آواتار/محمود اصغر چوہدری

جیمز کیمرون اس بار اپنا جادو نہیں جگا سکا ۔ آواتار کا سیکوئیل کہانی کے معاملے میں پہلی آوتار کے ہم پلہ بالکل نہیں ہے ۔ سینما کی تاریخ میں باکس آفس پر بزنس کرنے والی تین میں سے دو فلمیں جمیز کیمرون کی ہیں ۔ ٹائی ٹانک نے 2.2بلین ڈالر کا بزنس کیا تھا اور اس کے بعد 2010ءمیں ریلیز ہونے والی آواتار نے 2.9بلین ڈالر کا بزنس کیا تھا جس کا ریکارڈ آج تک کوئی فلم نہیں توڑ سکی ۔ شایدیہی سوچ کر جیمز کیمرون نے ا س آواتار کا دوسرا حصہ بنانے اور اس کی مارکیٹنگ میں ہی دو بلین ڈالر لگا دئیے ہیں یعنی اگر اس فلم نے ہٹ ہونا ہے تو اسے 2بلین ڈالر کی کمائی سے تو اوپر ہی جانا ہوگا ۔ فلم دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ایک سین میں کئی کئی مہینوں کی محنت درکار رہی ہوگی ۔ اسی لئے تو اس فلم کو بننے میں بارہ سال لگ گئے ۔

لیکن ٹائی ٹینک اور آواتار کے ہٹ ہونے میں زیادہ کردار اس کا موضوع ، سکرپٹ اور ڈائیلاگ تھے ان کا ایک ایک سین انسانی جذبات کے تار چھیڑنے والا تھا ۔ جیسے ٹائی ٹینک کے وہ سین تاریخ بن گئے جس میں آگ لگے بحری جہاز میں موسیقار اس وقت بھی اپنے فرض پر کھڑے ہوگئے تھے جب جہاز ڈوب رہا تھا ۔سیکورٹی آفیسر نے خود کو گولی مار لی تھی کہ اسے مجبوراً ہجوم کو قابو کرنے کیلئے گولی چلانی پڑتی ہے اور ایک موت ہوجاتی ہے ۔ جہاز کا کیپٹن سارے مسافروں کو جہاز سے نیچے اتارتا ہے اور خو د آخری وقت تک جہاز میں رہتا ہے اور جب اس کا جہاز تباہ ہونے لگتا ہے تو وہ اس کا اسٹیرنگ پکڑ لیتا ہے ۔ لیکن جہاز کونہیں چھوڑتا۔

اسی طرح پہلی آواتار فلم کا پلاٹ بہت کمال کا تھا کہ دولت کی لالچ میں انسان کسی دوسرے سیارے پنڈورا پر پہنچ جاتا ہے ۔ مقامی باشندوں میں اپنا جاسوس بھیجتا ہے ۔ ان کے درختوں اور جنگلوں کواجاڑ دینا چاہتا ہے ۔ جاسوس ان معصوم باشندوں کی معصومیت اور نیچر سے محبت سے متاثر ہو کر ان سے مل جاتا ہے اور سامراج کے خواہشمندوں سے جنگ کر تا ہے ۔اس فلم میں مذہب کو بڑے اچھے انداز میں پیش کیا گیا تھا کہ کیسے انسانی خوشی روحانیت میں پوشیدہ ہے ۔

لیکن اس آواتار ٹو کو خالی ایک بدلے کی فلم بنا کر پیش کیا ہے جس کے لئے کسی پینڈورا جیسے سیارے پر جانے کی ضرورت نہیں تھی ۔بلاشبہ اس آواتار میں جیمز نے یہ دکھانے کی کوشش تو کی ہے کہ اس ماحول اور کائنات کا سب سے بڑا دشمن انسان ہی ہے جو نباتات اور حیوانات کی تباہی کا ذمہ دار ہے اور دولت کی ہوس میں اس زمین کو تو تباہ کر ہی چکا ہے اور اب دوسرے سیاروں میں جا کر بھی اپنا گند پھیلانا چاہتا ہے ۔ اب ساری کائنات کو اپنی دولت کی ہوس میں تاراج کرنا چاہتا ہے ۔پچھلی فلم میں اس نے نباتات اور حیوانات سے محبت کا درس دیا تھا اس فلم میں سمندری مخلوق اور مچھلیوں سے محبت سکھانے کی کوشش کی ہے دوسری جانب فیملی کی اہمیت بھی اجاگر کی ہے۔ قبائل کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور خلوص کے رشتے میں جڑجانے کی تعلیم دی ہے ۔ محبت اور جذبات کو چھیڑنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن ٹائی ٹینک اور آواتار میں چھیڑے گئے جذبات کے تار اس فلم میں نہیں چھیڑے جا سکے ۔ ایک ایک سین پر آنکھیں نمناک کر دینے والا کوئی سین نہیں ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

لیکن اس سب کے باوجود اگر آپ بچوں کو ایک اچھی تفریح فراہم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ فلم ضرور دکھائیں آپ کو اپنے خرچے ہوئے ٹکٹ کی قیمت پر کوئی افسوس نہیں ہوگا ۔ اور اس کی پوری پوری قیمت وصول ہوگی ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply