• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • برطانیہ میں مہنگائی کے کرسمس پر اثرات/فرزانہ افضل

برطانیہ میں مہنگائی کے کرسمس پر اثرات/فرزانہ افضل

گزشتہ دو سال کے بعد یہ پہلی کرسمس ہے جس میں کورونا کے حوالے سے کسی قسم کی پابندلاگو نہیں ہے۔ برطانیہ میں آج کل شدید سردی اور برف باری کا زور ہے۔ درجہ حرارت منفی 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔ برف کی وجہ سے نقل و حرکت میں تو رکاوٹیں آ ہی رہی ہیں  مگر ریلوے کی ہڑتال نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ نرسنگ، پوسٹل اور ایمبولینس سٹاف بھی ہڑتال پر ڈٹ گئے ہیں تاکہ حکومت سے اپنے مطالبات منوائے جا سکیں ،خصوصاً جب کرسمس کی تیاریاں عروج پر ہیں اور کرسمس میں محض چند روز باقی رہ گئے ہیں۔ عموماً ان آخری دنوں میں لوگ تحفے تحائف اور کرسمس کی شاپنگ میں خوب پُرجوش اور مصروف ہوتے ہیں ۔ کرسمس پارٹیاں بھی دسمبر کے اوائل سے ہی شروع ہو جاتی ہیں ، مگر کیا مہنگائی اور توانائی کے بحران کی وجہ سے اس سال کرسمس 2022 پر بھی خریدو فروخت اس سطح پر ہوگی۔

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ بریگزٹ کا نتیجہ ہے۔ جبکہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ برطانیہ میں نا صرف مہنگائی کا بڑا عنصر بنی بلکہ توانائی کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا سبب بھی ثابت ہوئی۔ جہاں برطانیہ بھر کے بہت سے صارفین دسمبر کے مہینے کے ذیلی صفر درجہ حرارت سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کو گرم رکھنے میں ناکام ہیں، تو کہیں  آسمان کو چھوتے  بجلی اور گیس کے بلوں کو پورا کرنا ہر گھرانے کے بس میں  نہیں ہے۔ اس کے لیے توانائی کی کمپنیاں صارفین کو بجلی اور گیس بچانے اور استعمال کرنے کی چند تجاویز بھی دے رہی ہیں۔

گذشتہ دو برس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے صارفین کے خریداری کے رویے میں بھی تبدیلی آئی تھی اور مہنگائی کی وجہ سے قوت خرید بھی متاثر ہوئی ہے ۔اس کی وجہ سے ریٹیل سیکٹر کے لیے مشکلات ہوئیں۔ اس سال کی کرسمس پر حالات کے نارمل ہونے کی توقع تھی جو مہنگائی ، شرح سود میں اضافے اور کساد بازاری کے خطرات کی نذر ہوگئی ۔ جہاں بڑے گروسری اسٹورز پر فوڈ سپلائی کی فراہمی پوری رکھنے کا پریشر ہے وہاں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اسٹور میں ہیٹنگ اور کرسمس ڈیکوریشن کی لائٹنگ کے بھاری بھرکم بل بھی متوقع ہیں۔ جس کی وجہ سے جان لوئیس اور ویٹ روز نے اس بار ڈیکوریشن اور ہیٹنگ میں کمی رکھی ہے تاکہ بجلی اور گیس بچائی  جا سکے۔

ایک سروے کے مطابق برطانیہ کے 46 فیصد صارفین کا کہنا ہے اس تہوار کے موقع پر وہ کم خریداری کریں گے آفس آف نیشنل سٹیٹسٹکس( او این ایس ) یعنی قومی ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی صرف بڑی اشیا پر ہی نہیں بلکہ چھوٹی  اور معمولی اشیاء پر بھی ہوئی ہے جیسا کہ ایک مردانہ جرابوں کے جوڑے پر گزشتہ برس سے نو فیصد کا اضافہ ہوا ہے پرفیوم کی قیمت میں اوسطاً سات فیصد ، مردانہ جرسی میں تین فیصد اور لیڈیز جرسی کی قیمت میں نو فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ چند قسم کے تحائف مثلاً کتابوں اور ناول کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔ الیکٹرانک اشیاء اور گیمز کنسول اور سمارٹ فونز کی قیمتیں بھی قدرے گر گئی ہیں۔ اس سال کرسمس پر لوگ سوچ سمجھ کر خریداری کر رہے ہیں۔ ایک تہائی صارفین نے کہا کہ وہ پچھلے برس کی نسبت سستے تحائف خریدیں گے اور کھانے پر بھی کم خرچہ کریں گے ، گروسری کے سستے آئٹم خریدیں گے۔ کچھ افراد نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اس سال ٹکٹ والے کرسمس شو اور تقریبات میں پہلے کی نسبت کم شرکت کریں گے ، جبکہ کچھ نے یہ بھی کہا کہ وہ سیکنڈ ہینڈ تحائف خریدیں گے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں گراں قدر اضافے سے کرسمس کے موقع پر رشتہ داروں کو ملنے کے لئے دور دراز کا سفر بھی خرچے میں اضافے کا باعث ہے۔

کرسمس کی روایت یہ ہے کہ پورے ماہ کا کھانا کرسمس کے دن ہی کھا لیا جائے مگر اس بار ایسا کرنا بہت سے خاندانوں کے لیے مشکل ہوگا۔ اس بات کا انحصار ان کی جیب پر ہے کہ وہ کرسمس ڈنر کے مینو میں کتنی ڈشز رکھتے ہیں۔ ایک روایتی کرسمس ڈنر کا خرچہ گزشتہ برس سے تنخواہوں کی نسبت تین گنا بڑھ چکا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

تازہ ترین خبر کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 0.40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو گزشتہ ماہ نومبر 2022 میں 11.1 فیصد تھی اور اب دسمبر 2022 میں کم ہو کر10.7 فیصد ہو گئی ہے ۔ مگر یہ کوئی ایسی بڑی تبدیلی نہیں ہے جس کے معیشت پر فوری طور پر مثبت اثرات نظر آئیں۔ معیشت کو نارمل کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہوگا۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply