی نہیں آئے گا۔

ضمیر کو جگانا ہے، متحد ہونا ہے، پاؤ گوشت کے لیے جانور گرانے سے پرہیز کرنا ہے۔ سو کالڈ قائدین کی محبت اور شخصیت پرستی سے باہر نکلنا ہے۔ پارٹی بازی سے بچنا ہے۔ کیکڑا ذہنیت سے بچنا ہے۔ تو تو سے بھاگنا ہے۔ ساری باتوں کی ایک بات ہے۔ بہت ہی خوبصورت جملے آج نظر سے گزرے ہیں۔ انگریزی میں تھے جن کا مفہوم تھا کہ “میرا کسی سے کوئی مقابلہ ہے نہ مجھے فالوورز بنانے ہیں۔ مجھے تو ساتھیوں کا انتظار ہے تاکہ ہم ایک برابر اپنے مقاصد اور حقوق کی حفاظت کر سکیں اور منزل تک پہنچ سکیں۔”

یہاں کیا ہے؟ مذہبی دکانداری ہے۔ سیاسی تقسیم ہے۔ خاندانی موروثی سیاست ہے۔ اشرافیہ کی بدمعاشی ہے اور روایت پسندی ہے۔ جب نوجوانان کہتے ہیں کہ یہ اب رہنے کی جگہ نہیں ہے تو حب الوطنی کے سبق پڑھائے جاتے ہیں اور منکر کو غداری کا سرٹیفیکیٹ ملتا ہے۔ سرمایہ دارانہ مذہبی سیاست پہ لب کشائی ہو تو گستاخی کا پرچہ کٹتا ہے۔ اس قوم کو ذہنی بیماریاں اسی لیے ہو چکی ہیں کیونکہ یہاں جھوٹ، فراڈ، اور بددیانتی کا بول بالا ہے اور عوام کو اس حد تک مجبور اور محروم کر دیا گیا ہے کہ انھیں دو وقت کی روٹی تلاش کرنے کی جدو جہد میں مشغول رکھ کے دو فیصد اشرافیہ کی عیاشیوں کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ صوفی و ملا ملوکیت کے بندے تمام ہو چکے ہیں۔ غلط پٹیاں پڑھائی جا رہی ہیں۔ پڑھے لکھے باشعور لوگوں کو بھی مایوسیوں کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ سیاسی و دیگر اشرافیہ کی آپسی مفادات کی جنگ میں عوام کے جذبات، وقت، صلاحیتوں اور قابلیتوں سے کھیلا جارہا ہے۔ جب توازن نہیں رہا تو صبر کی وعظ و نصیحت کی جانے لگی ہے اور بھوک کی بجائے ثواب کھانے پہ توجہ مرکوز رکھنے کا حکم دیا جارہا ہے۔

julia rana solicitors

دراصل عوام کو عادت ہو چکی ہے اس لیے چکی میں پسنا اس کا مقدر ہے۔ عوام کچھ اس لیے نہیں کر سکتی کیونکہ شعور کی فیکٹریوں یعنی تعلیمی اداروں کے دروازے ان پہ ہمیشہ ہی سے بند رکھے گئے ہیں تاکہ شعور کی بجائے شور ہوتا رہے۔ تعلیم جیسا بنیادی حق ہی چھین لیا گیا ہے اور نیلے پیلے جھنڈوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ عوام سے قربانی مانگی جا رہی ہے گویا عوام ان کی غلام ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ کوئی امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور جو امید کا دیا جلائے وہ بھی شاید ذہنی بیماری کا شکار ہے یا حقیقت سے اس کا کوئی تعلق باقی نہیں ہے۔ واللہ اعلم!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply