کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(چھٹا دن)۔۔۔گوتم حیات

شہر میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ گزشتہ رات صوبائی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کے احکامات صادر کر دیے گئے تھے۔ اب ان نئے احکامات کی روشنی میں شہر بھر کی دکانیں صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک کُھلی رہیں گی۔ نیوز چینلز پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کو مزید سخت اس لیے کیا گیا کہ بہت سے نوجوان لڑکے بلا ضرورت شاہراہوں میں گھومتے ہوئے پائے گئے اور گلی محلّوں میں کچھ من چلے لڑکوں نے تو کرکٹ بھی زوروشور سے جاری رکھی ہوئی تھی۔ ان سخت اقدامات کے تحط لوگ اب گھروں میں ہی مقید رہیں گے یا وہ اپنی من چلی سرگرمیوں کو جاری رکھیں گے۔۔؟ اس بات کا اندازہ آنے والے دنوں میں بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
آج شام کے وقت عصر کی اذان کے دوران میرے ایک مہربان اور شفیق دوست ڈاکٹر طارق کاکڑ نے جو کہ اپنی فیلو شپ کے سلسلے میں امریکہ میں مقیم ہے، مجھے میسج کرتے ہوئے پوچھا کہ کہاں ہو اور جب میں نے اُس کو تفصیل سے یہ بتایا کہ طارق میں تو پچھلے دس دنوں سے مستقل گھر پر ہوں۔ ان دس دنوں میں ایک قدم بھی اپنے گھر کے دروازے سے باہر نہیں نکالا تو میری یہ بات سُن کر اُس کو تسلّی ہوئی۔ کرونا کی وجہ سے ہر شخص پریشانی میں مبتلا ہے۔ کسی کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ وباء کب اور کیسے ختم ہو گی، ختم ہو گی بھی یا نہیں۔۔۔ میں اپنے دوست ڈاکٹر طارق کاکڑ کے ان میسیجز کو انتہائی محبت سے موبائیل  سکرین پر دیکھ کر اچانک افسردہ ہو جاتا ہوں۔ امریکہ  میں یہ وباء اب ایک بحران کی کیفیت اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ  کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے میری بڑی بہن شگفتہ یاد آتی ہے۔ شگفتہ کو ہم سب گھر والے شگّو کے نام سے پکارتے ہیں۔ جب سے میں نے اپنی فیس بُک وال پر یہ ڈائری لکھنا شروع کی ہے تو کچھ پرانے روابط فیس بُک پر دوبارہ سے بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ میرے انتہائی آزادانہ سماجی اور مذہبی نظریات کی بنا پر شگّو نے مجھے تقریباً تین، چار سالوں سے فیس بُک پر بلاک کر رکھا تھا لیکن جب اُس کو ہر رات لکھی جانے والی میری اس ڈائری کا علم ہوا تو اُس نے خوشی خوشی مجھے اَن بلاک کر دیا۔ اب فیس بُک پر دوبارہ سے میں اور شگّو دوست بن گئے ہیں۔
آج دن کے وقت سوشل میڈیا پر میں نے کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کے بارے میں ایک افسوسناک ویڈیو دیکھی۔ اس ویڈیو میں لوگوں کا ہجوم تھا جن میں مفلوک الحال عورتیں، مرد اور بچے کندھے سے کندھا جوڑے پریشانی کے عالم میں سراپا احتجاج تھے۔ یہ لوگ کرونا کی ان آفت زدہ گھڑیوں میں تیز دھوپ میں کُھلے آسمان کے نیچے سماجی فاصلوں کی حد بندیوں سے بے نیاز حکومتی نمائندوں سے اپنے لیے راشن کی مانگ کر رہے تھے۔
ان لوگوں کو اس کیفیت میں دیکھ کر مجھے بیحد رنج ہوا اور میں سوچنے لگا کہ اگر اس ہجوم میں شامل کسی ایک فرد کو بھی کرونا ہو جائے تو اس کا ذمےدار کون ہو گا؟؟ حکومتی نمائندے جنہوں نے لاک ڈاؤن کر کے عوام کی بنیادی ضروریات کا خیال نہیں رکھا یا یہ غریب عوام خود، جن کو بھوک کی شدّت نے آج اتنا مجبور کیا کہ وہ اب لاک ڈاؤن کی پرواہ کیے بغیر اپنے خالی پیٹوں کو بھرنے کے لیے سڑکوں پر ہجوم کی صورت میں بے یارو مددگار کھڑے ہیں۔۔۔
شہرِ کراچی میں کرونا کے سبب ہونے والے لاک ڈاؤن کے دنوں میں شہری راشن نہ ملنے پر احتجاج بھی کر رہے ہیں، میرے خیال میں یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ آخر یہ لوگ کتنے دن بھوک کا مقابلہ کرتے ہوئے کرونا سے ڈر کر اپنے تنگ گھروں میں رہ سکتے ہیں۔۔۔ لیکن اِسی شہر میں کرفیو کے زمانے میں شہری انتہائی خوف اور جبر کے ماحول میں سانس روکے اپنی زندگیاں گزارہ کرتے تھے۔ ہر روز ہی
بے گناہ لوگوں کے لہو سے شہر کی سڑکیں وضو کیا کرتی تھیں۔ کسی بھی شہری کو آنے والی گھڑیوں میں اپنے زندہ سلامت ہونے کا یقین نہیں ہوا کرتا تھا۔ اُن خونی کرفیو زدہ دنوں کو اس لمحے میں اپنے بستر پر عافیت سے لیٹا ہوا باآسانی محسوس کر رہا ہوں۔ میں اب اس راحت بخش بستر سے اُٹھ کر کتابوں کی الماریوں کی طرف بڑھتا ہوں اور میڈم زاہدہ حنا کے افسانوی مجموعے “رقصِ بسمل ہے” کو لے کر اس میں شامل افسانہ بعنوان “بہ ہر سو رقصِ بسمل بود” کے صفحے پلٹنے لگتا ہوں۔ یہ افسانہ میں نے دسیوں، بیسیوں بار پڑھا ہے۔ جب بھی میں اس افسانے کو پڑھتا ہوں تو میرے بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ میڈم زاہدہ حنا نے اس شاہکار افسانے کو تخلیق کرتے ہوئے جانے کتنے کرب جھیلے ہوں گے۔۔۔ شہر کے المناک دنوں کا رزمیہ آج شب دوبارہ سے پڑھتے ہوئے میں بےچین ہونے لگتا ہوں اور افسانے کے مندرجہ ذیل پیراگراف کو پڑھتے ہوئے میری سانس رک سی جاتی ہے۔
“1996۔۔۔ پرسوں کا کھارا ماچھی کل کا کراچی جو اب
کراہ چی ہو گیا تھا۔ ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ کے بیٹے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا۔۔۔ سربریدہ لاشیں، بوریوں میں بھرے ہوئے بدن، انسانوں کے قتلے، آنکھوں سے محروم کھوپڑیاں، سوراخ دار پنڈلیاں۔ ناہید کی نگاہوں میں وہ تصویریں گھوم گئیں جنہیں شہر کا کوئی اخبار چھاپنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا اور مُلک کو کوئی اخبار انہیں اس لیے شائع نہیں کرتا تھا کہ مصلحت اسی میں تھی۔۔۔ سرکار کی۔۔۔ اخبار کی۔۔۔ نجیب کی کھینچی ہوئی وہ تصویریں جن میں بہت سے چہرے پہچانے جاتے تھے۔”

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *