تتلی روتی ہے۔۔۔۔۔حسن مجتبیٰ

لڑکا پاکستان کے پنجاب میں جھنگ کا ہو، آرٹ پڑھا ہو نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کا، فلم لکھے اور بنائے ‏ گيارہ ستمبر کے پس منظر میں، فلم کی تھیم میں نظم ہو نون میم راشد کی اور نام ہو فلم کا ’تتلی چیختی ہے‘ تو پھر بات بنتی ہے کہ نہیں! نیویارک میں مقیم مصور اور فلم ساز ممتاز حسین نے بھی ایسا ہی کچھ کیا ہے۔

نیویارک میں آدمی کے حواس کو باختہ کرتے ہوئے پرشور مین ہیٹن میں کیا کوئي سوچ سکتا ہے کہ ایک ایسا ننھا سا جزیرہ بھی ہوسکتا ہے جس میں کچھ کاریں، صرف ایک ریستوران، ایک ندی، ایک ٹرام نما ریل اور لمبی خامشی ہو سکتی ہے۔ جس پر مجھے میری ٹانگوں سے اب تک کسی بچے کی طرح لپٹے لیکن چھوڑ کر آئے ہوئے شہر کا احساس ہو۔ اس ، بقول کسی شاعر، ’ایک جزیرہ خوابوں کا‘ جیسے شہر کے لیمپ پوسٹ اور درخت بھی مجھے اپنے بھولے ہوئے دوستوں جیسے لگے تھے۔ میں نے سوچا نیویارک کی ایسی جگہ یا تو آرٹسٹ رہتے ہونگے یا پھر ہمارے جیسے ملکوں کے سابق حکمران جوڑے۔

’ہاں ہمارے والی بلڈنگ میں یو این کے سیکرٹری جنرل بننے سے پہلے کوفی عنان رہتے تھے۔‘ ممتاز حسین نے مجھے بتایا۔
’وہاں جب سٹیشن سے باہر آؤ گے تو دائيں طرف تین چار عمارتوں کے پاس سے چلنے کے بعد ایک چرچ آئےگا جس کے بازو والی عمارت میں ہمارا اپارٹمینٹ ہے۔ بس ایک ہی توچرچ ہے اس جزیرے پر ’مجھے اس پاکستانی نژاد آرٹسٹ اور مووی میکر ممتاز حسین نے بتایا تھا۔

اس دن جو نیویارک کے پنجابی لکھاریوں اور شاعروں کی شام میں گیا تو وہاں بھی اس کی، بقول شخصے جلد ہی آنے والی فلم ’بٹر فلائی اسکریمز‘ کا چرچا تھا۔ ‘جب اچھی طرح اندھیرا ہوجائے تو پھر اس پردے پر پروجییکٹر پر فلمیں دیکھتے ہیں۔ نیویارک پر دس ستمبر کا سورج ندی میں ڈوب جانے کےکچھ لمحوں بعد اس نے کہا۔

’رومی انسائيڈ یو‘ (رومی تیرے اندر) یہ ممتاز حسین آرٹسٹ کی پہلی شارٹ فلم تھی جو اب میں اس کے گھپ اندھیرے لِونگ روم میں پروجیکٹر پر دیکھ رہا تھا۔ اگرچہ گوتم بدھ کے بعد دنیا میں دیپک چوپڑہ سے لیکر آج تک رومی سے کچھ زیادہ اچھا نہیں کیا لیکن وال سٹریٹ اور زندگی کے گورکھ دھندوں میں الجھے ہوئے ایک امیر شخص ایلیکس (اداکار اوون جانسن ثانی جو نیویارک براڈوے پر گزشتہ پانچ سالوں سے چلتے میوزیکل ’رینٹ‘ کا ایک اہم اداکار ہے) کو نیویارک کی گلی پر رہنے والے ایک ہوم لیس یا بےگھر شخص ايڈم ( اداکار لارس اسٹیون) سے سچی مسرت کا سراغ مل جاتا ہے۔ ‘ایڈم یا آدم علامتی طور میں نے دھرتی پر پہلے انسان کے طور پر بھی استعمال کیا ہے’ کل مجھے ممتاز حسین بتا رہے تھے۔

ممتاز حسین کی فلموں میں ایک سین سے دوسرے سین بدلنے کے وقفے میں صبح کے اجالے یا سپید سحر کی تیکنک استعال کی گئي ہے جسے وہ خوابوں کا رنگ کہتے ہیں۔ ممتاز حسین کی دوسری فلم ’پش بٹن فار‘ اردو کے مشہور افسانہ نگار غلام عباس کی کہانی ’اوورکوٹ‘ کی انگریزي میں ایڈاپٹیشن ہے جس میں مقامی امریکی اداکاروں نے کام کیا ہے۔

فلم کے مرکزی کردار میں اوورکوٹ پہنے شخص مشہور ادا کار اور ایکٹنگ کے استاد بوب میکنڈو ہیں۔ اگر آپ نے میری پسنددیدہ فلم ’ کس آف اسپائيڈر وومین‘ دیکھی ہے تو اس کے اداکار رائول جولیا کو بھی بوب میکنڈو نے ٹریننگ دی تھی۔ ممتاز حسین نے اپنے ایکٹنگ کے اس استاد کو فلم میں کام کرنے کیلیے پیرس سے بلایا اور انہوں نے اسکرپٹ دیکھ کر اس میں مرکزی کردار ادا کرنے کی حامی بھرلی۔ میں نے سوچا غلام عباس اور ممتاز حسین نے شاہ بھٹائي کی سطر ’اچھی پگ م پس اندر مڑیئي اگڑیوں (‘سفید دستار پر مت جائو اندر بس لیروں لیروں ہے’) پڑھی تھی کہ نہیں!

ممتاز حسین نے مجھے بتایا کہ رنگین پاکستانی فلموں میں جو کیمیکل کلر استعمال ہوتے ہیں وہ رنگ اور ان کے اترتے پن کی تکنیک اس نے اپنی فلموں میں استعمال کی ہے۔

وہ جھنگ شہر سے اس وقت نکلا تھا جب جھنگ ہیر کا اور صوفیوں کا دیس تھا اور ممتاز حسین سے نہ وہ جھنگ نہ صوفی ازم نکلا ہے۔ لاہور، لندن ، پیرس اور پھر اب گزشتہ دس سالوں سے نیویارک۔

’پاکستان میں مصور کتنا بھی بڑا ہو لوگ مصور کو بس فلم کے پوسٹر بنانے والا ہی سمجھتے ہیں‘ مممتاز حسین نے این سی اے سے گریجوئیشن کے بعد سوچا تھا۔

ان کے والد میجر اسحاق کی مزدور کسان پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور جھنگ شہر کے وکیل تھے جہاں انہوں نے فلم کلب بھی بنایا تھا۔ ممتاز حسین کو فلموں کی گٹھی گھر سے پڑی۔ یہ ایک اور جھنگ تھا۔ ہیر اور وارث شاہ والا۔

ممتاز حسین کہتے ہیں وہ فلم میں ایرانی سنیما سے متاثر ہیں اور خاص طور شاہ کے ایران کے دور میں بنی ہوئی بلیک اینڈ وائٹ مشہور فلم ’دی کاؤ‘ ( گائے) سے۔ انیس سو انہتر میں بننے والی اس فلم میں دکھایا گيا ہے کہ ایک ایرانی گاؤں میں ایک شخص اپنی گائے سے زبردست محبت کرتا ہے۔ ایک دن وہ شخص جب کسی کام سے گاؤں سے باہر جاتا ہے تو اس کی گائے مرجاتی ہے۔ گاؤں والے یہ سوچ کر کہ اگر اسے اپنی گائے کی موت کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ مر جائے گا اسے بتاتے ہیں کہ اس کی گائے گم ہوگئي ہے۔ وہ اپنی گائے کی محبت میں اتنا گم ہوجاتا ہے کہ وہ خود کوگائے سمجھنے لگتا ہے (مطلب کہ رانجھا رانجھا کرکے میں آپے رانجھا ہوئی ایک عالمگير بات ہے)۔

یہ ایرانی فلم بہت سے تخلیقی فلم سازوں کا مکتب فکر بن گئي۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ خمینی کو بھی یہ فلم اچھی لگي تھی اور انہوں نے اپنے دور میں جہاں بے شمار فلموں اور ان کے بنانے والوں پرایران کی سرزمین تنگ کردی لیکن یہ فلم خمینی کے قہر سے محفوظ رہی تھی۔ یہ فلم شاہ کے ایران پر ایک سیاسی طنز اور سماجی حقیقت نگاری کا عمدہ علامتی سنگم تھی۔

شاہ اور خمینی کے ایران کی طرح آج کل جارج بش کا امریکہ بھی فلمسازوں اور لکھنے والوں کے قلم اور کیمرے کا بڑا موضوع ہے۔ جادوئی حقیقت نگاری کی جگہ علامتی طنز سے کام لیتے ہوئے فلم میکر اور مصور ممتاز حسین نے گيارہ ستمبر کے دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر میں اپنی یہ فلم ’بٹر فلائي اسکریمز‘ (تتلی روتی ہے) بنائي ہے۔

فلم میں ہوتا یہ کہ حشام نیویارک میں ایک پاکستانی تارک وطن پروفیشنل ہے جس کی بیوی پاکستان میں حاملہ ہے۔ اسے خبر ملتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹی کے پیدائش ہوئي ہے جس کا نام وہ یاسمین رکھتا ہے۔ یاسمین کی پیدآئش کی خوشی میں وہ یاسمین کے پھول کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ یہ دن اور وقت گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کی اس صبح کا ہے جس وقت نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے دو طیارے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔

ٹیلیویژن پر نوگیارہ کی خـبریں اور امیجز دکھائے جانے کے وقت شہریوں سے نیوز کاسٹر یہ کہ رہے ہوتے ہیں کوئي بھی مشکوک شخص یا سرگرمی دیکھیں تو وہ فوراً پولیس اور سلامتی کے اداروں کو اطلاع کریں۔ بلیوں سے پیار کرنے والی حشام کی ایک ٹیلی ویژن دیکھتی پڑوسن اس کی ٹوہ میں پڑ جاتی ہے۔ اس تمام سانحے سے بیخبـر حشام اپنی بیٹی کے جنم کی خوشی میں گل یاسمین کی تلاش میں نکلا ہوا ہے جو اسے کسی بھی گلفروش کی دکان پر سے نہیں ملتا۔ آخر کار وہ گل یاسمین کا پودہ ایک پبلک پارک میں پالیتا ہے جو گملہ چرا کر وہ گھر لے آتا ہے۔ یہ سب کچھ اس کا تعقب کرتی ہوئی پڑوسن چشم دید کر رہی ہوتی ہے اور اسپر ایف بی آئي کو کال کر دیتی ہے۔

ایف بی آئي کے ایجنٹ بشمول ایک خاتون کے حشام کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اس پر اپنے تفتیشی سوالوں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔ کہ وہ اس ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشگردوں کے حملے کے وقت کیا کررہا تھا؟ کیا اس کے نام حشام کا تعلق صدام سے ہے؟ گل یاسمین کیا ہے اور اس نے اس کا ایسے وقت خوشی منانے کا کیا مقصد تھا؟۔ پھر وہ گل یاسمین کو باٹنسٹ کے پروفیسر کے پاس لے جاتے ہیں اور وہ ایجنٹ پروفیسر کی موت اور خوشی کے وقت گل یاسمین کے استعمال اور اس گل کے پالینیشن کے عمل کی اپنی معنی لیتے ہیں۔ حب الاوطنی کے نشے سے سرشار یہ مرد ایف بی آئي ایجنٹ اپنے مقصد کی معنی نکالنے لگتے ہیں۔ لیکن ہوشمندی اور توازن کے علامات ان کی اس خاتون ساتھی ایجنٹ کو دکھایا گيا ہے۔ ممتاز حسین کہتے ہیں اس طرح وہ علامت ہے عورت کی آزادی کی۔

آخر کار گل یاسمین کے گملے میں پڑے پودے کو ایک مشتبہ تباہی کا ہتھیار سمجھ کر اڑانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور وہ ایجنٹ کسی فائرنگ اسکواڈ کی طرح نشانہ باندھ کر گل یاسمین کو بھک سے اڑادیتے ہیں۔ یہی وہ سین ہے جہاں نون میم دانش کی بجتی نظم کے پس منظر میں تتلی بچے اور پھول اپنی تمام آوازوں اور صوتی اثرات کی پوری چیخ کے ساتھ فلم کو اختتام تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن یہ فلم آغاز ہے مسلم بیشنگ اور امریکہ بیشنگ کے بیچ امریکی سوسائٹي اور سنیما میں ایک نئي بحث کا۔ ممتاز حسین کے اپنے لفظوں میں: ’مجھے گيارہ ستمبر کے حملوں میں مارے جانیوالوں پر بے حد دکھ پہنچا ہے اتنا ہی دکھ مجھے نیویارک میں بلا کسی قصور و گناہ کے گرفتار کیے گۓ لوگوں کا ہے۔‘ ممتاز حسین کہتے ہیں اسی لیے انہوں نے اس فلم میں ’وار آن ٹیرر‘ کو ار آن ایرر‘ کہا ہے۔

’بٹر فلائي اسکریمز‘ نہ ہالی ووڈ کی آنکھ سے بنائي گئي ہے اور نہ ہی مائيکل مور کی آنکھ سے۔ لیکن شاید اس فلم کو وہ آنکھیں زیادہ پسند کریں جن کے گھروں کے دروازوں پر اجنبی دستک اور آہٹ گيارہ ستمبر کے بعد ایک خوف کی صورت منمجد ہوگئي ہے۔ ممتاز حسین کے قلم اور کیمرے نے اس مجمند خوف کو آنسو اور طنز سے پگھلانے کی کوشش کی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *