ملاقات سو لفظوں کی کہانی سے

تحریر: رضا شاہ جیلانی

سب سے پہلے پندرہ لفظوں کی ناکام سی کوشش کیساتھ ایک کہانی لکھنے کی جسارت کی ہے جس میں " سو لفظوں کی کہانی " کے مبشر علی زیدی صاحب کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا.
عرض کیا ہے ….!!
" گزشتہ روز رابعہ انعم کے دفتر میں سو لفظوں کی کہانی کو قریب سے سمجھا "
مبشر بھائی بہت خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں یہ میں انکی تعریف نہیں کر رہا اور نہ ہی مجھے کبھی تعریف کرنا آئی. کچھ روز قبل کراچی آنا ہوا تو مبشر بھائی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بڑے ہی پیار اور اپنائیت سے دفتر پہنچنے کا حکم صادر کیا اور ہم بھی سیدھے کورٹ سے ہوتے ہوئے انکے دفتر جیو نیوز پہنچ گئے.
جہاں انکے ساتھ باہمی امور کی دلچسپی پر دو طرفہ تبادلہ خیال ہوا جس میں آجکل عالمی سطح پر زیرِ بحث رہنے والے موضوع " پڑوسن کے مرغے " کے حقوق کے لیے مستقبل میں بھی آواز بلند رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی تمام ملکی و غیر ملکی موضوعات بشمول ایک عدد کنوارے وکیل کی شادی بھی انتہائی غور طلب رہی.
بات چیت کے دوران اس وقت بڑی حیرت ہوئی جب مبشر بھائی نے مجھے اس ایک خاص نام سے پکارا جس سے صرف میرے گھر کے افراد اور چند قریبی دوست ہی واقف ہیں تو یقین جانیئے اس وقت شدید حیرانگی کیساتھ خوش بھی ہوا.
اس خوبصورت سی ملاقات کے آخر میں مبشر بھائی کی جانب سے انکی ایک خوبصورت کتاب " شکر پارے " کا خوبصورت تحفہ ملا جسے میں نے بخدا اپنی آنکھوں سے لگا لیا.
اس کتاب کے شروعات میں جو معلومات " کہانیوں کی کہانی " کے نام سے مصنف کی جانب سے تحریر کردہ ہے مجھے نہیں لگتا کہ ایسی معلومات میری نظر سے آج تک کبھی گزری ہوگی.
میں یہ وثوق سے کہتا ہوں کہ اس کتاب کی شروعات کے اوّلین تین صفحات کو پڑھنے اور اسے سمجھنے کے بعد آپ کسی بھی جگہ Short story کے بابت ایک گھنٹہ لیکچر دیکر سامعین پر اپنی ٹھیک ٹھاک دھاک بٹھا سکتے ہیں.
مبشر بھائی نے اس کتاب کے اندر " برطانیہ کے مونٹی پائی تھون سے لیکر فکشن اور پھر فلیش فکشن و مائیکرو فکش" کی مختصر تعریف اور تاریخ کو جیسے ایک کوزے میں بند کر دیا ہے.
مختصر یہ کہ کتاب میں جہاں مختصر لکھی جانے والی کہانیوں کی تاریخ کا زکر ہے وہیں نئے پڑھنے والوں کے لیے انکی اقسام بھی ترتیب سے بتائی گئی ہیں.
میں کل سے اس کتاب " شکر پارے " کو پڑھ رہا ہوں اور کئی کہانیاں پڑھ چکا ہوں مگر پڑھی ہوئی کہانیوں کو دوبارہ سے پڑھنے میں جو لطف آرہا ہے وہ احساس کافی الگ سا ہے جو بیان سے باہر ہے.
کتاب کی شروعات احساس سے لپٹی دو کہانیوں سے ہے جن کا بیان بھی لفظوں میں نہیں صرف احساسات کی زبان میں ہی ہو سکتا ہے.
اس کتاب میں کئی ایسی کہانیاں ہیں جسے پڑھ کر پڑھنے والے کو فوراً لگے گا کہ " کہیں یہ میری کہانی تو نہیں "
جی ہاں بلکل یہ ساری کہانیاں ہماری ہی کہانیاں ہیں جنہیں پڑھ کر انگنت بھولی ہوئی یادیں ایک لمحے کو سامنے آجاتی ہیں.
مبشر بھائی کی اس کتاب " شکر پارے " میں موجود ہر کہانی کی اپنی اپنی اہمیت ہے مگر ایک کہانی تو ایسی ہے جس کے بعد زرا دیر کو کتاب بند کر کے آنکھیں موندے کچھ بھولے بسرے سے لوگ یاد آنے لگتے ہیں کہ خدا جانے وہ اب کہاں ہوں گے کیسے ہوں گے کس حال میں ہوں گے اور کس کیساتھ ہوں گے.
ایک کہانی جس کا عنوان " جنم جنم کہانی " ہے کیا ہی لاجواب ہے اور اس ہی صفحے کے آگے ایک کہانی ہے جسکا عنوان " click " ہے.
یہ کلِِک صرف کہانی نہیں بلکہ کئی لوگوں کی سچائی ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ سچائی کبھی میری بھی کہانی رہی ہو.
مجھے اپنی کم علمی پر آج افسوس ہو رہا ہے کہ کاش میں اتنا قابل ہوتا تو آج ہر کہانی کی تعریف میں کچھ نہ کچھ لکھتا.
مگر وہ کہانی جس کا نام " ردّی " ہے اس پر لکھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے….
یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور امید ہے کہ اسے میرے دوست اپنے پلے سے خرید کر ضرور پڑھیں گے.
آخر میں ایک بات کہوں گا.
مبشر علی زیدی سو لفظوں کی کہانی میں افسانہ لکھتے ہیں اور یہ بات وہ ہی سمجھ سکتا ہے جو افسانہ لکھتا ہے یا مبشر علی زیدی کو پڑھتا ہے.
سو لفظوں میں افسانہ/ کہانی لکھنا بہت بڑا کام ہے اور یہ کام کرنا ہر ادیب ہر مصنف کے بس کی بات نہیں.

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *