میزانِ عدل کہاں ہے؟-پروفیسر رفعت مظہر

ہمارے دین کی بنیاد ہی عدل ہے اِسی لیے فرقانِ حمید میں بار بار عدل کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة النساءآیت 135 حکم ہوا “اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خُدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زَد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو، فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیرخواہ ہے اِس لیے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اُس کی خبر ہے”۔

اِس آیتِ مبارکہ میں رَبِّ لَم یَزل نے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ بطور مسلم ہمیں صرف اور صرف عدل ہی کی راہ اپنانی ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں کہیں بھی عدل کی بالا دستی نظر نہیں آتی۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی ناہمواریوں، جرائم اور ظلم وستم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہمارا نظامِ عدل اتنا کمزورہے کہ 136 ممالک کی فہرست میں 130 ویں نمبر پر موجود ہے۔ بین الاقوامی سرویز کے مطابق ہمارے ہاں کرپشن میں پولیس پہلے اور عدلیہ دوسرے نمبر پر ہے۔ جب عدل کے اونچے ایوانوں کے عجیب وغریب فیصلے سامنے آتے ہیں تو اِن سرویز پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔

میں جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کا ذکر نہیں کروں گی کہ ہم تو اُس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے لیکن نسلِ نَوکو ضرور علم ہونا چاہیے کہ جسٹس منیر کا 1954ءکا نظریہ ضرورت آج بھی اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ جاری ہے۔ میں یہاں صرف اُن حالات کا ذکر کروں گی جن سے نسلِ نَو بخوبی آگاہ ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ 2014ءکے ڈی چوک اسلام آباد کے دھرنے میں عمران خاں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے سرِعام یوٹیلٹی بلز جلائے۔ یہی نہیں بلکہ اُن کے حکم پر پارلیمنٹ ہاوس کا گیٹ توڑ کر اُس پر قبضہ جمانے کی کوشش کی، وزیرِاعظم ہاوس پر حملہ کیا، پولیس سٹیشن پر حملہ کرکے اپنے کارکُن چھُڑوائے، پی ٹی وی پر قبضہ کیا اور بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کوہُنڈی کے ذریعے رقوم بھیجنے کی تلقین کی۔ پھر بھی اُن پر ہاتھ ڈالنے کی کسی کو ہمت ہوئی نہ جرات۔

وجہ یہ کہ وہ اُس وقت بھی اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے تھے۔ لاڈلے تو خیر وہ ضیاءالحق کے بھی تھے اور تحریکِ انصاف کی تشکیل میں نمایاں ہاتھ جنرل (ر) حمید گُل کا تھا۔ یہ بات الگ کہ تحریکِ انصاف کی تشکیل کے بعد عمران خاں نے حسبِ عادت جنرل صاحب کو بھی جھنڈی کروا دی۔ اسٹیبلشمنٹ کی یہ وراثت ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا سے ہوتی ہوئی جنرل ظہیرالاسلام تک پہنچی۔ بعد ازاں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اُنہیں گود لے کر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے سپرد کیا۔

دراصل اسٹیبلشمنٹ بہرصورت اقتدار کا ہُما عمران خاں کے سر پر بٹھانا چاہتی تھی جس میں وہ 2018ءکے عام انتخابات میں کامیاب ہوئی۔ اِن انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ نے کیا کیا گُل کھلائے، یہ الگ داستان ہے۔ اِن انتخابات میں چونکہ دھاندلی کی واضح علامات موجود تھیں اِس لیے پارلیمنٹ کے پہلے ہی اجلاس میں بلاول زرداری نے اُنہیں”سلیکٹڈ وزیرِاعظم” کہہ کر مبارک باد دی جس پر عمران خاں نے خوب تالیاں ہیٹیں۔ لیکن جب عمران خاں کو پتہ چلا کہ اُن کے ساتھ “ہَتھ” ہوگیا ہے تو اُنہوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی سے لفظ “سلیکٹڈ” حذف کروا دیا۔

یہ تو ہم بتانا بھول ہی گئے کہ آجکل عمران خاں اُسی جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں جس نے اُن کے اقتدار کی راہیں ہموار کیں۔ وجہ یہ کہ جنرل باجوہ ریٹائر ہونے کے بعد اُن کے کسی کام کے نہیں رہے۔ اب وہ نئے آرمی چیف حافظ سیّد عاصم منیر پر “کُنڈی” ڈالنے کی تگ ودَو میں ہیں۔ اُن کا تازہ بیان ہے “میں آرمی چیف سے بات کرنے کو تیار ہوں، اب کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تو میں کیا کروں؟ ایسا لگتا ہے آرمی چیف مجھے اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں”۔

ہمارا حسنِ ظَن ہے کہ موجودہ آرمی چیف ہر اُس شخص کے دشمن ہیں جس پر کرپشن کا الزام ہواور عمران خاں کا تو پورا دامن ہی کرپشن کے چھینٹوں سے اَٹا پڑا ہے۔ ہمارا اُنہیں مشورہ ہے کہ وہ عدالتوں میں جا کر اپنی پاک دامنی کے ثبوت پیش کریں پھر یقیناََ چیف صاحب اُنہیں گلے لگا لیں گے لیکن اگر وہ اپنی ٹوٹی ٹانگ کا بہانہ گھڑ کے عدالتوں سے راہِ فرار اختیار کرتے رہیں گے تو پھر اُن پر کون اعتبار کرے گا۔ ویسے وہ خوب جانتے ہیں کہ عدلیہ اُن کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے لیکن شاید وہ سوچتے ہوں گے کہ اگر اِسی عدلیہ میں سے کوئی “مردِ قلندر” نکل آیا تو پھر۔۔ “تُو تو گیا”۔

بات چلی عدل کے اونچے ایوانوں سے لیکن راہ میں اسٹیبلشمنٹ روڑے اٹکانے لگی۔ ویسے بھی ہم عدلیہ سے تھوڑے تھوڑے خوفزدہ ہیں کہ اگر مُنہ زور قلم نے معزز عدلیہ کے بارے میں کوئی جملہ اِدھر اُدھر کر دیا جو طبع نازک پر گراں گزرا تو توہینِ عدالت “وَٹ پہ” پڑی ہے۔ ڈرتے ڈرتے عرض ہے کہ اعلیٰ ترین عدالت کا نوازشریف کے خلاف 2017 کا فیصلہ آج بھی تاریخِ عدل کا متنازع ترین فیصلہ ہے۔ اِس فیصلے میں پاناما سے اقامہ نکال کر تین بار منتخب ہونے والے جمہوری وزیرِاعظم کو تاحیات نااہل کر دیا گیا۔

یہ بھی تاریخِ عدل کا انوکھا فیصلہ ہی کہلائے گا کہ میاں نوازشریف کے خلاف قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹی پر سپریم کورٹ کے اُسی بنچ کے ایک رُکن جج کو نگران مقرر کر دیا گیاجس نے میاں صاحب کو تاحیات نااہل کیا تھا۔ اب یہ کھُل کر سامنے آگیا ہے کہ پراجیکٹ عمران خاں کی تکمیل کے لیے میاں نوازشریف کو نااہل قرار دینا ضروری تھا۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ویڈیو بیان دیا کہ اُس نے میاں صاحب کے خلاف دباو میں آکر فیصلہ دیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی جاوید چودھری کو انٹرویو دیتے ہوئے اقرار کر چکے کہ پراجیکٹ عمران خاں اُن کی ایسی غلطی تھی جس کے تحت پہلے میاں صاحب کو نااہل کروایا گیا اور پھر بیلنس کرنے کے لیے جہانگیر ترین کو بھی تاحیات نااہل کروایا گیا۔

فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے کیس میں معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ نے فرمایا کہ تاحیات نااہلی ظالمانہ ہے۔ اُسی بنچ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کو صرف ایک ٹرم تک محدود کر دیا۔ حیرت ہے کہ ایک ہی جیسے الزام میں مختلف سزائیں کیوں؟

جب اسٹیبلشمنٹ کو یقین ہوگیا کہ پراجیکٹ عمران خاں اُس کی غلطی تھی تو اُس نے “نیوٹرل” ہونے کا فیصلہ کیا لیکن اُس وقت تک پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا، معیشت برباد ہوچکی تھی، پاکستان بین الاقوامی تعلقات میں تنہا ہوچکا تھا اور ساڑھے تین سالوں میں پاکستان کے کُل قرضے کے 76 فیصد کے برابر قرضہ لیا جا چکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عدل کے اونچے ایوانوں کا تقریباََ ہر فیصلہ عمران خاں کے حق میں آتا رہا۔

تحریکِ انصاف کے ہر کیس کے لیے انتہائی محترم اعلیٰ عدلیہ کے ہم خیال ججز کا مخصوص بنچ تشکیل دیا جاتا رہا جس کا ہر فیصلہ تحریکِ انصاف کے حق میں آتا رہا۔ یہ پریکٹس آج بھی جاری ہے اور اب بنچ کی تشکیل کے ساتھ ہی پتہ چل جاتا ہے کہ فیصلہ کیا آئے گا۔ تازہ ترین مثال پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دینے کی ہے جس پر معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے 9 رکنی بنچ تشکیل دیا لیکن پہلے ہی روز محترم جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی پر اعتراض اُٹھا دیا گیا۔

اگلے روز اُن 2 معزز ججز صاحبان نے بنچ سے علیحدگی اختیار کر لی جبکہ دیگر 2 ججز، محترم اطہرمِن اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو بنچ سے علیحدہ کر کے 5 رُکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا۔ اِس بنچ کی تشکیل کے ساتھ ہی ہر کہ ومہ کو پتہ چل گیا کہ فیصلہ کیا آئے گا۔ توقع کے عین مطابق 3 جسٹس صاحبان نے انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم دیا جبکہ 2 جسٹس صاحبان نے اِس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ (علیحدہ کیے جانے واکے ججز) جسٹس اطہرمِن اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے فیصلے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ اُنہوں نے لکھا کہ درحقیقت یہ اَزخود نوٹس بنتا ہی نہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اب یہ تو وکلاءہی بتا سکتے ہیں کہ فیصلہ 3 کی اکثریت سے حق میں آیا یا 4 کی اکثریت سے مخالفت میں۔ بہرحال ایسے فیصلوں سے عدلیہ کی توقیر پر حرف تو آتا ہے۔

Facebook Comments

پروفیسر رفعت مظہر
" پروفیسر رفعت مظہر کالمسٹ “روز نامہ نئی بات قطر کے پاکستان ایجوکیشن سنٹر (کالج سیکشن)میں ملازمت کی آفر ملی تو ہم بے وطن ہو گئے۔ وطن لوٹے تو گورنمنٹ لیکچرار شپ جوائن کر لی۔ میاں بھی ایجوکیشن سے وابستہ تھے ۔ ان کی کبھی کسی پرنسپل سے بنی نہیں ۔ اس لئے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزاری ۔ مری ، کہوٹہ سے پروفیسری کا سفر شروع کیا اور پھر گوجر خان سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے ۔ لیکن “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں“ لایور کے تقریباََ تمام معروف کالجز میں پڑھانے کا موقع ملا ۔ زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں گزرا۔ درس و تدریس کے ساتھ کالم نویسی کا سلسلہ بھی مختلف اخبارات میں جاری ہے۔ . درس و تدریس تو فرضِ منصبی تھا لیکن لکھنے لکھانے کا جنون ہم نے زمانہ طالب علمی سے ہی پال رکھا تھا ۔ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ پرہیز کیا لیکن شادی کے بعد میاں کی گھُٹی میں پڑی سیاست کا کچھ کچھ اثر قبول کرتے ہوئے “روزنامہ انصاف“ میں ریگولر کالم نگاری شروع کی اور آجکل “روزنامہ نئی بات“ میں ریگولر دو کالم “قلم درازیاں“ بروز “بدھ “ اور “اتوار“ چھپتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply