چشمِ ظاہر زمان و مکاں کی قید میں ہے ، چشمِ تصور نہیں۔ چشمِ ظاہر کو موند لیجیے، چشمِ تصور کو وا کیجیے۔ وہاں چلیے جہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ صرف قادرِ مطلق تھا ۔ قادرِ مطلق کے لفظ پر غور فرمائیے۔ جسکی قدرت کا اطلاق ہر جگہ ہر وقت ہوتا ہے۔
ایک نورانی سا خلا ہے اور اس میں خالقِ کائنات ہے پھر وہ چند جن و ملائک کو پیدا کرتا ہے۔ اس میں ایک جن ہے وہ اتنا عابد و زاہد ہے کہ وہاں کوئی ایسی جا نہیں جہاں ماتھا نہیں ٹیکتا۔ اسکے بعد کے وطیرے سے پتا چلا کہ جب وہ آس پاس دیکھتا ہو گا تو اسکے دل میں اپنی عبادات کی بنیاد پر “میں” جنم لیتی ہو گی۔
میں “جس احد کو زیبا تھی اسکے سامنے ایک متوازی “مَیں ” نے جنم لیا۔ اسی “میں ” سے نیتوں کا حال جاننے والے عالم الغیب کے ” کُن ” میں ایک پوری کائنات کے تصور نے جنم لے لیا ہو گا۔
خدا نے انسان کو پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سب فرشتوں اور جنوں کو بلایا اور اپنے ارادے کا اظہار کیا تو انہوں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ یہ تو زمین میں جا کر فساد اور خونریزی کرے گا۔ جس پر خدا نے کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ فرشتوں کو کیسے معلوم تھا کہ کل کو ایسا ہو گا ؟۔ ظاہر ہے پروردگار ہی نے بتایا تھا کیونکہ آنے والے کل کا علم تو صرف وہی علیم الحکیم جانتا ہے۔
جب آدم کو خدا نے تخلیق کر لیا اور انکے علم و عقل کی بنیاد پر انہیں اشرف گردانتے ہوئے سجدے کا کہا تو۔۔۔ متکبر نے کیا قیام
جب آیا سجدے کا مقام۔۔
ابلیس نے آدم کو سجدے سے انکار کیا اور خدا کے پوچھنے پر کہا کہ میں آگ سے یہ مٹی سے۔ آگ مٹی سے افضل ہے۔ اس لیے سجدہ نہیں کروں گا۔
خدا نے کہا ، جا آج سے تو لعین و مردود ہے کہ خدا کو انکار کیا۔ اس نے قیامت تلک کی مہلت مانگی اور بجائے شرمندگی کے مزید اکڑتے ہوئے کہا اسی آدم اور اسکی اولاد کو بھٹکاؤں گا۔ خدا نے مہلت دی۔ اور ابلیس اپنے کام پر لگ گیا۔
آدم و حوا کو خدا نے بہشت میں من چاہی زندگی گزارنے کا کہا اور ساتھ ہی ایک شجرِ ممنوعہ کے قریب جانے اور اسکا پھل کھانے سے منع کیا۔ ابلیس نے بڑے پاپڑ بیل کر جنابِ آدم کو اس شجر کا پھل کھانے پر آمادہ کر لیا اور خدا نے جنابِ آدم کی پُرسش کی۔ آدم نے عجز و عبودیت کا اظہار کرتے ہوئے خدا سے “ربنا ظلمنا ” کی صورت اعترافِ جرم کیا اور “تغفرلنا و ترحمنا” کی شکل میں معافی مانگی۔ طالبعلم کی نگاہ میں یہی بنیادی فرق ہے انسانیت و ابلیسیت میں۔ دونوں نے حکم عدولی کی مگر نتیجے کے طور پر ایک اکڑ کر راندہ درگاہ ہوا جبکہ دوسرا انسانیت کے لیے مشعل ِ راہ نبوت کا اوّلیں کردار۔
خدا نے آدم کی توبہ قبول کر لی مگر انہیں زمین پر بھیج دیا کہ اب پوری انسانیت کو خدا کی جنت کمانی پڑے گی۔ پھر اس زمین پر کارزارِ حیات کا آغاز ہُوا۔ خدا نے انسانیت کو اپنی رضا کا راستہ بتانے کے لیے “علم ” کا راستہ اپنایا۔ اپنے پیغمبر اور انبیا بھیجے ان میں سے چار پر کتابیں نازل کیں۔ اور جنابِ آدم سے شروع ہونے والا سفر مختلف ارتقائی مراحل سے ہوتا ہوا خاتم الانبیا محمد رسول اللہ ص پر آکر منتج ہوا۔ اسے دینِ اسلام کہتے ہیں۔ اسکے لیے خدا نے ہدایت کی کتاب رسول اللہ ص پر نازل کی اور تاابد یہی قرآن و سنت اس دین کا ماخذ ہیں۔ مندرجہ بالا قصہ آدم و ابلیس بھی ہمیں اسی کتاب سے پتا چلتا ہے۔
اب دلچسپ امر یہ ہے اس دین کا ایک رُکن روزہ ہے۔ روزہ ایک بدنی عبادت ہے مگر اس کی روحانی تاثیر کا عالم یہ ہے کہ خدا قرآن میں اسے اپنی قربت یعنی تقوے کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ رمضان کے اس مہینے کی زیرِ بحث موضوع کے لیے خاص بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایمان کے مطابق اس مہینے میں شیطان قید ہوتا ہے۔ توقف !
اوپر بیان کردہ تمہید کی روشنی میں غور فرمائیے ابلیس نے خدا کی حکم عدولی کے بعد مہلت مانگی اسے تا قیامت ہر سال کے گیارہ مہینے کی مہلت ملی۔ ایک مہینے کے لیے وہ قید ہے۔ اس ایک ماہِ رمضان میں اپنی سر زمین پر نگاہ دوڑائیے۔ کیا وہ گناہ وہ معاشرتی برائیاں ختم ہو گئیں جنہیں ہم شیطان کا بہکاوا گردانتے ہیں ؟ نہیں ناں ؟ تو اسکا مطلب اگر شیطان واقعی مقید ہے تو اس ایک ماہ میں تو ہمیں مکمل طور پر ان آلائشوں سے پاک ہو جانا چاہیے جنہیں ہم اسکی دین سمجھتے ہیں۔
ایسا کیوں نہیں ؟ طالبعلم کے خیال میں ابلیس /شیطان ایک استعارہ ہے۔ اصل چیز وہ ابلیسیت اور شیطانیت ہے جسکا ماخذ انسان اور ابلیس کے اندر مشترک ہے اور وہ ہے “میں” اور اس میں کا ماخذ ہے تکبر۔
میری طالبعلمانہ نگاہ میں رمضان المبارک درحقیقت اس “مَیں ” کے شعوری تجزیے کے لیے آتا ہے۔ ہمیں یہ بتانے کے لیے ورنہ باقی ماندہ گیارہ مہینوں سے محض کھانے کے وقت کی تبدیلی سے غالباً زیادہ ہی کھا پی لینے سے خدا کی قربت کیسے حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ اوقات کار کی تبدیلی تو اس ارتکاز کا ایک پروٹوکول معلوم ہوتا ہے جس ارتکاز کے ذریعے ہم اپنی اس “میں ” کو خدا کی “میں “کے تابع کرنے کی مشق کر سکیں۔
انسان کے خمیر میں رحمانیت اور ابلیسیت رکھ دیے گئے بہشت یہ دنیا ہے (اگر انسان بنانا چاہے) شر وہ شجرِ ممنوعہ ہے جسکے قریب ہم نے نہیں جانا ہمارا نفس ابلیس ہے جو ہمیں اس طرف کھینچتا ہے۔ اور حیات آدمی کی کارگاہِ آزمائش۔ چھوٹی موٹی لغزشیں اور اسکے بعد “ربنا ظلمنا ” کے ساتھ واپسی ہمیں بالآخر خدا کی رحمت میں لے ہی آئے گی انشاللہ کہ یہی آدمیت ہے۔ لیکن اپنی “میں ” کی اس درجہ پیروی کہ انسان شیطان کی قید یا آزادی سے ہی مبرا ہو جائے تو ایسی صورت میں آنے والی زندگی میں اسی طرح راندہِ درگاہ اور مردود ہو گا جس طرح ابلیس ہوا۔

رمضان جانے کو ہے ہمیں اپنا اپنا محاسبہ کرنا ہے کہ اسکی قید کے دوران ہم خدا کے قریب ہوئے یا اسکی کمی محسوس کرتے رہے۔ لیکن یاد رکھیے گا محاسبہ اپنا اپنا۔ اگر اپنا نہ ہوا تو اسکے رستے میں وہی “میں “ہی ہو گی۔۔جی ہاں وہی!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں