دریائے گنگا پرچینی ڈیم کی تعمیر ؛ بھارت میں بے چینی

انڈیا کے ساتھ سرحد کے قریب دریائے گنگا کی شاخ پر چین ایک نیا ڈیم تعمیر کر رہا ہے جس سے زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔

ڈیم کی تعمیر کا انکشاف سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے ایسے وقت پر ہوا ہے جب کچھ عرصہ پہلے ہی چین نے انڈیا کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب ’سپر‘ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

تازہ ترین سیٹلائٹ امیجز سے معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ زیر تعمیر ڈیم 350 سے 400 میٹر طویل ہے اور اس کی تعمیر کا کام فی الحال جاری ہے۔

ویب سائٹ انٹیل لیب سے وابستہ انٹیلی جنس ریسرچر ڈیمیئن سائمن نے سیٹلائٹ امیج ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس کے قریب ایک ایئر پورٹ بھی بنایا جا رہا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق اس تمام معاملے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیم اس مقام پر تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں چین، انڈیا اور نیپال کی سرحدیں ملتی ہیں اور اس کے سامنے انڈین ریاست اتراکھنڈ کا علاقہ کالا پانی واقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ڈیم کے ذریعے مابجا زانگو دریا کا بہاؤ تبدیل یا محدود بھی کیا جا سکے گا، جبکہ پانی محفوظ کرنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے جو کسی بھی وقت زیریں علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کرنے کے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

مابجا زانگو دریا نیپال سے گزرتے ہوئے انڈیا میں داخل ہوتے ہی دریائے گنگا سے جا کر ملتا ہے۔

خیال رہے کہ چین کہ طرف سے ’سپر‘ ڈیم لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب تبت میں واقع یارلنگ زانگبو دریا پر تعمیر کیا جائے گا۔

یارلنگ زانگبو دریا انڈین ریاست اروناچل پردیش میں دریائے سیانگ جبکہ ریاست آسام میں دریائے برہم پتر میں شامل ہوتا ہے۔حالیہ چند سالوں میں چین یارلنگ زانگبو دریا پر کئی چھوٹے ڈیم تعمیر کر چکا ہے جس سے انڈیا میں دریائے برہم پتر کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

نومبر 2020 میں چین کے میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ دریائے یارلنگ زانگبو پر سپر ڈیم کی تعمیر کا مقصد صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply