عمران خان کا سیاسی مستقل(1) -سعید ابراہیم

ٹائمز نے بالکل ٹھیک لکھا کہ موجودہ مہنگائی والا گڑھا عمران خان کا کھودا ہوا ہے۔ اس گڑھا کھودنے کے کئی شواہد ریکارڈ پر ہیں۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے مالی حالات کا تعلق سعودی عرب، امریکہ اور چین سے تعلقات پر ہے۔ ان تعلقات میں جب بھی کوئی بگاڑ آئے گا ہماری معیشت کی کشتی ڈولنے لگے گی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک معیشت کے میدان میں خودمختار بننے کی کوشش نہیں کی۔ ہم اول روز سے امریکہ اور سعودی عرب کے طفیلیے بنے ہوئے ہیں۔ (چین کے ساتھ معاملہ قدرے مختلف ہے۔)

Advertisements
julia rana solicitors london

سی پیک ایک ایسا منصوبہ تھا جو ہمیں کم از کم ایک عمدہ انفراسٹرکچر فراہم کرکے ہماری معیشت کو قدرے بہتر بنا سکتا تھا، مگر خان نے اس منصوبے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد ہیروازم کے چکر میں پہلے تو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بڑھک ماری۔ اور جب حالات ہاتھ سے نکلنے لگے تو بیل آؤٹ پیکیج کیلئے وہ شرط تسلیم کرلی جس نے چین کو بالکل بدظن کرردیا۔ خان حکومت نے کیا یہ کہ چائنہ کے منع کرنے کے باوجود سی پیک کے خفیہ معاہدہ کی تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کردیں۔ اسی دوران خان نے عرب ممالک کے مقابل ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد بنانے کی کوشش کی۔ موصوف نے یہیں پر بس نہیں کی بلکہ ایم بی ایس کے خلاف انتہائی بے ہودہ اور گھٹیا ریمارکس دے ڈالے۔ مزید گھٹیا پن یہ کیا کہ اس کی جانب سے بطور عزت دیے گئے انتہائی خصوصی تحائف کوڑیوں کے بھاؤ بیچ ڈالے۔ یہ معاملہ دو عام افراد کا ہوتا تو خیر تھی مگر یہ تو دو مملکتوں کا معاملہ تھا۔ خان بطور وزیراعظم پورے ملک کی ذلت کا باعث بن رہا تھا۔ جہاں تک امریکہ کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ہے انھیں سائفر کے سازشی ڈرامے کے ذریعے ممکنہ حد تک برباد کیا گیا۔ یہ واحد شخص ہے جس نے اپنے پونے چار سال کے اقتدار میں ملک کی سفارتی اور معاشی حالت کو انتہائی خطرناک بنا دیا۔
یہ درست ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کچھ امیدوں کی وجہ سے خان کو اقتدار میں لائی تھی جس کے پس منظر میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ یکِ بعد دیگرے اسٹیبلشمنٹ کو کسی حد تک ٹف ٹائم دینے لگی تھیں جس کے دو شواہد پیش کیے جاسکتے ہیں۔ ایک اٹھارویں ترمیم اور دوسرا اسحٰق ڈار کی جانب سے فوج کو بجٹ کے علاوہ رقم فراہم کرنے سے انکار تھا۔
اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ خان جرنیلوں کو فری ہینڈ دے دے گا، اور وہ اس نے دیا بھی۔ اس نے اقتدار میں آتے ہی حکومت کے سارے معاملات جنرل باجوا اور فیض کے سپرد کردیے۔ اس کے ذہن پر بس ایک ہی بھوت سوار تھا کہ کسی بھی طرح اپنے ہر مخالف کو جیل میں ڈال دے۔ اس جنون میں اسے حکومت کو چلانا سیکھنے کا جو موقع نصیب ہوا تھا، اس نے وہ بھی گنوادیا بلکہ الٹا ملک کا نصیب بگاڑ کے رکھ دیا۔ لانے والوں کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ انکا یہ لاڈلہ ہیرو اس قدر نالائق ثابت ہوگا۔ ہیرو کے ہاتھوں ملک کو پہنچنے والے نقصانات سے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اسے اقتدار بدر کرکے انہی کو واپس لایا جائے جن سے اقتدار چھینا گیا تھ
۔۔ (جاری ہے)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply